Saturday , December 15 2018

حیدرآباد کی رئیل اسٹیٹ مارکٹ میں تیزی ‘ خریداروں کی شہر پر پھر توجہ

میٹرو ریل پراجیکٹ کے آغاز اور تقسیم ریاست کے بعد سیاسی استحکام سے حالات میں بہتری

میٹرو ریل پراجیکٹ کے آغاز اور تقسیم ریاست کے بعد سیاسی استحکام سے حالات میں بہتری
حیدرآباد ۔ 30 ۔ جون : ( ایجنسیز ) : جائیدادوں کے خریدار جو تقسیم ریاست کے بعد گذشتہ ایک سال سے دوری اختیار کررہے تھے ایک بار پھر حیدرآباد کی ریسیڈنشیل مارکٹ میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ تبدیل شدہ حالات کو دیکھتے ہوئے رئیل اسٹیٹ میں دلچسپی رکھنے والوں اور بڑے اداروں نے گذشتہ سہ ماہی کے دوران شہر کے انتہائی پسندیدہ علاقوں میں اراضیات حاصل کرلی ہیں اور اب انہیں امید ہے کہ آئندہ مہینوں میں قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔ کہا گیا ہے کہ ڈیولپرس میں مثبت امیدوں کی بحالی کی وجہ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کا عنقریب ہونے والا آغاز ہے علاوہ ازیں تقسیم ریاست کے بعد سیاسی استحکام بھی ان کے حوصلے بلند کررہا ہے ۔ دفتری کاموں میں تیزی کی وجہ سے بھی مارکٹ میں سرگرمی بڑھی ہے ۔ یہ حالات گذشتہ مالیاتی سال کے آخری سہ ماہی سے شروع ہوئے ہیں ۔ CREDAI کے صدر سی شیکھر ریڈی نے کہا کہ تمام منفی عوامل پیچھے چھوٹ چکے ہیں اور خریدار اب حیدرآباد میں جائیدادیں حاصل کرنے کے تعلق سے پرعزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیولپرس بھی اب راحت اور سکون محسوس کررہے ہیں اور وہ قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ ڈیولپرس کو امید ہے کہ دوسرے میٹرو شہروں کی بہ نسبت یہاں قیمتوں میں کمی کے باعث آئندہ دنوں میں طلب میں اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ خریدار اب شہر کے مغربی حصے میں ( فینانشیل ڈسٹرکٹ کے قریب ) جائیدادوں کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس کے بعد جنوبی خطہ میں وجئے واڑہ ہائی وے کے قریب بھی جائیدادوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہیں امید ہے کہ آئندہ وقتوں میں 3000 تا 4000 روپئے فی مربع فیٹ قیمت والی جائیدادیں زیادہ درکار ہوں گی ۔ کیوں کہ ایسی جائیدادوں کے طلب گار میٹرو ریل راہداری سے قریب رہنا چاہتے ہیں ۔ آئندہ ایک سال کے دوران کئی نئے پراجکٹس کا آغاز ہوسکتا ہے ۔ ڈیولپرس کا جہاں تک سوال ہے وہ نئے پراجکٹس شروع کرنے میں زیادہ جلد بازی کا مظاہرہ کرنا نہیں چاہتے ۔ وہ پہلے اپنی بکنگس پر توجہ دینا چاہتے ہیں جس کے بعد پراجکٹس کے آغاز کے تعلق سے فیصلہ کیا جائے گا ۔ مارکٹ کے دوسرے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ تین برسوں میں شہر میں اور اطراف کے علاقوں میں 45,000 رہائشی پراجکٹس کا آغاز ہوسکتا ہے ۔ جاریہ سال 14,000 یونٹس کے کام کا آغاز ہونے کا امکان ہے ۔ خاص طور پر مادھا پور ، گچی باولی اور ایرپورٹ کے قریب کے علاقوں میں گذشتہ اقتصادی سال میں 14-18 فیصد کا فروغ دیکھا گیا اور سال 2015 میں رہائشی یونٹوں کے لیے طلب میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ دفتری جگہ کی طلب میں اضافہ کے نتیجہ میں ہاوزنگ شعبہ میں طلب موجودہ سطح سے زیادہ ہوسکتی ہے ۔ آفس لیزنگ کے معاملہ میں حیدرآباد کو ملک بھر میں تیزی سے ترقی کرنے والے شہر کا مقام حاصل ہوا ہے ۔ یہاں 3.87 ملین اسکوائر فیٹ جگہ لیز پر دی گئی ۔ یہاں اس طرح کی معاملتوں میں 28 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ خریدار خاص طور پر حیدرآباد کو اس لیے ترجیح دے رہے ہیں کیوں کہ یہاں چینائی اور بنگلورو کے مقابلہ میں قیمتیں 30 تا 40 فیصد کم ہیں ۔ ایس ایم آر ہولڈنگس کے صدر نشین و مینجنگ ڈائرکٹر رام ریڈی نے یہ بات بتائی ۔ حالیہ پراپرٹی شو کے بعد ڈیولپرس نے بھی کہا ہے کہ ان سے ریسیڈنشیل یونٹس کے تعلق سے بہت سوال کئے گئے ہیں اور 45 تا 75 لاکھ روپئے مالیتی رہائش کی طلب زیادہ ہے ۔ ایسی یونٹس بک کرنے والوں کا یہ خیال تھا کہ حیدرآباد میں دوسرے میٹرو شہروں کی نسبت قیمتیں کم ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT