Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کی قیمتی اراضیات پر کے چندر شیکھر راؤ کی نظریں

حیدرآباد کی قیمتی اراضیات پر کے چندر شیکھر راؤ کی نظریں

اراضیات کی فروختگی کے خلاف انتباہ، ملو بٹی وکرامارک کی تنقید

اراضیات کی فروختگی کے خلاف انتباہ، ملو بٹی وکرامارک کی تنقید
حیدرآباد /19 مارچ (سیاست نیوز) ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس ملو بٹی وکرامارک نے کہا کہ جس طرح گدھ کی نظر مردار پر ہوتی ہے، اسی طرح چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی نظر حیدرآباد کی قیمتی اراضیات پر ہے۔ آج شام گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حیدرآباد کی عالمی طرز کی ترقی کانگریس کا کارنامہ ہے، جس نے ہزارہا کروڑ کے مصارف سے اپنے دس سالہ دور حکومت میں شہر حیدرآباد کو خوبصورت بنانے کے علاوہ شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے، جس کے سبب بڑے اور اچھے شہروں کی فہرست میں حیدرآباد کو دوسرا مقام حاصل ہوا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے حیدرآباد اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو حیدرآباد میٹرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں تبدیل کیا، جس میں تلنگانہ کے 5 اضلاع کا احاطہ کرتے ہوئے 850 مواضعات کو شامل کرکے 6 ہزار کیلو میٹر تک توسیع دی گئی۔ علاوہ ازیں عصری سہولتوں سے لیس میٹرو ٹرین کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جب کہ 15 ہزار کروڑ کے مصارف سے انٹرنیشنل ایرپورٹ قائم کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ 8 لائنوں پر مشتمل آؤٹر رنگ روڈ کے لئے سات ہزار کروڑ روپئے اور 600 کروڑ کے مصارف سے پی وی نرسمہا راؤ ایکسپریس ہائی وے قائم کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ 200 کروڑ کے مصارف سے بی بی نگر میں نمس یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے، یعنی کانگریس حکومت کی کاوشوں سے حیدرآباد کی ترقی ہوئی اور اراضیات کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا، تاہم چیف منسٹر تلنگانہ یہاں کی قیمتی اراضیات کو فروخت کرنے کی سازش کر رہے ہیں، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں حیدرآباد کے سکریٹریٹ کی اراضی سب سے وسیع اور عوام کے لئے بہت قریب ہے،اس کے باوجود چیف منسٹر من مانی کر رہے ہیں اور سکریٹریٹ کو ایرا گڈہ منتقل کرنا چاہتے ہیں، جس کو کانگریس پارٹی ہرگز قبول نہیں کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT