Tuesday , July 17 2018
Home / Top Stories / حیدرآباد کے 9 مسلم نوجوان حادثہ کا شکار

حیدرآباد کے 9 مسلم نوجوان حادثہ کا شکار

کلواکرتی میں تفریح کیلئے جانے کے دوران سانحہ ، 2 ہلاک ، 7 شدید زخمی
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : کلواکرتی حلقہ اسمبلی کے کڑتال پولیس اسٹیشن کے احاطہ مینی گنڈی مندر کے روبرو صبح کی اولین ساعتوں میں خطرناک سڑک حادثہ پیش آیا جس میں دو نوجوان برسر موقعہ ہلاک ہوگئے جب کہ 7 نوجوان شدید زخمی ہوئے ۔ جن میں 6 کی حالت تشویشناک ہے ۔ جنہیں حیدرآباد کے مختلف ہاسپٹلوں میں بغرض علاج شریک کردیا گیا ہے ۔ ایس آئی کڑتال پی ایس وی سندریا کے مطابق حیدرآباد ملک پیٹ اور دیگر علاقوں کے 9 مسلم نوجوان کل شام اپنے دوست محمد کاشف کی سالگرہ کی مناسبت سے گھروں میں اطلاع کیے بغیر کل شام سے نامعلوم مقامات پر سیر و تفریج کرتے ہوئے آج صبح سری سیلم بغرض تفریح کے لیے انوا گاڑی میں جارہے تھے کہ مینی گنڈی ( آمنگل ) کے روبرو سامنے سے جاری ٹپر جو کہ اچانک بائیں جانب موڑ لینے کے سبب انوا گاڑی ٹپر سے ٹکرا گئی ۔۔

 

حیدرآباد کے 9 مسلم نوجوان حادثہ کا شکار
( بہ سلسلہ صفحہ آخر )
ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار پوری طرح دب چکی تھی جس میں سوار افراد کو نکالنے کے لیے جے سی پی کا سہارا لینا پڑا اور گاؤں والوں کی بروقت مدد کے سبب شدید زخمی نوجوانوں کو منتقلی کرنے میں کافی سہارا ملا ۔ کار چلا رہے محمد فیروز 25 سالہ محمد سمیر 23 سالہ کار میں دب کر جائے واقع پر ہی ہلاک ہوگئے جنہیں نکلانے کافی دشواریوں کا سامنا رہا جب کے دیگر نوجوان محمد معین ، شیخ وہاج ، عبدالکریم ، محمد کاشف ، اصغر علی ، محمد ریاض ، محمد افسر شدید زخمی ہوئے ۔ سوائے کاشف کے بقیہ کی حالت کافی تشویشناک ہے جن میں کسی کے ہاتھ تو کسی کے پیر ٹوٹ چکے ہیں اور محمد ریاض جن کے آنکھوں پر شدید زخم آئے ہیں انہیں سروجنی دیوی ہاسپٹل منتقل کیا گیا ہے جائے واقعہ کے معائنہ پر پتہ چلتا ہے کہ حادثہ کافی شدید تھا ۔ گاڑی کے پرخچے اڑ گئے ہیں ۔ زخمی نوجوان شدت تکلیف سے کرارہے ہیں مقامی افراد نے زخمیوں کو نکالتے ہوئے پانی اور دیگر طبی امداد پہنچاتے ہوئے انہیں حیدرآباد منتقل کرنے میں کافی مدد کی ہے اس موقع پر ایس آئی نے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد کے اس سفر کا گھر والوں کو بھی پتہ نہیں یہ نوجوان اپنے دوست کی سالگرہ پر خوشی منانے کے لیے گذشتہ شام ہی سے اپنے اپنے گھروں سے نکل چکے تھے کون کون دوست ہیں ایک دوسرے گھر والوں کو پتہ نہیں اور یہ نوجوانوں کے اس پروگرام کا کسی کے بھی گھر والوں کو پتہ نہیں ۔مسلم نوجوانوں کا اس طرح اپنے گھروں سے بغیر والدین کے اطلاع کے نکلنا آخر کہاں تک درست ہے اور ہمارا معاشرہ آخر کس سمت جارہا ہے کون اس کا ذمہ دار ہے کس سے ہم یہ اپنا درد بیان کریں کافی غور و خوص کا مقام ہے۔۔

TOPPOPULARRECENT