Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد و سکندرآباد کے غیر مسلمہ اسکولس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا منصوبہ

حیدرآباد و سکندرآباد کے غیر مسلمہ اسکولس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا منصوبہ

ڈسٹرکٹ کلکٹر حیدرآباد کا تعلیمات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس ، نوٹس جاری کرنے کی ہدایت

ڈسٹرکٹ کلکٹر حیدرآباد کا تعلیمات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس ، نوٹس جاری کرنے کی ہدایت
حیدرآباد ۔11 ۔مئی (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد اور سکندرآباد کے مختلف علاقوں میں چلائے جانے والے غیر مسلمہ خانگی اسکولوں کے خلاف ضلع انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانہ پر کارروائی کا آغاز کیا جانے والا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب ضلع انتظامیہ کی جانب سے شہر میں موجود تمام غیر مسلمہ اسکولوں کو فوری طور پر مقفل کرتے ہوئے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کو قریبی مسلمہ اسکولوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں ضلع کلکٹر حیدرآباد نے اس سلسلہ میں ضلع حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محکمہ تعلیمات کے عہدیداروں اور متعلقہ ذمہ داروں سے بات چیت کرتے ہوئے غیر مسلمہ اسکولوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے متعلق تفصیلات حاصل کی۔ اس اجلاس کے دوران انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر دونوں شہروں کے مختلف منڈلس میں موجود تمام غیر مسلمہ اسکولس کے خلاف تیز رفتار کارروائی کو یقینی بنائیں تاکہ گرمائی تعطیلات کے بعد اسکولوں کی کشادگی سے قبل غیر مسلمہ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کیلئے متبادل انتظامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ حیدرآباد میں گزشتہ دو برسوں میں ضلع انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر کی جانب سے غیر مسلمہ اسکولس کو نوٹسیں جاری کی جارہی تھیں اور سرکاری طور پر جاری کردہ ان نوٹسوں پر غیر مسلمہ اسکولوں کے ذمہ داران نے حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے راحت حاصل کی تھی۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے اس بات کا تیقن دیا تھا کہ غیر مسلمہ اسکولوں کی مسلمہ حیثیت کے لئے رعایت دی جائے گی لیکن تاحال تیقن پر عمل آوری نہ ہوسکی جس کے سبب محکمہ تعلیم و ضلع انتظامیہ کے عہدیدار ایک مرتبہ پھر غیر مسلمہ اسکولوں کو مہربند کرنے کے سلسلہ میں سرگرم ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے اندرون دو یوم غیر مسلمہ اسکولوں کے ذمہ داروں کو مختصر مدتی قطعی نوٹس جاری کی جائے گی جس کا جواب ارسال نہ کرنے کی صورت میں اسکولوں کو بند کرنے کے احکام جاری کردیئے جائیں گے ۔ واضح رہے کہ سال گزشتہ بھی ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر کی جانب سے غیر مسلمہ اسکولوں میں داخلے دلوانے کے خلاف انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب دونوں شہروں میں زائد از 100 غیر مسلمہ اسکولس چلائے جارہے ہیں اور ان میں بعض اسکولوں میں طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے بہتر انداز میں چلائے جانے والے غیر مسلمہ اسکولس کے ذمہ داروں کو درخواست کے ادخال کے ذریعہ مسلمہ حیثیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا تاکہ اسکول کو مقفل کرنے کے بجائے قانونی اعتبار سے مسلمہ حیثیت فراہم کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT