Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کی ہندو مسلم اتحاد کی آواز لکھنؤ اور بنگلور تک پہنچ گئی

حیدرآباد کی ہندو مسلم اتحاد کی آواز لکھنؤ اور بنگلور تک پہنچ گئی

سارے ملک میں بین مذہبی اتحاد کا پیغام، عیدملاپ تقریب سے جناب ظہیرالدین علی خان، کودنڈارام، ویداکمار کا خطاب

حیدرآباد۔14جولائی(سیاست نیو ز) ہندومسلم اتحاد کیلئے حیدرآبادسے اٹھنے والی آواز کا اثر اترپردیش کے لکھنو اور کرناٹک کے شہر بنگلور تک پہنچ گیا ہے جہاں پر سکھ مسلمانوں کے افطار کا اہتمام کررہے ہیں اور عیسائی چرچ میں عید میلاپ تقریب منعقد کرتے ہوئے سارے ملک کو ہندومسلم اتحادکاپیغام پیش کررہے ہیں۔ ایس سی ‘ ایس ٹی‘ بی سی‘ مسلم فرنٹ کے زیر اہتمام مدینہ ایجوکیشن سنٹر میںمنعقدہ عیدمیلاپ تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران جناب ظہیر الدین علی خان نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودانڈرام ‘ چیرمن ٹی آر سی ایم ویدا کمار‘ کے علاوہ دلت قائد جے بی راجو‘ مولانا حامد حسین شطاری‘پشچم یادگیری‘رام داس ‘ جے بی راجو‘ انور پٹیل‘ مولوی علائو الدین انصاری‘ کانگریس قائدین سہیل عبداللہ ‘ محمد غوث‘ رشید خان آزاد ‘ پجاری نرسنگ رائو‘ عبدالستار مجاہد‘ عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ تنظیموں کے قائدین شیخ فہیم‘ کوٹہ سرینواس‘ صدر دلت ودیارتھی سنگم گنیش نائیک‘ جناب نعیم اللہ شریف‘ محمد علی آواز تنظیم‘ نے بھی خطا ب کیا۔ کاروائی پروفیسر انور خان نے چلائی جبکہ چیف کنونیر فرنٹ ثناء اللہ خان اور کنونیرس حیات حسین حبیب‘ سی ایل یادگیری‘ اسلم عبدالرحمن‘ حافظ متین اور دیگر نے انتظامات کی نگرانی کی۔اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب ظہیرالدین علی خان نے کہاکہ ہندومسلم اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملک کو نہ صرف فرقہ پرستی کا خطرہ لاحق ہے بلکہ 2014کے بعد سے قومی سطح پر اقتصاد ی ترقی پر بھی کاریضرب پڑی ہے ۔ پچھلے عام انتخابات سے قبل دانشوروں کے ایک گروپ نے ملکر پھیکو ڈاٹ کام نامی ایک ویب سائیڈکا آغاز کیاتھا جو دوماہ میںدنیا کی سرفہرست ویب سائیڈس میںشامل ہوگئی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ہتھیلی میںجنت دکھا کر اقتدار حاصل کرنا سیاسی قائدین کا وطیرہ بن گیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ہتھیلی میںجنت دیکھاکر اقتدار حاصل کیاہے بلکہ ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر نے بھی تلنگانہ کی عوام کو سبز باغ دکھانے اور اقتدار حاصل کرنے میںکوئی کسر باقی نہیںرکھی ہے ۔جناب ظہیر الدین علی خان نے کہا کہ سیاسی قائدین کے جھوٹے وعدوں کوبے نقاب کرنے کے لئے ہم سب کو ملکر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میںدلت ہندو اور مسلم اتحاد ہی سیاسی قائدین کے جھوٹے وعدوں کوبے نقاب کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔پروفیسر کودنڈارام نے کہا کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کسی ایک سیاسی جماعت یا سیاسی قائدکی جدوجہد کانتیجہ نہیںہے بلکہ تلنگانہ کے تمام مذاہب او رطبقات کی متحد جدوجہد کے نتیجے میں تلنگانہ کی تشکیل کو یقینی بنایاجاسکا ہے ۔تلنگانہ حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ریاست کے تمام معاشی طور پر پسماندگی کاشکار طبقات کو تلنگانہ کی حصہ دار بنائیں۔ انہوں نے تلنگانہ نظریہ ساز انجہانی پروفیسر جئے شنکر کے حوالے سے بتایاکہ ’’جئے شنکر ہمیشہ کہتے تھے کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ثمر سے ریاست کے تمام طبقات او راقوام کوفائدہ ہماری جدوجہد کی اصل کامیابی ہوگی‘‘کودانڈرام نے کہاکہ جب تک ہم پروفیسر جئے شنکر کے نظریہ کو تلنگانہ میںقائم نہیںکرتے تب تک علیحدہ تلنگانہ تحریک کی کامیابی کااصل مقصد ادھورا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی او رمینارٹیز کے فلاح وبہبود میںچلائی جانے والی ہر تحریک کو تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاتعاون ہمیشہ حاصل رہے گا۔چیرمن ٹی آر ایس ایم ویدا کمار نے کہاکہ حکومت اور عوامی نمائندوں کوشامل کئے بغیر کسی بھی تحریک کو کامیاب نہیںبنایا جاسکے گا۔جناب نعیم اللہ شریف نے لینکو ہلز مقدمہ میںحکومت تلنگانہ کی جانب سے ابتک حلف نامہ داخل کرنے پر افسو س کا اظہار کیا جبکہ اس کیس کی 15جولائی کو سنوائی ہونے والی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT