Wednesday , December 19 2018

حیدرآباد انٹلیکچول شہر، آئی ٹی کے مرکز کی حیثیت سے بین الاقوامی سطح پر شناخت

حیدرآباد۔/13ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹکنالوجی روی شنکر پرساد سے اپیل کی کہ حیدرآباد میں انفارمیشن ٹکنالوجی انوسٹمنٹ ریجن (ITIR) کے قیام کیلئے 165کروڑ روپئے منظور کرے۔ مرکزی وزیر نے آج سکریٹریٹ میں چیف منسٹر سے ملاقات کی اور تلنگانہ میں انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی اور مختلف پراج

حیدرآباد۔/13ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹکنالوجی روی شنکر پرساد سے اپیل کی کہ حیدرآباد میں انفارمیشن ٹکنالوجی انوسٹمنٹ ریجن (ITIR) کے قیام کیلئے 165کروڑ روپئے منظور کرے۔ مرکزی وزیر نے آج سکریٹریٹ میں چیف منسٹر سے ملاقات کی اور تلنگانہ میں انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی اور مختلف پراجکٹس پر تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے انفارمیشن ٹکنالوجی انوسٹمنٹ ریجن کیلئے پہلے مرحلہ میں 165کروڑ کی منظوری کی خواہش کی اور کہا کہ اس پراجکٹ کی تکمیل تک مرکز کو مزید تعاون فراہم کرنا چاہیئے۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ اس سلسلہ میں ان کی وزارت کو باقاعدہ درخواست پیش کریں۔ آئی ٹی آئی آر کے قیام کا مقصد انفارمیشن ٹکنالوجی اور اس سے مربوط شعبوں اور الکٹرانک ہارڈویر سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ حکومت نے حیدرآباد اور اس کے اطراف اس پراجکٹ کیلئے 49913ایکر اراضی کی نشاندہی کی ہے جو 202مربع کلو میٹر پر محیط ہوگی۔ انفارمیشن ٹکنالوجی انوسٹمنٹ ریجن میں مختلف کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے ذریعہ یونٹس کے قیام کی اجازت دی جائے گی جس سے تلنگانہ میں روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ تلنگانہ حکومت سرمایہ کاری کے خواہاں کمپنیوں کو مختلف مراعات دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس پراجکٹ کی تکمیل سے توقع کی جارہی ہے کہ 2لاکھ 19ہزار 440کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوگی جس میں آئی ٹی اور اس سے مربوط شعبوں میں ایک لاکھ18ہزار 355 اور الیکٹرانک ہارڈ ویر مینوفیکچرنگ شعبہ میں ایک لاکھ ایک ہزار 85کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے مرکزی وزیر سے کہا کہ حیدرآباد میں پہلے ہی سے موجود انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق کمپنیاں اپنے پراجکٹس میں توسیع کی خواہاں ہیں اور وہ حکومت سے زائد سہولتوں کی امید وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم، صحت کے شعبوں میں بھی آئی ٹی آئی آر میں سرمایہ کاری کی امید کی جارہی ہے۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے حیدرآباد کو سرمایہ کاری کیلئے موزوں مقام قرار دیا اور کہا کہ حیدرآباد مختلف زاویوں سے شاندار شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی نئی صنعتی پالیسی کی بھی ستائش کی۔ مرکزی وزیر نے ریاست کی ترقی میں مرکز سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ مرکزی وزیر نے حیدرآباد کو انٹلکچول شہر قرار دیا اور کہا کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی شناخت انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکز کی حیثیت سے ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ آئی ٹی آئی آر کیلئے شہر اور اطراف میں جن اراضیات کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں سائبرآباد ڈیولپمنٹ اتھاریٹی گچی باؤلی، میاں پور، حیدرآباد ایر پورٹ ڈیولپمنٹ اتھاریٹی، مامیڈی پلی، رویریال، آدی بٹلہ، مہیشورم، اوپل اور پوچارم علاقے شامل ہیں۔ مرکزی حکومت سے بیرونی انفراسٹرکچر کے طور پر پہلے مرحلہ میں 942کروڑ اور دوسرے مرحلہ میں 3921 کروڑ روپئے کی امداد کی اپیل کی گئی اور مرکز نے پہلے مرحلہ میں 165اور دوسرے مرحلہ میں 3110کروڑ روپئے کی منظوری دی ہے۔ چیف منسٹر نے مرکزی وزیر کو بتایا کہ حکومت نے نئی صنعتی پالیسی تیار کی ہے اور اس کی تفصیلات مرکزی وزیر کے حوالہ کی گئیں۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بتایا کہ ان کی وزارت نے تلنگانہ کیلئے پوسٹل سرکل کو منظوری دی ہے اور اس کیلئے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل کا عہدہ منظور کیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ، چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما اور دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT