Monday , November 20 2017
Home / مضامین / ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ سید محی الدین احمد قادری

’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ سید محی الدین احمد قادری

محبوب خان اصغر
بلاشبہ عصر حاضر میں انسانی فکر کی بلندی اور سوجھ بوجھ عروج پر ہے۔ فکر کی اتنی بلندی اور اعلیٰ عقل کسی بھی عہد میں دیکھنے میں نہیں آئی۔ ادب، سائنس، طب اور ٹیکنالوجی بتدریج ارتقاء پذیر ہیں اور اس کا فائدہ تمام انسانیت کو حاصل ہوا ہے۔ مگر غور طلب بات یہ ہے کہ آج انسان اکیلا ہوگیا ہے۔ تنہائی اس کے اندر پَر پھیلارہی ہے ۔ ظاہر میں ہجوم اور باطن میں اکیلا پن ہے۔ اضطراب ، بے چینی ، بے اطمینانی اور سکون قلب مفقود ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم مادی آسائشوں میں سکون کے متلاشی ہیں۔ جبکہ سکون الہامی صحیفہ کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کو جاننے اور ان پر عمل کرنے سے ملتا ہے۔ جی ہاں۔ ان حقائق کا بے محابہ اظہار جناب سید محی الدین قادری المعروف جناب حامد قادری فرمارہے تھے۔
آپ 1943 ء میں سید محمد مرتضیٰ قادری المعروف برکات پاشاہ مرحوم و مغفور کے گھر پیدا ہوئے۔ 72 سالہ جناب حامد قادری کا طرز کلام طرب انگیز ہے۔ نہایت سلجھے ہوئے انداز میں ٹھہر ٹھہر کے گفتگو کررہے تھے۔ نہایت متشرع اور دین دار خانوادے سے تعلق ہے اور آپ کا سلسلۂ نسب نہایت ولی کامل، زاہد و عابد حضرت افضل بیابانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے۔ ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ کے موضوع کے حوالے سے ہمیں ان سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا۔ ہمارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ دین اسلام میں ظاہری اخلاق کو سنوارنے کی تعلیم کے ساتھ باطن کی پاکیزگی کی تعلیم و تربیت دی گئی ہے۔ نفس اور شیطان باطنی دشمن ہیں جو اللہ سے بندوں کو دور کرتے ہیں۔ خانقاہی نظام، صوفی ازم اور طریقت وغیرہ میں اس بات کی تعلیم دی جاتی ہے کہ ان دشمنوں سے کیسے بچا جائے۔ لذات کی دھول سے قلب کو کیسے منور کیا جائے۔ اس سمت میں خانقاہوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ یہاں اعمال صالحہ کے ذریعہ قلوب کی تطہیر اور پاکیزگی کے لئے رہنمائی کی جاتی ہے۔

انھوں نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ نظام تو وہی ہے جو چودہ سو سال پہلے تھا۔ ’’رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی‘‘ کے مصداق آج بھی وہی نظام رائج ہے۔ مگر تقویٰ اور پرہیزگاری نہیں رہی۔ اسلاف کے راستوں پر چلنے والے کم ہوتے جارہے ہیں۔ مجاہدہ اور تزکیۂ نفس جیسی سخت ترین وادیوں سے گزرنے کا حوصلہ نہیں رہا۔ مادیت پرستی کا بول بالا ہے۔ انھوں نے کہاکہ پیری مرشدی کو عملیات سے جوڑا جاتا ہے ایسے پاکیزہ راستے کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نصب العین صرف یہ ہوتا ہے کہ بندوں کو خدا کے راستے سے ملایا جائے۔ مقاصد اور نصب العین میں دنیاداری پہلے شامل نہیں تھی۔ علم، راستہ، تعلیم وہی ایک ہے فرق صرف لوگوں میں آگیا ہے۔  قطب شاہی اور آصف جاہی عہد کے بزرگانِ دین اور ان کی خانقاہیں ہر عام و خاص کی تربیت کیلئے مشہور تھیں۔ حضرت بابا شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ، حضرت برہنہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرات یوسفین رحمۃ اللہ علیھما، حضرت جہانگیر پیراں اور حضرت حسین شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ کے آستانے علم و معرفت کے سرچشمے تھے۔
جناب پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے ہم عصروں نے چشتیہ طریقہ، رفاہی طریقہ، قادریہ طریقہ، نقشبندیہ طریقہ اختیار کیا۔ کسی بھی طریقے پر نکتہ چینی سے اجتناب کرتے تھے۔ اپنی خانقاہوں میں قیام و طعام اور مفت تعلیم کا معقول نظم رکھتے تھے اور انسانوں کو بہترین سانچے میں ڈھالا کرتے تھے۔ انھوں نے انسان اور مسلمان کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ انسانیت درحقیقت اسلام ہے اور اسلام دراصل انسانیت ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے اس قدر مربوط ہیں کہ انہیں الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بادی النظر میں ایک سچا مسلمان وہی ہے جو ایک اچھا انسان ہے۔ ایک خراب انسان سچا مسلمان بن نہیں سکتا۔ انھوں نے اپنے عہد کے سجادہ نشینوں اور قضاء ۃ وغیرہ کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہاکہ خانقاہیت کو اور صوفی ازم کو آگے بڑھانے اور پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہر اعتبار سے ہمارے ملک کا بالخصوص ہمارے شہر کا ماضی بڑا ہی سنہرا اور روشن رہا ہے۔ آستانے اور خانقاہیں تو تمام مذاہب اور تمام فرقے کے لوگوں کے لئے قابل قبول ہوا کرتی تھیں۔ اب بھی ہیں۔ انھوں نے دو ٹوک انداز میں کہاکہ خانقاہی نظام مشکل ترین دور سے گزر کر نکلا ہے۔ ضرورت ہے کہ آج اس کو سنبھال لیا جائے۔ انھوں نے اس نظام سے متعلق کہاکہ یہ ایک بہترین یونیورسٹی کے مماثل ہے۔ جناب پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے ہمعصر بزرگانِ دین کی حیثیت عالم جیسی ہے جنھوں نے سینکڑوں لوگوں کو اپنے علم و آگہی سے منور کیا اور بے ثبات زندگی کی محبت کو دلوں سے نکال کر فکرِ آخرت پیدا کی۔ غرض کہ حیدرآباد دکن کی تہذیب اور یہاں کی ثقافتی زندگی دنیا بھر میں مثالی ہے۔ قدیم رنگ میں ڈوبا ہوا یہ شہر اپنی تاریخی عمارات کے سبب بھی شہرت رکھتا ہے۔ اس کی عظمتوں سے متعلق تحریریں اور نگارشات آج بھی محفوظ و مامون ہیں۔ آنے والی نسلیں کتابوں کی معرفت اس شہر کی عظیم داستان سے واقف ہونگی۔ یہاں کا تخلیقی شعور، یہاں کے ماہرین لسانیات، محققین اور مترجمین نے ادب کے حوالے سے اتنا کچھ سرمایہ چھوڑا ہے کہ گم گشتہ تہذیب اب صرف کتابوں میں مل سکتی ہے۔ اکتساب و اکتشاف شرط اول ہے۔ دوسری شرط اردو زبان و ادب سے واقفیت ہے۔

جامعہ عثمانیہ کے حوالے سے انھوں نے اردو کو سرکاری اور علمی سطح پر اعلیٰ مقام دیئے جانے پر سلطان العلوم اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس جامعہ کے فارغ التحصیل طلباء کو باہر کی جامعات نے بھی اہمیت دی جس سے جامعہ عثمانیہ کے مقام اور مرتبے کی شان ظاہر ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ رابندر ناتھ ٹیگور نے بھی اپنی یونیورسٹی قائم کی تھی جس میں مختلف علوم کے ماہرین درس دیا کرتے تھے۔ مذہبی تعلیمات، دنیوی نصاب کے علاوہ پینٹنگ بھی سکھائی جاتی تھی۔ اساتذہ اور طلباء پابند ڈسپلن ہوا کرتے تھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی دختر محترمہ اندرا گاندھی کو روانہ کیا تھا۔ غالباً مہاتما گاندھی نے بھی کچھ اس سمت میں پیش رفت کی تھی مگر وہ ناکام رہے۔ مادری زبان کے ساتھ جو یونیورسٹی پیدا ہوئی وہ جامعہ عثمانیہ تھی۔ اعلیٰ حضرت بندگانِ عالی کا خزانہ ضرورت مندوں کیلئے بیت المال کا درجہ رکھتا تھا اور ضرورت مندوں میں بلا تفریق مذہب و ملت سب ہی ہوا کرتے تھے۔ ریاست حیدرآباد کے استحکام کیلئے اعلیٰ حضرت نے جو عدیم المثال خدمات سر انجام دیں اس پر پیشرو حضرات نے اظہار خیال کیا ہے جس کے بعد آپ کی داد و دہش کے قصوں کو دہرانا یہاں ضروری نہیں ہے! لیکن اتنا ضرور ہے کہ مذکورہ شخصیتوں نے اعلیٰ حضرت کے کام کو سراہتے ہوئے انھیں خطوط لکھے جس میں یہ واضح طور پر اقرار کیا گیا تھا کہ کسی بھی جامعہ کی کشادگی اور اُسے متحرک رکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ جہاں ہم شکست سے دوچار ہوئے وہیں پر آپ کامیاب ہوگئے۔ انھوں نے اس بات کا انکشاف کیاکہ جامعہ عثمانیہ سے متصل گوشۂ عثمانیہ عابد علی خاں مرحوم نے بنوایا تھا جہاں سارے خطوط محفوظ ہیں۔
مخدوم محی الدین کو ہم مخدوم چچا کہتے تھے۔ جامعہ عثمانیہ میں مخدوم، میرے بابا (والد) اور ابّا (یعنی جناب عابد علی خاں صاحب جو میرے خسر بھی تھے) آپس میں بہت بے تکلف تھے۔ مراسم بھی گہرے اور اٹوٹ تھے۔ وہ بہت ہی سنہرا دور تھا۔ مخدوم چچا جہاں موجود ہوتے وہاں خوش دلی کی لہریں فضاء میں پھیل جایا کرتی تھیں۔ مخدوم چچا ایک ایسے شاعر تھے جنھیں حیات میں بھی عزت بخشی گئی اور وفات کے بعد بھی وہ اور ان کا کلام قابل قدر ہے۔ اس زمانے میں میرے ماموں معین عالم آئی اے ایس ان کے ارد گرد منڈلایا کرتے تھے۔ کامریڈ مخدوم جب Underground ہوتے ، تو حلیہ بدل کے مخدوم چچا اور ان کے حواریوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ عابد منزل اور دفتر سیاست ان کی اپنی منزل اور ان کا اپنا دفتر تھا۔ انھوں نے ایک جلسے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مخدوم چچا کو مومنٹوز پیش کئے گئے تھے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا تھا۔ شنکرا بائی جو عمدہ گائیکہ تھیں نے غزلیں پیش کرکے سماں باندھا تھا۔ انھوں نے کہاکہ شنکرا بائی اگر ممبئی میں مقیم ہوتیں تو بیگم اختر کو ٹکر دیتیں۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر زینت ساجدہ نے مضمون پڑھا تھا اور ازراہِ تفنن یہ کہا تھا کہ ’’اس جلسے کو تعزیتی جلسہ گردانا جائے۔ کیا پتہ بعد از وفات انھیں کوئی پوچھنے والا ہوگا بھی کہ نہیں‘‘۔ سامعین قہقہہ بردوش تھے اور جلسہ یادگار ہوگیا۔ قدیم ادبی محفلوں کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے جناب حامد قادری نے ان چٹکلوں اور پھلجھڑیوں کو یاد کیا جو شعراء اور ادیبوں کے مابین اکثر و بیشتر ہوا کرتے تھے جن میں ادب کی چاندنی ہوا کرتی تھی۔ ہر طرح کی کدورتوں سے قلوب صاف ہوا کرتے تھے اور ایک دوسرے کا اکرام و تعظیم کا بہرحال خیال رکھا جاتا تھا۔

انھوں نے ادبی ٹرسٹ اور شنکر جی جیسے کل ہند مشاعروں کی یاد کو اپنی گفتگو کا موضوع بناتے ہوئے بتایا کہ ان مشاعروں میں ملک گیر شہرت کے حامل شعراء شرکت فرماتے تھے۔ مرحوم عابد علی خاں ادبی اور سیاسی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کا خط کسی شاعر کو ملتا تو پھر اُس کے لئے انکار کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہتی تھی۔ فیض، مخدوم، مینا کماری، علی سردار جعفری، جاں نثار اختر، کیفی اعظمی، گلزار، سکندر علی وجدؔ، بیکل اتساہی اور حضرت خمار بارہ بنکوی جیسے سخنوروں کی ان محفلوں میں شرکت سے ایک خوشگوار فضاء بنتی تھی۔ حضرت خمار تو کئی کئی روز تک حیدرآباد میں قیام کرتے تھے۔ وہ بڑے ہی پرخلوص انسان تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی شادی میں بیکل اتساہی صاحب نے وداعی لکھا تھا۔ ممکن ہے اس کی نقل مدیر اعلیٰ سیاست جناب زاہد علی خان کے ہاں محفوظ ہو۔ کچھ عرصہ بعد عابد علی خاں صاحب کے نام حضرت بیکل نے خط لکھا اور اپنی علالت سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے گذارش کی تھی کہ ان کی صاحبزادی کا عقد طے ہوا ہے۔ وداعی کی کاپی روانہ کریں۔ عابد صاحب نے بیکل صاحب کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی خواہش کو پورا کیا اور حضرت بیکل کی دختر کی وداعی کے موقع پر وہی سہرہ پڑھا گیا تھا جوکہ عابد صاحب کی دختر یعنی میری اہلیہ کی وداعی کے موقع پر پڑھا گیا تھا۔ بیرون حیدرآباد کی  کوئی ایسی شخصیت نہیں تھی جو حیدرآباد آئے اور عابد منزل کو نہ آئے۔ مہمان کو بناء کھانا کھلائے رخصت ہی نہیں کرتے تھے نیز ان کی دلچسپی کے لئے ادبی محافل اور قوالیاں پروگرام کئے جاتے تھے۔ عزیز احمد خاں وارثی، وٹھل راؤ اور حمایت اللہ صاحب، اپنے ایٹم پیش کرکے محفل کو یادگار بنایا کرتے تھے۔ انھوں نے ایک مشاعرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سکندر علی وجدؔ کو مشاعرہ جمانے میں تکلیف ہوتی تھی اور جہاں عام سامعین اور پھر ان میں شریر سامعین ہوں ان کیلئے مشکل اور بڑھ جاتی تھی البتہ اپنے ہمعصروں میں وہ جم جایا کرتے تھے۔ اس مشاعرے میں غیر موسمی بارش ہوگئی تھی اور مشاعرہ ملتوی کرکے دوسرے دن رکھا گیا تھا۔ شعراء وہی تھے اور ٹکٹ بھی وہی۔ سامعین نے ہوٹنگ کردی۔ وجد نے کہا ’’میں اپنے ساتھیوں کو سنانے آیا ہوں۔ آپ کو نہیں‘‘۔ اور انھوں نے سامعین کی جانب اپنی پیٹھ کردی۔ اور چہرہ ڈائس پر تشریف فرما اپنے دوستوں کی طرف کردیا۔ حامد قادری نے ایک اور واقعہ مذکور کیاکہ اشفاق حسین دکن کا خاص منظر دکھانے والوں کے سردار تھے۔ جگر صاحب اور عابد صاحب کے رفقاء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ انتہائی شریر قسم کے ساتھی تھے۔ ڈائرکٹر آل انڈیا ریڈیو تھے۔ اس زمانے میں اختر کی ڈائری خواتین پڑھتی تھیں تو متاثر ہوتی تھیں۔ وہ زبان اور دماغ کے شہنشاہ تھے۔ اہل قلم بھی تھے۔ وہ جب آئینہ میں اپنا سراپا دیکھتے تو برہم ہوجایا کرتے تھے کہ ماں نے انھیں ایسا کیوں پیدا کیا۔ انھوں نے اپنے ایک دوست کے انتقال پر وجدؔ کو خط لکھا کہ ’’جناب وجد۔ اب میں یاروں کی جدائی کو برداشت نہیں کرسکتا۔ تم اپنی صحت کا خیال رکھنا‘‘۔ وجد کو اس چھیڑ چھاڑ پر غصہ آیا تھا۔ وجد اورنگ آباد کے ایم پی بھی تھے مگر عثمانین تھے اُس زمانے میں اورنگ آباد بھی حیدرآباد کا جز تھا۔

