Wednesday , December 12 2018

حیدرآباد اور مضافات کے تالاب ناجائز قبضہ کا شکار

تعمیرات کا سلسلہ جاری، مشن کاکتیہ اسکیم خواب غفلت میں

حیدرآباد۔17ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ تالابوں کے تحفظ کے سلسلہ میں لاکھوں کروڑ روپئے خرچ کرنے کے اعلانات کر رہی ہے لیکن شہری حدود میں تالابوں پر جاری غیر مجاز تعمیرات کو رکوانے میں دکھائی جانے والی عدم دلچسپی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر حیدرآباد اور نواحی علاقوں کے تالابوں کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں موجود تالابوںکے تحفظ اور ان کی بازیافت کے لئے حکومت کی جانب سے مشنکاکتیہچلایاجارہا ہے لیکن اس اسکیم کا حیدرآباد سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ شہر اور شہر کے اطراف موجود تالابوں کے تحفظ کے سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود بھی حکومت اور محکمہ آبپاشی کے علاوہ حیدرآباد میٹروپولیٹین اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے جس کے سبب تالابوں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے ذمہ داروں کو عدالت سے رجوع ہونا پڑ رہاہے۔ محترمہ لبنی ثروت نے بتایا کہ ریاست میں حکومت کی جانب سے شروع کئے جانے والے پروگرام سے ایسا محسوس ہورہاتھا کہ اس منصوبہ کے تحت حکومت کی اس اسکیم کے ذریعہ ریاست کے تالابوں کا تحفظ ممکن ہوگا لیکن اسکیم کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدودو میں شامل 179تالاب اس اسکیم میں شامل نہیں ہیں اور ان تالابو ںکی نگرانی ریاستی محکمہ بلدی نظم ونسق کے تحت ہے ۔ شہر اور شہر کے اطراف موجود کئی تالاب جن میں بنجارہ تالاب‘ یاپرال تالاب‘ ابراہیم تالاب‘ ملکم تالاب‘ شاہ حاتم تالاب‘ جمالی کنٹہ‘ نیا قلعہ تالاب اور دیگر تالابوں کی تباہی پر حکومت اور محکمہ جات کی خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت ان تالابوں کی تباہی کیلئے سرپرستی کر رہی ہے۔ محترمہ لبنی ثروت نے بتایا کہ شہر کے مرکزی سیاحتی و تفریحی مقامات حسین ساگر تالاب کی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور اس پر بھی حکومت کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی ہے بلکہ حسین ساگر میں تالاب کا پانی تیزی سے آلودہ ہونے لگا ہے اور صنعتی اداروں سے خارج ہونے والی آلودگی حسین ساگر کے پانی کو آلودہ کر رہی ہے۔
لیکن اس کے باوجود بھی کوئی کاروائی نہ کئے جانے کے سبب پانی انتہائی آلودہ ہو چکا ہے۔ یاپرال تالاب پر کئے جانے والے ناجاز قبضہ کے خلاف محترمہ لبنی ثروت نے بتایا کہ نقشہ میں موجود تالاب کے شکم کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ جاتی عہدیداروں کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی کو دیکھتے ہوئے مقامی عوام نے یاپرال تالاب بچاؤ جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم کی ہے۔ اسی طرح شہر کے کئی تالابوں کی تباہ کن صورتحال کے باوجود بھی حکومت اور متعلقہ محکمہ جات خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT