Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / حیدرآباد کی ترقی

حیدرآباد کی ترقی

سحر ہوتے ہی اہل انجمن کو نیند سی آئی
اندھیرے اور گہرے ہوگئے جب روشنی آئی
حیدرآباد کی ترقی
تلنگانہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں اپنی پارٹی ٹی آر ایس کی تاریخ ساز کامیابی پر صدفیصد درست کہا کہ حیدرآباد کی ترقی کیلئے عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ووٹ دیا ہے۔ ایک ریاست کے دارالحکومت کی ترقی کوئی سیاسی کھیل تماشا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ کامیابی سے ہمکنار ہونے بلکہ کی ذمہ داریوں میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اب اس پارٹی کو وعدے اور دعوؤں سے زیادہ گہرے غوروفکر، وزن دارحکمت عملی کے ساتھ حیدرآباد کی ہمہ رخی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ سب سے اولین مسئلہ پینے کا پانی، برقی، کشادہ سڑکیں ہیں۔ شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی نہیں۔ اب تک تساہلی سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ چیف منسٹر نے سابق بلدی کارپوریٹرس کی کارکردگی کے برعکس اپنی حکومت اور پارٹی کارپوریٹرس کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ گذشتہ 2009ء کے بلدی انتخابات میں حصہ نہ لینے والی ٹی آر ایس کو اس مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیابی ملی ہے تو بلاشبہ پارٹی پر عوام کے بھرپور ایقان و اعتماد کا ہی نتیجہ سمجھا جائے گا۔ گذشتہ انتخابات میں 6 پارٹیوں، کانگریس، مجلس، تلگودیشم، بی جے پی، پی آر پی، ایم بی ٹی اور دیگر نے حصہ لیا تھا۔ کانگریس کو 52، تلگودیشم کو 45 اور مجلس کو 43 پر کامیابی ملی تھی لیکن اس مرتبہ ٹی آر ایس کی یکطرفہ شاندار کامیابی نے ماباقی پارٹیوں کو بدترین ہزیمت سے دوچار کردیا ہے۔ حیدرآباد شہر کو معاشی اور مالیہ دونوں اعتبار سے مضبوط شہر مانا جاتا ہے۔ تلنگانہ ریاست کو حاصل ہونے والی آمدنی میں سب سے زیادہ حیدرآباد سے حاصل ہوتی ہے لیکن یہاں کے بلدی مسائل کی یکسوئی کیلئے رقومات مختص ہونے کے باوجود اس کا دیانتدارانہ استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اب ٹی آر ایس سربراہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے سب سے پہلے حیدرآباد کو کرپشن سے پاک بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ رشوت ستانی میں بلدیہ کو بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔ بدعنوانیوں کیلئے بدنام بلدی عہدیداروں کی اس عادت کو ترک کروانا ہیں۔ چیف منسٹر کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ آنے والے دنوں میں معلوم ہوگا۔ فی الحال چیف منسٹر نے ٹی آر ایس کی کامیابی کی خوشی میں شہر حیدرآباد کیلئے بہت بڑے منصوبے پیش کئے ہیں۔ اس شہر کی اہم ضرورت پینے کا پانی اور برقی ہے۔ چیف منسٹر نے شہریوں کو پانی کی سربراہی کیلئے دو بڑے ذخائر آب بنانے کا وعدہ کیا۔ دواخانہ عثمانیہ کو مستقبل کرنے کا منصوبہ ترک کرکے انہوں نے اپولو ہاسپٹل کی طرز کا 1000 بستروں والا ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ چیف منسٹر اور ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ کو حیدرآباد کی ہر ضرورت اور کمی کا احساس و اندازہ ہے۔ انہیں شہریوں کی تکالیف کا بھی ادراک ہے لہٰذا وہ اپنی حکومت اور نومنتخب ہونے والی میونسپل ٹیم کے ساتھ شہر کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ٹریفک کی پریشانیوں سے شہریوں کو چھٹکارا دلانے، میٹرو لائن پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کو یقینی بنانے کی کوششوں کا آغاز کریں گے۔ شہریوں نے برسوں سے صبر سے کام لیا ہے اور اب ٹی آر ایس حکومت کے تحت ان کے مسائل کی یکسوئی ہوئی ہے تو وہ شکر ادا کریں گے۔ چیف منسٹر نے جس طرح اپنی پارٹی کی کامیابی پر عوام سے اظہارتشکر کیا ہے اسی طرح توقع کی جاتی ہیکہ حیدرآبا کے شہریوں کو بھی چیف منسٹر سے اظہارتشکر کا موقع دیں گے۔ حیدرآباد سے کرپشن کا خاتمہ، سیاسی اجارہ داری، دولت بٹورنے کے حربوں کو برخاست کرنا ہی چیف منسٹر اور ان کی ٹی آر ایس کی فتح کا اصل تشکر ہوگا۔
عوامی مسائل اور مرکزی حکومت
مرکز کی نریندر مودی حکومت ملک کی معیشت پر سیاست کرنے کی کوشش کررہی ہے تو اسے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج رکاوٹ محسوس ہورہا ہے۔ وزیراعظم نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ لوک سبھا میں بدترین ناکامی کا انتقام لینے کیلئے کانگریس نے پارلیمنٹ میں گڑبڑ کا رویہ اختیار کیا ہے۔ کسی بھی پارٹی کی بہتر حکمرانی کا اس وقت اعتراف کیا جاسکتا ہے جب وہ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرے، مگر 20 ماہ گذرنے کے باوجود مودی حکومت نے پارلیمانی کارروائی کو ٹھیک ڈھنگ سے چلانے میںکامیابی حاصل نہیں کی تو وہ اپوزیشن پر الزامات تھوپ کر اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار نہیں ہوسکتی۔ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی ہی نہیں بلکہ دیگر پارٹیوں کو بھی ناکامی ہوئی۔ کانگریس کو اس کی بدعنوانیوں اور خرابیوں کے باعث سزاء ملی اور 400 ارکان کی طاقت رکھنے والی پارٹی اب 40 پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔ بی جے پی جو 2 لوک سبھا ارکان کے ساتھ پارلیمنٹ میں داخل ہوئی تھی، آج حکمراں پارٹی بن کر عوام کو ہر دن آزمائش سے دوچار کررہی ہے۔ سیاسی سطح پر کسی بھی پارٹی کو کامیابی اس وقت نہیں ملتی جب وہ عوام کی ہمدردی حاصل کرے۔ کانگریس کو عوام کی ہمدردی سے کس لئے محروم ہونا پڑا وہ خود محسوس کرسکتی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی خود یہ اعتراف کررہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کل تک 400 ارکان کی اکثریت رکھنے والی پارٹی اب 40 تک سکڑ کر رہ گئی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے 40 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ کانگریس کس طرح پوری پارلیمنٹ کو یرغمال بنا سکتی ہے۔ پارلیمنٹ میں خلل اندازی کی وزیراعظم نے جو شکایت کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ حکمراں پارٹی خود عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے بلوں کی منظوری میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ این ڈی اے کو اپنی پالیسیوں اور پروگراموں کو مؤثر طریقہ سے روبہ عمل لانے دیانتداری کا مظاہرہ کرے۔ ہندوستان کی ترقی کا دارومدار حکمراں پارٹی اور اس کے وزراء کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ عوام یہی توقع رکھتے ہیں کہ حکومت ان کے مسائل کو حل کرے اور ان کیلئے پرسکون فضاء کے ساتھ زندگی گذارنے کی سہولتیں فراہم کرے۔ عوام کی خوشحالی میں ہی ملک کی ترقی مضمر ہے۔

TOPPOPULARRECENT