Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآبادی فنکاروں کے باکمال فن سے حیدرآباد کا نام روشن

حیدرآبادی فنکاروں کے باکمال فن سے حیدرآباد کا نام روشن

احاطہ دفتر سیاست میں صوفی گلوکارہ معراج صوفی کے فن کا مظاہرہ ، سامعین میں رقت کی کیفیت، جناب زاہدعلی خاں کا خطاب
شہر میں عنقریب معراج صوفی کا عظیم الشان پروگرام رکھنے کا اعلان

حیدرآباد 10 اپریل (دکن نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے خاتون فنکار اور صوفی گلوکارہ معراج صوفی کی گائیکی کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ یوں تو حیدرآباد میں کافی باصلاحیت فنکار پیدا ہوئے ہیں لیکن معراج صوفی اپنی خوبصورت آواز اور کلام اور پیشکشی کے انداز سے منفرد مقام پیدا کررہی ہیں۔ جناب زاہد علی خان محبوب حسین جگر ہال میں حضرت امیر خسرو سنگیت اکیڈیمی کے زیراہتمام منعقدہ ’’معراج صوفی کی منفرد شام‘‘ میں شریک پرستارانِ اُردو اور شائقین غزل سے مخاطب تھے۔ انھوں نے کہاکہ شہر حیدرآباد نے برصغیر میں شعر و نغمہ کے میدان میں اپنی خاص پہچان بنائی ہے۔ ان میں ایم اے رؤف، وٹھل راؤ، عزیز قریشی، رکن الدین کے علاوہ کئی فنکاروں نے اپنے باکمال فن کے ذریعہ حیدرآباد کا نام روشن کیا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان فنکاروں کی خاطر خواہ حوصلہ افزائی نہیں ہوئی جبکہ دہلی، ممبئی اور دیگر مقامات کے معمولی فنکار بھی عوامی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے باعث شہرت کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں۔ حکومت، عوامی اداروں اور اردو تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حیدرآبادی فنکاروں کی پذیرائی کرے تاکہ وہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے شائقین ادب کو محظوظ کرسکے۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ معراج صوفی ایک بہترین فنکار ہے اور اُنھیں اُن کا مستحقہ مقام ملنا چاہئے۔ انھوں نے اس موقع پر اعلان کیاکہ معراج صوفی کے صوفیانہ کلام کو پیش کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر ایک پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ اس موقع پر سید افتخار حسین سکریٹری فیض عام ٹرسٹ، کبیر صدیقی صدر اُردو عالمی فاؤنڈیشن، آسام رام جی، محمد حنیف علی، راشد علی خان، محترمہ تسنیم جوہر، شفیع ماسٹر موجود تھے۔ جناب خسرو شاہ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ جناب احمد صدیقی مکیش آرگنائزر، جناب انوپ کمار واگھرے پروموٹر نے خیرمقدم کیا۔ جناب زاہد علی خان نے معراج صوفی اور اُن کے ہمنواؤں شمیم احمد خان (ہارمونیم) ، کرن (کی بورڈ)، سید عثمان (طبلہ) کی گلپوشی کی اور شال اوڑھاکر تہنیت پیش کی۔ معراج صوفی نے اس خوبصورت اور یادگار شام کا آغاز حمدیہ کلام سے کیا۔ اور اپنی درد انگیز پُرسوز آواز میں دعائیہ اشعار بھی پیش کئے جس کو سن کر کئی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس کے بعد انھوں نے نعتیہ کلام پیش کرکے روحانی سماع باندھ دیا۔ نعتیہ کلام کی پیشکشی کے روح رواں جناب زاہد علی خان نے اُنھیں نعت رسول کے اس شعر کو مکرر سنانے کی فرمائش کی۔ ’’نور بشر کہئے یا نور خدا کہئے الفاظ نہیں ملتے سرکار کو کیا کہئے‘‘۔ اس فرمائش کا احترام کرتے ہوئے معراج صوفی نے الگ الگ لحن اور انداز میں اس شعر کو گاکر رقت پیدا کردی اور سامعین سے داد تحسین حاصل کی۔ سامعین نے اس پروگرام کی پیشکشی پر مسرس احمد صدیقی مکیش، پروموٹر انوپ کمار واگھرے اور کنوینر خسرو شاہ کو حضرت امیر خسروؒ ، سنگیت اکیڈیمی کی دلنواز پیشکش پر مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے ڈاکٹر بشیر بدر کا یہ شعر اپنے مخصوص ترنم میں ساز پر سنایا کہ ’’سینکڑوں درد مند ملتے ہیں ، کام کے لوگ چند ملتے ہیں ۔ جب مصیبت کا وقت آتا ہے سب کے دروازے بند ملتے ہیں‘‘۔ اس کے بعد ایک ایک کرکے معراج صوفی نامور شعراء کا کلام پیش کیا اور اس شام غزل کو اپنی آواز کے جادو سے گرمادیا۔ ہر طرف سبحان اللہ اور واہ واہ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ مسلسل تین گھنٹوں تک انھوں نے غزلیات سناکر سامعین میں ایک رقت کی کیفیت پیدا کردی۔ لوگ اُنھیں بار بار سننے کی فرمائش کرتے رہے۔ پروگرام کے آخر میں معراج صوفی نے ’’دمادم مست قلندر‘‘ گاکر رونا لیلیٰ کی یاد تازہ کردی اور تالیوں کی گونج میں اس حسین پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔ کنوینر خسرو شاہ نے آخر میں ادارہ سیاست خاص طور پر جناب زاہد علی خان کا شکریہ ادا کیا اور دیگر مہمانان خصوصی کی حوصلہ افزائی پر ممنونیت کا اظہار کیا۔ سامعین کی شرکت کے شکریہ پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT