حیدرآباد کو امریکی شہر ڈیلاس کی طرح ترقی دینے چیف منسٹر کا اعلان

85 لاکھ نفوس کی آبادی والے شہر کو عالمی درجہ دینے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم

85 لاکھ نفوس کی آبادی والے شہر کو عالمی درجہ دینے تک چین سے نہ بیٹھنے کا عزم
حیدرآباد۔/3فبروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حیدرآباد کو امریکہ کے ڈیلاس شہر کی طرح ترقی دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ حیدرآباد کو عالمی سطح کے معیار کا شہر بناکر ہی دم لیں گے۔ اس سلسلہ میں وہ منظم اور مبسوط نظریہ اور منصوبہ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے سکریٹریٹ کی منتقلی اور سرکاری عمارتوں اور اراضیات کی فروخت سے متعلق حکومت کے فیصلہ کی تائید کی اور کہا کہ شہر حیدرآباد کو ترقی دینے کیلئے اس طرح کے اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد شہر بظاہر ہائی ٹیک سٹی کی حیثیت سے مشہور ہے لیکن اس میں بنیادی سہولتوں کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد کو حکومت یا مجلس بلدیہ نہیں چلارہی ہے بلکہ قدرتی نظام سے شہر چل رہا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ شہر کی آبادی 85لاکھ ہے جبکہ روزانہ 15تا20لاکھ افراد شہر کا سفر کرتے ہیں اس طرح روزانہ ایک کروڑ افراد کی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے درکار سہولتیں شہر میں موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 10ہزار کی آبادی کیلئے ایک مارکٹ کی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ حیدرآباد میں صرف 24مارکٹس ہیں جبکہ ان کی تعداد 1000ہونی چاہیئے۔ بس شیلٹرس، دھوبی گھاٹ حتیٰ کہ قبرستان بھی موجود نہیں۔ ہائی ٹیک سٹی کے نام سے مشہور اس شہر میں بارش کے پانی کی نکاسی کا کوئی نظم نہیں۔ راج بھون، چیف منسٹر کیمپ آفس بیگم پیٹ، اسمبلی اور دیگر اہم علاقوں میں بارش کے ساتھ ہی سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ معمولی بارش نشیبی علاقوں میں عوام کیلئے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی آر ایس حکومت نے حیدرآباد کو حقیقی اسمارٹ اور ماڈل سٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی تنقیدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پر الزام ہے کہ وہ سکریٹریٹ کو فروخت کررہی ہے۔ کے سی آر نے ریمارک کیا کہ ہاں ہم ضرور فروخت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر اور دیگر اداروں میں موجود کھلی اراضیات کو حاصل کرتے ہوئے وہاں عوام کی ضرورت کے مطابق بس شیلٹرس اور دیگر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پنجہ گٹہ، ملک پیٹ، اور ایرم منزل کالونی میں اراضی کے حصول کے ذریعہ عصری مارکٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ چیف منسٹر نے گریٹر حیدرآباد مجلس بلدیہ کے انتخابات کے سلسلہ میں ہائی کورٹ کی سرزنش سے متعلق اخباری اطلاعات کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کے بعض گوشے ابھی بھی حکومت کی مخالفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ دراصل ہائی کورٹ کے حکم پر بلدی حلقوںکی از سر نو حد بندی کا کام جاری ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ بلدی حلقوں میں رائے دہندوں کی تعداد میں یکسانیت پیدا کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر کوئی شخص عدالت سے رجوع ہوا اور ہائی کورٹ نے حکومت سے بلدی انتخابات کی تاریخ کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے اسے سرزنش نہیں کہا جاسکتا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد کی ترقی کے علاوہ شہر کے غریب خاندانوں کو ان کے موجودہ مقامات پر پٹہ جات الاٹ کئے جائیں گے۔ 20فبروری سے پٹہ جات کی تقسیم کا آغاز ہوگا اور جہاں بھی جھونپڑیاں ہیں وہیں پٹے الاٹ کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 2لاکھ 90ہزار درخواستیں حکومت کو وصول ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء اور عوامی نمائندوں پر شہر کی ترقی کے بارے میں ذمہ داری عائد کی اور اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی عمارتوں اور اراضیات کے سلسلہ میں اپوزیشن کی تنقید غیرضروری ہے۔ ہر اچھے کام پر تنقید مناسب نہیں۔ ٹی آر ایس قائدین کو اپوزیشن کی تنقیدوں کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT