Friday , May 25 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کی خواتین کے تحفظ کیلئے شی ٹیموں کی تشکیل

حیدرآباد کی خواتین کے تحفظ کیلئے شی ٹیموں کی تشکیل

حکومت کے اقدامات سے جرائم میں کمی، وزیرداخلہ کا کونسل میں بیان
حیدرآباد۔17 نومبر (سیاست نیوز) وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں خواتین کے تحفظ کے لیے پولیس کی شی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ریاست میں حکومت کے اقدامات کے سبب خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران ڈاکٹر پی راجیشور ریڈی کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے 2 ستمبر 2014ء کو خواتین کے تحفظ و سلامتی پر کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق عوامی مقامات پر خواتین کو ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کے لیے شی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ حیدرآباد میں 24 اکٹوبر 2014ء اور سائبر آباد میں 23 ڈسمبر 2014ء کو شی ٹیموں نے کارکردگی کا آغاز کیا۔ دیگر تمام سابق اضلاع میں یکم اپریل 2015ء سے یہ ٹیمیں متعارف ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کے موجودہ تمام 31 اضلاع میں شی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ نرسمہا ریڈی نے کہا کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 2016-17ء کے دوران لڑکیوں کی چھیڑ چھاڑ کے 1744 مقدمات درج کئے گئے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ خواتین کی ہراسانی کے واقعات کی روک تھام اور مظالم پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ شی ٹیموں کی تشکیل کے بعد خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاملہ کی سنجیدگی کے اعتبار سے گرفتارشدہ افراد کی کونسلنگ کی جاتی ہے اور ایک سے زائد مرتبہ اسی جرم میں ملوث ہونے پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی موجودگی میں کونسلنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسلنگ کی تکمیل کے بعد نوجوانوں کے رویہ میں کافی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ رات کے اوقات میں سفر کرنے والی خواتین کے لیے ’’ویمن ٹراویل موڈ سیف‘‘ اور ’’ہیک آئی‘‘ ایپ متعارف کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شی ٹیموں کی تشکیل سے خواتین میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے اور چھیڑچھاڑ کرنے والوں میں خوف کا ماحول ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تلنگانہ میں شی ٹیموں کی تشکیل سے مثبت نتائج کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹرا، آندھراپردیش، اڑیشہ، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے عہدیداروں نے تفصیلات حاصل کی ہیں تاکہ ان کی ریاستوں میں ان ٹیموں کو تشکیل دیا جاسکے۔ تلنگانہ ملک کی مثالی ریاست بن چکی ہے جو باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈائل 100 اور دیگر ذرائع سے کی جانے والی شکایات کی یکسوئی کی جاتی ہے۔ ستمبر 2017ء تک ریاست میں 210 شی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ اس مدت کے دوران خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی کے جملہ 4972 مقدمات درج کیے گئے۔ 4260 افراد کو گرفتار کیا گیا، 9747 نوجوانوں کی کونسلنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے معاملہ میں حیدرآباد ملک میں سرفہرست ہے۔ مختلف اداروں کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی ایڈیشنل پولیس کمشنر کرائم شریمتی سواتی لکرا کو امریکی حکومت کی جانب سے ڈسٹنگوش ہوم فری لیڈرشپ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

 

TOPPOPULARRECENT