Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد پر بی جے پی کی نظر

حیدرآباد پر بی جے پی کی نظر

گورنر کو اختیارات منظم سازش، تلنگانہ کانگریس قائدین کا بیان

گورنر کو اختیارات منظم سازش، تلنگانہ کانگریس قائدین کا بیان
حیدرآباد /12 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ کے تین سابق ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت پر غیر ضروری حیدرآباد کے معاملے میں مداخلت اور گورنر کو زائد اختیارات فراہم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ بی جے پی کی نظر حیدرآباد پر ہے اور اپنی سیاست کو طاقتور بنانے کے لئے ایک منظم سازش کے تحت مرکزی حکومت حیدرآباد کا نظم و ضبط گورنر کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے تقسیم ریاست کے بل میں گورنر کو کابینہ کے فیصلوں پر عمل کرنے کی گنجائش فراہم کی تھی، تاہم مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو اور چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو ساز باز کرکے حیدرآباد کو گورنر کے کنٹرول میں دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ تلنگانہ کے تلگودیشم قائدین چندرا بابو نائیڈو کی جی حضوری کر رہے ہیں، جب کہ تلنگانہ کے بی جے پی قائدین وینکیا نائیڈو کی غلامی میں مبتلا ہیں اور انھیں حیدرآباد کی بی جے پی آفس میں پریس کانفرنس کی اجازت دے کر تلنگانہ عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں، جس کے سب سے بڑے ذمہ دار تلنگانہ بی جے پی کے صدر جی کشن ریڈی ہیں۔ اسی دوران جی ویویک نے کہا کہ تلنگانہ بل میں دیئے گئے اختیارات پر عمل آوری کی بجائے مرکزی حکومت اس میں ترمیم کرکے گورنر کے اختیارات میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے، جس کے لئے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ بھی ذمہ دار ہیں، کیونکہ وہ متنازعہ بیانات جاری کرتے ہوئے گورنر کے اختیارات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ٹی آر ایس کے انتخابی منشور میں کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کی بجائے غیر ضروری متنازعہ ریمارکس کے ذریعہ اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دریں اثناء مسٹر راجیا نے چیف منسٹر تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ دلتوں کو فوراً تین ایکڑ اراضی اور عوام کو مکانات فراہم کرنے کے وعدوں کی تکمیل کریں۔

TOPPOPULARRECENT