Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / حیدرآبادی اُخوت، بھائی چارہ اور مذہبی رواداری کی شاندار مثالیں

حیدرآبادی اُخوت، بھائی چارہ اور مذہبی رواداری کی شاندار مثالیں

جناب عابد علی خان اور محبوب حسین جگر سے کئی محبتیں وابستہ، ڈاکٹر شیام سندر کا توسیعی لیکچر

حیدرآباد۔17ستمبر(سیاست نیوز) ڈاکٹر شیام سندر پرشاد نے حیدرآباد کی قدیم تہذیب و تمدن کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہاکہ بڑی معیوب بات ہے کہ آج ہمارے گھروں کے ناشتہ کا انحصار اڈلی ‘ دوسہ پر ہوگیا ہے جبکہ ہمارے زمانے میں ناشتہ کھیچڑی‘ قیمہ ‘ میٹھا اچار‘ پاپڑ تیار کیاجاتا تھا ۔انہوں نے مزیدکہاکہ آج کے دور کا ناشتہ دیکھ کر عجیب محسوس ہوتا ہے۔پرانے پل کے قریب میں ایک قدیم کمان تھی جس کو اب منہدم کردیاگیا ہے ۔حیدرآباد‘ باغات اور تالابوں کاشہر کہلایا جاتا تھا۔ نظام شاہی دور میں سڑکیں سمنٹ کی موٹی پرتوں پر مشتمل ہوا کرتی تھی ۔ کشادہ سڑکیں اورخوشگوار فضاء کے موثر انتظامات حکومت کی جانب سے کئے گئے تھے۔ موسلادھار بارش بھی اگر ہوجاتی تو سڑک پر ایک انچ پانی نہیںٹہرتا‘ گرما کے موسم میںدرجہ حرارت میںاضافہ ہوتا تو یہ یقینی تھا کہ ایک یادوروز میںبار ش ہوگی۔مشترکہ خاندان‘ ہمہ لسانی تہذیب ہماری زندگیوں کا اہم حصہ تھے ۔ اساتذہ اور بڑوں کا ادب واحترام ہم پر لازم تھا جبکہ اساتذہ کے اندر بھی اپنے طلبہ کے تئیں بے مثال جذبہ محبت تھا۔ بلا مذہب ‘ ذات پات ہمارے درمیان میں خلوص ومحبت اور ایثار کا جذبہ عام تھا۔وہ آج یہاں اُردو حال حمایت نگر میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام منعقدہ ماہر چشم شیام سندر پرشاد کے ساتھ ایک شام سے خطاب کررہے تھے۔صدر انجمن پروفیسر بیگ احساس نے صدارت کی۔ پدما شری جناب مجتبیٰ حسین ‘ جناب سیدتراب الحسن ‘جناب سکندر خان لودھی‘ محترمہ شانتہ سہیگل نے تقریب سے خطاب کیا۔ جناب عابد صدیقی نے کاروائی چلائی۔ اس موقع پر سماجی جہدکار وصحافی گوری لنکیش کے بے رحمانہ قتل پر ایک منٹ کی خاموشی بھی منائی گئی۔ سابق رکن پارلیمنٹ وکمیونسٹ قائد جناب سید عزیز پاشاہ بھی شریک تھے۔ ڈاکٹر شیام سندر پرشاد نے کہاکہ سکندر آبا دتا عابڈس کی مسافت ہم پیدل طئے کرتے تھے۔خوشگوار فضاء ہمیںتقویت پہنچاتی۔باغ عامہ آج جہاں للیتا کلاتھورانم بنادیاگیا ہے وہاں پر تالاب میںاپنے پیار چھوڑ کر موج مستی کرتے تھے ۔ باغ عامہ جس کو آج پبلک گارڈن کہا جاتا ہے ‘ وہاں پر ہریالی سے لطف اندوز ہوتے ‘ سینکڑوں لوگ ہر روز ان سہولتوں سے استفادہ اٹھاتے تھے ۔ مگر آج نہ تو باغ ہے اور نہ ہی باغ عامہ ‘ نہ تو صحت ہے او رنہ ہی صحت عامہ ۔ ڈاکٹر شیام پرساد نے کہاکہ برصغیر کے سب سے جدید طبی مرکز کے طور پر عثمانیہ اسپتال قائم کیاگیا تھا ‘

جہاں پر ماہرین طب کی خدمات سے استفادہ اٹھایاجاتا تھا ‘ مریضوں کے ساتھ رہنے والوں کو بھی اسپتال انتظامیہ کی جانب سے معیاری کھانا فراہم کیاجاتا تھا ۔چار کے بہانے چار سو لوگوں کے کھانے کا انتظام نظام دکن کا انداز تھا ۔ہر وقت آصف جاہ سابع کا ٹیبل لوازمات سے بھرا رہتا۔ کوئی بھی مہمان ان کے گھر سے کھانا کھائے بغیر نہیںجاتا۔ یہی حال عوام کا بھی تھا ‘ مہمان نوازی ریاست حیدرآباد کی تہذیب کا بنیادی حصہ ہے ۔ دنیابھر میں حیدرآباد اور حیدرآبادیوں نے اخوت ‘ بھائی چارہ اور مذہبی روداری کی شاندار مثالیں پیش کی ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ کہیں پر بھی جائیںاگر کوئی حیدرآبادی سے ملاقات ہوجاتی ہے تو دل کو سکون ملتا ہے ۔مخصوص لہجہ اور تکیہ کلام ہماری پہچان ہے ‘ ہم کہیں پر بھی رہیں ہمارا مخصوص لہجہ حیدرآبادی ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔ڈاکٹر شیام سندر نے کہاکہ انہیںعابد علی خان صاحب مرحوم‘ اور محبوب حسین جگر صاحب مرحوم سے کافی محبتیں ملی ہیںاور میں نے ان کے ساتھ پاکستان کا سفر بھی کیاتھا۔ڈاکٹر شیام سندر نے زبان کو مذہب سے جوڑ نے کے عمل کو معیوب قراردیا او رکہاکہ اُردو زبان کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر اس کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے ۔ اُردو کسی ایک مذہب یاطبقے کی زبان نہیں ہے ہم سب کی زبان ہے۔ پدما شری مجتبیٰ حسین نے اس مو قع پرڈاکٹر شیام سندرپرشاد پر لکھا ہوا ایک خاکہ پیش کیا۔ جناب مجتبیٰ حسین نے کہاکہ ڈاکٹر شیام سندر کا تعلق ہمہ لسانی معاشرے کو فروغ دینے والے خاندان سے ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ شیام سندر پرشاد ہمہ لسانی تہذیب‘ مشترکہ خاندان اور بڑوں کا ادب واحترام حیدرآبادی تہذیب وتمدن کے اہم پہلو ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر شیام سندر پرشاد پر 1995میںلکھے ہوئے اپنا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ماہر چشم کا مکان دفتر سیاست کے قریب میںتھا اکثر ان کا دفتر میںکھیل کود کے دوران آئے کرکٹ بال کو لینے کے لئے آنا ہوتاتھا

او رجب وہ واپس جاتے تب ان کے ہاتھ میںایک کے بجائے دوکرکٹ بال ہوتے ‘ ایک تو جو کھیل کے دوران یہاں پر آیاتھا دوسرا عابد علی خان صاحب مرحوم انہیں ایک اور بال دیتے تھے۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر شیام سندر پرشاد کا حافظہ نہایت مضبوط ہے انہیںاپنے تمام مریضوں‘ دوست احباب او راساتذہ کے نام آج بھی یاد ہیں۔ شیام سندر کا تعلق بھی اُردو داں افراد میںہوتا ہے حالانکہ انہوں نے کبھی بھی اُردو کی باضابطہ تعلیم حاصل نہیں کی مگر پانچویںجماعت تک فارسی کی پڑھائی کی۔ انہوں نے کہاکہ ان کے گھر کے تمام لوگ اس وقت بھی روزنامہ سیاست کا مطالعہ کرتے تھے ‘ یہی وجہہ ہے کہ ڈاکٹر شیام سندر کو اُردو سے محبت ہوئی ہے۔ اپنے صدارتی خطاب میںپروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ شیام سندر کے لکچر سے حیدرآباد میں دم توڑتی تہذیب کو دوبارہ زندہ کرنے کا احساس ہورہا ہے۔پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ شیام سندر نے جو مشترکہ خاندان اور حیدرآبادی ناشتہ کی بات سے اپنے لکچر کی شروعات کی ہے اور حیدرآباد کی قدیم تہذیب کی یادوں کو دوبارہ ہمارے ذہنو ں میںتازہ کردیا۔انہو ںنے مزیدکہاکہ یقینا شہر ایک کنکریٹ کے جنگل میںتبدیل ہوگیا ہے ۔ انہوں نے بھی قدیم زمانے کے سرسبز وشاداب ماحول کو یادکرتے ہوئے کہاکہ اس زمانے میںمعقول آب وہوا انسان کو چاق وچوبند رکھنے کاکام کرتی تھی۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہاکہ اس دور میںمعمولی محلوں میںبھی سمنٹ کی سڑکیں او ربارش کے پانی کے بہائو کو آسان بنانے کا موثر انتظام تھا۔ انہوںنے مزیدکہاکہ آج بھی دنیا کے بڑے بڑے شہر اور ترقیاتی ممالک کا ڈرنیج سسٹم سوالات کے گھیرے میں ہے ۔محترمہ شانتہ سہیگل نے اُردو کے نفیس لب ولہجہ میں ڈاکٹر شیام سندر کی تعریف کی اورکہاکہ جاگیردارانہ خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود کبھی بھی آرام وآسائش کو ترجیح نہیںدی۔

TOPPOPULARRECENT