Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد کا پرانا شہر بینکس اور اے ٹی ایم کی سہولتوں سے محروم

حیدرآباد کا پرانا شہر بینکس اور اے ٹی ایم کی سہولتوں سے محروم

منتخبہ نمائندے عوامی شکایتوں کے ازالہ میں ناکام ، شہریوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ
حیدرآباد۔16نومبر(سیاست نیوز) گاہک کسی بھی علاقہ یا خطہ سے تعلق رکھتا ہو وہ بینک کا گاہک ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ کسی بھی بینکر سے استفسار کی صورت میں یہ جواب مل جائے گا لیکن بینکوں کیلئے پرانے شہر کے صارفین کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنے یا گاہکوں کو ہونے والی تکالیف دور کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔پرانے شہر کے عوام کی یہ بد قسمتی ہی سمجھی جائے گی کہ ان کے علاقوں میں بند بینک اے ٹی ایم کھلوانے کی طاقت بھی ان کے منتخبہ نمائندوں میں نہیں ہے ۔پرانے شہر کے ساتھ حکومت ہی نہیں بلکہ بینکوں کا بھی سوتیلا سلوک ہوتا ہے اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ شکایات منظر عام پر آچکی ہیں لیکن اس بات کو نظر انداز کیا جاتا رہا اب جبکہ پورے ملک میں کرنسی کی قلت اور 1000و500کے نوٹوں کی تنسیخ کے باعث عوام میں شدید برہمی اور بینکوں و اے ٹی ایم مراکز کے باہر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں ایسے میں پرانے شہر کے اے ٹی ایم مراکز بند ہیں۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میںاے ٹی ایم مراکز خواہ وہ کسی بینک کے کیوں نہ ہوں وہ کھولے ہی نہیں جا رہے ہیں اور عوام بے بسی کے عالم میں ان کا مشاہدہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے ایک سابق بینک عہدیدار نے بتایا کہ پرانے شہر کے عوام کو برداشت کی عادت پڑ چکی ہے اور وہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرتے ہوئے بھی خاموش رہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

 

دونوں شہروں میں کسی بھی مقام پر اتنی بڑی تعداد میں اے ٹی ایم مراکز مقفل نہیں نظر آئیں گے جتنے اے ٹی ایم مراکز پرانے شہر میں بند دیکھے جا رہے ہیں۔ قومیائے ہوئے بینک ‘ خانگی ملٹی نیشنل بینک‘ شیڈولڈ بینک‘ کو آپریٹیو بینک سب کی یہی حالت ہے جبکہ پرانے شہر کے علاوہ دیگر علاقوں میں مشاہدہ کیا جائے تو حالات یکسر تبدیل نظر آئیں گے۔ نئے شہر میں بینک اے ٹی ایم کے روبرو طویل قطاریں نظر آرہی ہیں لیکن پرانے شہر میں اے ٹی ایم مراکز کے شٹر بند رکھے گئے ہیں۔ اے ٹی ایم کے ذریعہ رقم نکالنے کی سہولت کے اعلان کے بعد عوام نے کچھ حد تک راحت کی سانس لی تھی لیکن ایک یا دو دن کچھ رقومات پرانے شہر کے اے ٹی ایم سے جاری کی گئیں لیکن اس کے بعد سے یہ اے ٹی ایم بند پڑے ہیں۔ نئے شہر میں اے ٹی ایم تکنیکی خرابی کی بنیاد پر ہونے پر بھی فوری عملہ متحرک ہوتے ہوئے اے ٹی ایم کو کارکرد بنانے میں مصروف دیکھائی دے رہا ہے اس کے بر عکس پرانے شہر کے علاقوں حسینی علم‘ دارالشفاء ‘ کوٹلہ عالیجاہ‘ منڈی میر عالم‘ مغلپورہ‘ شاہ علی بنڈہ‘ خلوت‘ یاقوت پورہ‘ سنتوش نگر‘ ملک پیٹ‘ کالا پتھر‘مصری گنج‘ تاڑبن کے علاوہ دیگر علاقوں میں موجود اے ٹی ایم مراکز کھولے بھی نہیں گئے ہیں۔ان حالات میں پرانے شہر کے عوام کو بینکوں کے سامنے طویل قطار میں کھڑے ہونا پڑ رہا ہے۔ علاوہ ازیں عوام اس بات کا استفسار کر رہے ہیں کہ اگر اے ٹی ایم بند رکھے جا رہے ہیں توان اے ٹی ایم کے ذریعہ عوام تک پہنچائی جانے والی رقومات کہاں جا رہی ہیں؟

TOPPOPULARRECENT