انھوں نے قدیم دواخانوں اور اطباء سے متعلق کہاکہ اُس زمانے کے دواخانے انسانوں کے لئے ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر انسانیت کے جذبات سے سرشار تھے، وارڈ بائے انسان تھے۔ ستھرائی کا حد درجہ خیال رکھا جاتا تھا، چادریں بدلی جاتی تھیں۔ اگر دس Paying وارڈ تھے تو دس مریض ہی شریک کئے جاتے تھے۔ چار سو مریضوں کے لئے جو دواخانہ تھا اب بارہ سو کو چھو رہا ہے۔ لفٹ دائیں بائیں ہل رہی ہے۔ نئے بلاک میں پانی ٹپک رہا ہے جس کی وجہ سے دیواروں پر کائی اُبھر آئی ہے جو انفیکشن پھیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ خودرو پودے عمارت کی خوبصورتی کو کم کررہے ہیں۔ اگ رہا ہے در و دیوار پر سبزہ غالبؔ ۔ ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے۔ انھوں نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ کیا برطانیہ کی ملکہ کا محل قدیم نہیں ہے۔ مگر اس کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ہم بھی اپنی تاریخی عمارتوں، محلوں اور دوسری باقیات کی حسب ضرورت تزئین کی فکر کرسکتے ہیں۔ انھوں نے مہدی نواز جنگ کی رہائش کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سات یا دس نمبر کی سڑک پر واقع تھی۔ ان کی حویلی قیمتی پتھروں سے بنی ہوئی تھی جس کے اطراف قدرتی پہاڑ اور پتھر تھے۔ اس سے زیادہ ہیرٹیج والی عمارت کوئی اور نہیں تھی۔ نواب مہدی نواز جنگ ایک اہم ترین محلے بنجارہ ہلز کے بانی ہیں اور اس کے ویل پلانر ہیں۔ ان کی حویلی ایک تہذیب کی نمائندہ تھی اب وہ کہیں گم ہوگئی ہے۔ انھوں نے کہاکہ یوسف ٹیکری پر چڑھتے تو اللہ یاد آتا ہے۔ لکڑی کا فلور ہے، چلنے لگو تو عمارت لرزنے لگتی ہے۔ بوسیدگی کی وجہ سے ٹوٹ جائے تو جان چلی جائے۔ زندہ قوم وہ ہے جو اپنے ماضی کو زندہ رکھتی ہے۔ لندن میں قدیم قبرستان ہے وہاں مرحوم کے نام، پیدائش، وفات اور وجۂ وفات کی تفصیلات درج ہیں اور ہم اپنے قبرستانوں، درگاہوں اور خانقاہوں کا تحفظ نہیں کرسکتے۔ اعلیٰ حضرت سخی تھے مگر کم خرچ تھے، فضول خرچی کو پسند نہیں کیا مگر اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی نہیں کی۔ شرفائے حیدرآباد کے بچوں کیلئے مکانات بنواکر ان کے قیام، طعام اور لباس کا بندوبست کرنا وہ ضروری سمجھتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ سکریٹریٹ کو منتقل کئے جانے کی بات چل رہی تھی۔ اس وقت کے چیف منسٹر برہمانند ریڈی تھے ۔ ان کے اس فیصلہ پر مخدوم محی الدین نے احتجاج کیا کہ پرانے شہر کے باشندوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے مرن برت رکھا تھا۔ پانی کا ایک قطرہ بھی انھوں نے قبول نہیں کیا۔ یہاں تک کہ پیشاب میں خون Urinary Blood آنا شروع ہوگیا تھا۔ آج کا مرن برت صرف دکھاوا ہے۔ عوامی مسائل سے زیادہ اپنی کرسی اور امیج کی فکر ہوا کرتی ہے۔ انھوں نے متضاد تبدیلیوں کے اس دور میں قومی اور مقامی سطحوں پر قدیم روایتوں کو ازسرنو زندہ کرنے کے ساتھ سیاسی اور سماجی افکار کے نئے گوشوں کا بھی استقبال کیا اور کہاکہ مذہب اور سیاست کے نام پر انسانی دلوں کو منقسم کرنا ایک بہت ہی خطرناک رجحان ہے!

TOPPOPULARRECENT