Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / حیدرآباد کی ترقی کیلئے 45000 کروڑ، کے سی آر کا نیا سیاسی حربہ

حیدرآباد کی ترقی کیلئے 45000 کروڑ، کے سی آر کا نیا سیاسی حربہ

… (حکومت کے پاس علاء الدین کا چراغ) …
1200 کروڑ کا کیاہوا؟ عوام کے کان خوش کرنے کی کوشش، رقم کہاں سے آئیگی؟ ٹی آر ایس اور مقامی جماعت کی امیج بچانے کی کوشش

حیدرآباد۔/8جولائی،( سیاست نیوز) ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ عوام کے کان خوش کرنے کے ماہر ہوچکے ہیں۔ خاص طور پر شہر حیدرآباد کے عوام کو وقفہ وقفہ سے ہتھیلی میں جنت دکھائی جارہی ہے۔ ایسا شہر جس کی ترقی کا پول ایک بارش کے ساتھ ہی کھل جاتا ہے اور جس کے زیادہ تر علاقوں میں عوام آج بھی صاف پانی، ڈرینج اور بہتر سڑکوں جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اُسکی ترقی کے بارے میں ہزاروں کروڑ کے اعلانات ایسے کئے جارہے ہیں جیسے کے سی آر کو علاء الدین کا چراغ ہاتھ لگ چکا ہو۔ چیف منسٹر نے گزشتہ اسمبلی اجلاس میں پرانے شہر کیلئے 1200 کروڑ کے ترقیاتی منصوبہ کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ خود رمضان المبارک سے قبل پرانے شہر کا دورہ کرکے ترقیاتی کاموں کا افتتاح انجام دیں گے۔ 1200 کروڑ کے اعلان سے یقینی طور پر پرانے شہر کے عوام کے کان ضرور خوش ہوئے ہونگے لیکن 2 ماہ گزرنے کے باوجود چیف منسٹر کو پرانے شہر کا کوئی خیال نہیں آیا۔ اب جبکہ اسمبلی کے وسط مدتی انتخابات کی اطلاعات گرم ہیں‘ چیف منسٹر نے پھر ایک مرتبہ شہر کے عوام کو 45000 کروڑ کا لالی پاپ دیا ہے۔ آئندہ تین برسوں میں ہر سال 15 ہزار کروڑ کے حساب سے جملہ 45 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ حکومت کی میعاد آئندہ ماہ مئی میں ختم ہوجائیگی لیکن کے سی آر آئندہ تین برسوں کا ابھی سے خواب دکھارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے حیدرآباد کیلئے 45 ہزار کروڑ اور ریاست کے دیگر بلدی کارپوریشنوں 10,000 کروڑ جملہ 55,000 کروڑ کا اعلان کیا ۔چیف منسٹر جو سابق میں حیدرآباد کو نیویارک، استنبول اور سنگاپور کی طرح ترقی دینے کا خواب دکھاتے رہے ہیں لیکن اب انہوں نے عالمی شہروں کے بجائے صرف گلوبل سٹی بنانے کی بات کہی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہر کیلئے مختص 45 ہزار کروڑ کیا سابق میں اعلان کردہ 1200 کروڑ روپئے سے علحدہ ہیں یا پھر یہ رقم 45ہزار کروڑ میں شامل ہے؟۔ دوسری بات یہ کہ حکومت حیدرآباد کے علاوہ دیگر کارپوریشنوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے 55,000 کروڑ روپئے کا انتظام کہاں سے کرے گی اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ صرف عہدیداروں کو ترقیاتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کسی بھی اہم پراجکٹ کی تکمیل کیلئے حکومت کو بجٹ میں گنجائش فراہم کرنی پڑتی ہے۔ تلنگانہ کا بجٹ پہلے ہی خسارہ میں ہے۔ اس کے باوجود 55 ہزار کروڑ کا اعلان کیا محض انتخابی حربہ ہے یا چیف منسٹر واقعی شہر کی سنجیدہ ہیں۔ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیئے کہ کیا 55 ہزار کروڑ قومی اور بین الاقوامی اداروں سے بطور قرض حاصل کئے جائیں گے؟۔ اگر ایسا کیا گیا تو پھر اس کی ادائیگی عوام کو ٹیکس کی صورت میں کرنی پڑیگی۔ دونوں صورتوں میں بوجھ عوام پر پڑیگا۔ بجٹ میں رقم مختص کئے بغیر کسی بھی حکومت کیلئے اس قدر بھاری رقم کو خرچ کرنا ممکن نہیں ۔ حکومت کن محکمہ جات کے بجٹ میں تخفیف کرکے اس رقم کا انتظام کریگی۔ حکومت نے پہلے کسانوں کو فصلوں کیلئے امداد قیمت کا اعلان کیا ہے اور پہلے مرحلہ میں فی ایکر 4 ہزار روپئے کے حساب سے رقم تقسیم کردی گئی۔ تقسیم کا دوسرا مرحلہ نومبر میں رہے گا جب حکومت کو دوبارہ 5000 ہزار کروڑ سے زائد ضرورت پڑ سکتی ہے۔ چیف منسٹر نے کسانوں کیلئے بیمہ اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کا آغاز 15 اگسٹ سے ہوگا۔ حکومت نے بیمہ کمپنی سے معاہدہ کرلیا ہے لیکن اسکیم کے آغاز پر اسے پریمیم ادا کرنا ہوگا اس کیلئے بھی بھاری رقم درکار ہوگی۔ ان تمام ادائیگیوں کو باقی رکھ کر تلنگانہ حکومت کیلئے 55ہزار کروڑ کا انتظام کرنا ماہرین معاشیات کی نظر میں ممکن نہیں ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ شہر میں ووٹ بینک مستحکم کرنے کے سی آر نے یہ نئی چال چلی ہے تاکہ عوام کے کان خوش کردیئے جائیں۔ کے سی آر ان دنوں شہر میں ٹی آر ایس اور اپنی حلیف مقامی جماعت کے گرتی امیج سے کافی فکر مند ہیں اور وہ اس طرح کے اعلانات سے دونوں کو عوام کی نظر میں بچانا چاہتے ہیں۔ شہر کے عوام گزشتہ 4 برسوں میں ترقی کے اعلانات سن کر کئی مرتبہ کانوں کو خوش کرچکے ہیں لیکن یہ تازہ اعلان عام آدمی کو بھی ہضم نہیں ہوپارہا ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ عوام کو بھروسہ دلانے 55 ہزار کروڑ کے انتظام کے بارے میں وسائل کی نشاندہی کرے۔

TOPPOPULARRECENT