Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد گولف کلب رئیسوں کے لیے کھیل ، غریبوں کے لیے موت کا جال

حیدرآباد گولف کلب رئیسوں کے لیے کھیل ، غریبوں کے لیے موت کا جال

متبادل اراضیات فراہم کرنے میں حکومت ناکام ، غریب کسان اور مسلمان انتہائی اقدام پر مجبور
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکٹوبر : ( نمائندہ خصوصی) : معاشرہ میں کھیل کود کے میدانوں سے زیادہ انسانی زندگیوں کو اہمیت دی جانی چاہئے ۔ بستیاں اجاڑ کر کھیل کے میدانوں کی تعمیر کرنا اور وہاں کے مکینوں کی زندگیوں سے کھیل کر گولف جیسا رئیسوں کا کھیل کھیلنا کوئی عقل مندی نہیں بلکہ سب سے بڑی بے وقوفی ہے اور بقول انسانی حقوق کے جہد کاروں اور قلعہ گولکنڈہ کے مکینوں کے حیدرآباد گولف اسوسی ایشن اور حکومت گولف کو فروغ دینے کی خاطر عام شہریوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں ۔ اس خطرناک کھیل کا تازہ ترین شکار محمد الیاس خاں بنے ہیں ۔ سماجی جہد کار اور عام آدمی پارٹی کے حرکیاتی قائد محمد افضل کے مطابق محمد الیاس احمد خاں نے جو نئے قلعہ میں 52 ایکڑ اراضی پر تعمیر کردہ حیدرآباد گولف کلب سے شدید متاثر ہوئے ہیں آج متبادل اراضیات کا انتظام کرنے میں ریاستی انتظامیہ خاص کر کلکٹر حیدرآباد کی ناکامی سے دل برداشتہ ہو کر بطور احتجاج کوئی نامعلوم کیمیائی شئے پی لی جس کے نتیجہ میں انہیں پولیس نے ایک خانگی ہاسپٹل میں شریک کرادیا ۔ جہاں ان کی حالت خطرہ سے باہر بتائی جاتی ہے ۔ یہ واقعہ آج صبح 11 بجے پیش آیا جس کے بعد علاقہ میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی پھیل گئی ۔ مقامی افراد اور خود الیاس خاں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ تقریبا 51 ایکڑ اراضی پر برسوں سے دلت کسان اور مسلمان خاندان کاشت کاری کررہے تھے اور آباد تھے ۔ لیکن تلگو دیشم کے دور اقتدار میں اس اراضی کو متمول سرکاری عہدیداروں و صنعتکاروں کی دلجوئی کا سامان فراہم کرنے کی خاطر حیدرآباد گولف اسوسی ایشن کے حوالے کردیا گیا ۔ اس وقت SOUL ، فورم فار بیٹر حیدرآباد اور تاریخی آثار کے تحفظ میں مصروف کئی غیر سرکاری تنظیموں اور جہد کاروں نے زبردست احتجاج کیا ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس وقت احتجاجیوں کی تائید وحمایت کرنے والوں میں موجودہ چیف منسٹر کے سی آر اور ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمود علی بھی شامل تھے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ گولف کلب کی تعمیر سے بے گھر ہونے اور اپنی اراضیات سے محروم ہونے والوں کو اب تک کوئی متبادل اراضی فراہم نہیں کی گئی حالانکہ ان لوگوں نے شہر حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف متبادل سرکاری اراضیات کی نشاندہی بھی کی تھی ۔ الیاس خاں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کے والد محبوب خاں مرحوم آصفجاہی فوج میں خدمات انجام دیا کرتے تھے جس کے باعث آصف جاہی دور میں ہی انہیں دیڑھ ایکڑ اراضی عطا کی گئی تھی ۔ حیدرآباد گولف اسوسی ایشن کو ساری اراضی حوالے کئے جانے کے بعد مکینوں میںمایوسی پھیل گئی اور وہ گذشتہ 6 تا 8 برسوں سے اس ناجائز قبضے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ سماجی جہدکار محمد افضل اور محمد مبین احمد کے علاوہ دیگر مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متبادل اراضیات فراہم نہ کرنے پر مستقبل میں اسی طرح کے واقعات پیش آسکتے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد الیاس خاں نامعلوم کیمیائی شئے پی کر گولف کلب کے اوپر چڑھ گئے تھے لیکن پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک قیمتی جان کو ضائع ہونے سے بچالیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT