Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کے بم دھماکے، غیر مقامی افراد کی کارستانی

حیدرآباد کے بم دھماکے، غیر مقامی افراد کی کارستانی

کوئی بھی حیدرآبادی ملوث نہیں، قانون ساز کونسل میں وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی کا بیان

کوئی بھی حیدرآبادی ملوث نہیں، قانون ساز کونسل میں وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی کا بیان
حیدرآباد /14 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد اور تلنگانہ میں کوئی مقامی دہشت گرد ملوث نہیں ہے اور نہ ہی مقامی افراد نے دہشت گردوں کو پناہ دی۔ آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حیدرآباد میں جتنے بھی بم دھماکے ہوئے، ان سے مقامی افراد کا تعلق نہیں ہے۔ باہر کے لوگ یہاں آکر ہوٹلوں میں ٹھہرے اور دھماکے کرکے چلے گئے۔ پولیس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس طرح کی رپورٹ پیش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گرد سرگرمیوں سے حیدرآبادیوں یا تلنگانہ والوں کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی حیدرآباد و سائبرآباد میں دہشت گرد سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم اگر کوئی ایسی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو حکومت اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ اسی دوران ڈپٹی فلور لیڈر محمد علی شبیر نے سوال کیا کہ مکہ مسجد بم دھماکوں کے مقدمات میں جو نوجوان بے قصور ثابت ہوئے، انھیں روزگار فراہم کرنے یا ان کی مدد کرنے کانگریس حکومت نے فیصلہ کیا تھا، کیا ٹی آر ایس حکومت اس پر عمل کرے گی؟۔ ریاستی وزیر داخلہ نے کہا کہ انھیں اس بات کی جانکاری نہیں ہے، اگر معلومات فراہم کی گئی تو بے قصور نوجوانوں کی مدد کیلئے ٹی آر ایس حکومت سنجیدگی سے غور کرے گی۔ ریاستی وزیر داخلہ نے کہا کہ جس وقت تحقیقاتی کمیشن نے رپورٹ پیش کی تھی، اس وقت ریاست میں کانگریس حکومت تھی، اس وقت حکومت نے کیا اقدام کئے؟ ہم اس سے ناواقف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حیدرآباد و تلنگانہ میں نظم و ضبط کی برقراری اور پولیس کو عصری تقاضوں سے لیس کرنے کیلئے سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ دریں اثناء حافظ پیر شبیر احمد نے کہا کہ گجرات پولیس حیدرآباد میں آکر ایک نوجوان کا قتل کرتی ہے اور کئی نوجوانوں کو گرفتار کرکے لے جاتی ہے، یہاں تک کہ مولانا عبد القوی کی گرفتاری کی اطلاع تین دن بعد ملی۔ کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے میں صرف شک کی بنیاد پر بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT