Thursday , December 13 2018

حیدرآباد ڈی این اے فنگر پرنٹ کا مرکز

مدد کرنے سی ڈی ایف ڈی حیدرآباد سے افغانستان کی درخواست
مالدیپ اور ایتھوپیا کی بھی التجاء ، ڈی این اے فنگر پرنٹنگ ٹکنالوجی کے لیے قلی کے شہر پر دنیا کی نظریں
افغانستان ایک تباہ شدہ اور گڑبڑ زدہ ملک ہے جہاں امریکہ کی حمایتی افغان حکومت کی فورسیس اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے ۔ طالبان کے خود کشی حملوں میں ہر روز بے شمار افغان سپاہی اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ افغان سیاستداں مارے جاتے ہیں ۔ بم دھماکوں میں تو انسانی نعشوں کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے ۔ اندازاً 16 برسوں سے امریکی و اتحادی فورسیس کے زیر قبضہ اس ملک میں اگرچہ ایک حکومت ہے لیکن اقتدار کے پاس نہ رہتے ہوئے بھی طالبان کا افغانستان کے بیشتر صوبوں میں کنٹرول ہے ۔ حالیہ عرصہ کے دوران قندوز کے ایک دینی مدرسہ پر فضائی حملہ میں 150 سے زائد افراد بشمول 100 حفاظ اور علماء کی شہادت کے بعد افغانستان میں امریکہ اور اس کی حامی اشرف غنی حکومت پر شدید تنقیدیں ہورہے ہیں ۔ فی الوقت وہ حکومت نشان ملامت بنی ہوئی ہے ۔ چونکہ افغانستان میں بم دھماکوں کے بعد انسانوں کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں یا نعشیں جل کر خاکستر ہوجاتی ہیں ۔ ایسے میں ان کی ڈی این اے ٹسٹ کے ذریعہ شناخت ضروری ہوجاتی ہے ۔ اس طرح کی سہولتیں افغانستان میں نہیں ہیں ۔ چنانچہ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ حکومت افغانستان نے اس سلسلہ میں حیدرآباد کے سنٹر فار ڈی این اے فنگر پرنٹ اینڈ ڈائگناسٹکس ( سی ڈی ایف ڈی ) سے مدد طلب کی ہے ۔ حکومت افغانستان چاہتی ہے کہ سی ڈی ایف ڈی افغانستان میں نہ صرف لیاب قائم کرے بلکہ افغان باشندوں کو ڈی این اے فنگر پرنٹ ٹکنالوجی کی تربیت بھی فراہم کرے لیکن یہاں ایک بات ضروری ہے کہ سی ڈی ایف ڈی راست حکومت افغانستان سے معاہدہ نہیں کرسکتی بلکہ اس کے لیے مرکزی حکومت سے منظوری حاصل کرنی پڑتی ہے ۔ ایسی ہی درخواست مالدیپ اور ایتھوپیا جیسے ملکوں نے بھی دے رکھی ہے اور سنٹر فار ڈین اے فنگر پرنٹنگ اینڈ ڈیاگناسٹک مرکزی حکومت سے منظوری کا انتظار کررہا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ فضائی حادثات ، خود کش بمبار کی جانب سے کئے جانے والے خود کشی حملوں اور آتشزنی کے واقعات میں نعشیں جل کر خاکستر ہوجاتی ہیں اور ڈی این اے ٹسٹ کے بغیر ان کی شناخت مشکل ہوجاتی ہے ۔ اس کے علاوہ مادریت و پدریت سے متعلق پیدا شدہ تنازعات کے حل میں بھی ڈی این اے ٹسٹ اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ ہاسپٹلوں میں نومولودوں کے بدل جانے ، بچوں کے گم ہوجانے اور کافی عرصہ بعد ان کی ارکان خاندان سے ملاقات کے موقع پر بھی ڈی این اے ٹسٹ ضروری ہوتا ہے ۔ سی ڈی ایف ڈی کی جانب سے دوسرے ملکوں کے عہدہ داروں کو تربیت کی فراہمی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ اس نے بنگلہ دیش کے عہدہ داروں کو تربیت فراہم کی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ عراق میں 39 ہندوستانی ورکروں کے آئی ایس آئی ایس کی جانب سے اغواء اور پھر ان کے قتل کے بعد باقیات کا پتہ چلا ، ان باقیات کے ڈی این اے ٹسٹ بھی سی ڈی ایف ڈی کی مدد سے کئے گئے ۔ عراقی حکام کو حیدرآباد کے اس مرکز نے ڈی این اے ٹسٹوں کی کٹس فراہم کی تھی ۔ بدنام زمانہ سیاہ ہرن شکار کیس میں بھی سی ڈی ایف ڈی کی رپورٹ کی بنیاد پر اداکار سلمان خاں کو خاطی پایا گیا اور اسے 5 سال سزائے قید سنائی گئی ۔ واضح رہے کہ قلی قطب شاہ کے قائم کردہ اس شہر کے سی ڈی ایف ڈی پر ساری دنیا کی نظریں ہیں ۔ سی ڈی ایف ڈی اور امریکہ کی فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن کے درمیان حال ہی میں ایک یادداشت مفاہمت طئے پائی ہے ۔ اس نے تلنگانہ ، آندھرا پردیش اور ملک کے دیگر حصوں میں پیش آئے بے شمار ٹریفک و فضائی حادثات میں مرنے والوں کی ڈی این اے ٹسٹوں کے ذریعہ شناخت میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT