Thursday , December 14 2017
Home / مضامین / حیدرآباد جو کل تھا میر امجد علی

حیدرآباد جو کل تھا میر امجد علی

محبوب خاں اصغر
پچھلے دنوں جناب میر امجد علی صاحب روزنامہ سیاست کے اسٹوڈیو میں ہماری دعوت پر تشریف لائے تھے گو کہ وہ نصف صدی سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہیں اور وہاں کی شہریت بھی رکھتے ہیں مگر ان کی اولین شناخت حیدرآباد دکن سے ہے۔ وہ دکن ہی میں تولد ہوئے۔ ان کے آباو اجداد بھی اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں اور یہیں ییوند خاک ہوئے۔ اپنی جائے پیدائش سے انسیت اور لگائو ایک فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی ایک برس بعد تو کبھی دو برس بعد دکن آتے ہیں اور اپنا وقت یہاں گزارکر تسکین پاتے ہیں۔ یوں بھی جہاں آنول گڑھی ہوتی ہے انسان وہاں واپس آتا ہی ہے۔
ملک کی موجودہ صورتحال سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ٹکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے رہن سہن کا ڈھنگ ہی بدل دیا ہے۔ نت نئی ایجادوں اور جدید ٹیکنیک کے تعاقب میں ہم سرخرو ہوگئے۔ موبائیل کلچر اور لیپ ٹاپ کا چلن معاشرے میں کچھ یوں سرایت کرگیا ہے کہ عقل حیران ہے۔ ساتھ ہی بڑی عمر کے لوگوں کو اس بات کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ آیا ایک مہذب معاشرہ اور اس معاشرے میں رہنے والے لوگ ارتقاء کے نام پر اپنے اسلاف اپنے اقدار کو اور اپنی معاشرتی زندگی کو فراموش نہ کر بیٹھیں۔ انہوں نے ملکی سطح پر جو روتغلب اور ایک دوسرے کو زیر و زبر کئے جانے پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ طرز عمل سکون اور اطمینان کا قاتل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قدیم لوگوں میں حاجت روائی کا جو جذبہ دیکھا جاتا تھا اب وہ خال خال ہی کسی میں دکھائی دیتا ہے۔ اچھے اور مثبت پہلوئوں کے حامل لوگ کثرت سے پائے جاتے تھے اور یہ اوصاف تفریق کو مٹاتے تھے۔ آج برے اور منفی پہلو رکھنے والوں کی بہتات ہے جو کہ فاصلے بڑھانے والے ہیں۔ ایسے لوگوں کی وجہ ہی سے آج انسانیت زخموں سے چور اور لہولہان ہے۔ نئے تجربات اور نئے معیارات نے معاشرے میں ایک قسم کی گھٹن اور حبس پیدا کردیا ہے۔ اپنے بزرگوں کی ہر بات کو دقیانوسی کہہ کر ان کاتمسخر اڑایا جاتا ہے۔ یہ بداخلاقی کی مثالیں ہیں جو سراسر جدید تہذیب کی دین ہیں اور یہی جدید تہذیب ایک طویل تاریخی آن بان اور شان کو مسخ کرنے پر مائل ہے۔

میر امجد علی 18 اگست 1938ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر حامد علی محکمہ گروڑ گیری میں ملارم تھے۔ دادا میر حسن علی بیدر میں جنگلات کے ٹھیکیدار تھے جبکہ نانا عبدالقادر وکیل تھے۔ ان کا تعلق سالار جنگ کی جاگیر سے تھا جو کہ کپل میں واقع تھی۔ بیرسٹر اکبر علی خاں سے ان کے روابط بہت گہرے تھے۔ ان ہی کے دفتر میں کام کرتے تھے جو کہ نامپلی روڈ پر واقع تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ صرف تین برس کے تھے کہ والدہ محترمہ اللہ کو پیاری ہوگئیں مگر نانی صاحبہ نے انہیں ماں کی کمی محسوس ہونے نہیں دی۔ ان کے ماموئوں نے ان کی نگہداشت کی۔ سید ابوالفضل شعبہ عربی جامعہ ثمانیہ کے ہیڈ تھے۔ سید ابوالعارف حیدر سیول سرویس کے گولڈ میڈلسٹ تھے اور سید ابوطالب نے عثمانیہ ہاسپٹل سے ایم بی بی ایس کیا تھا۔ تین انتہائی قابل ماموئوں کی نگرانی میں انہوں نے اپنی زندگی کا سفر طے کیا ہے۔
اپنی ابتدائی تعلیم سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ان کے دادا مرحوم نے انہیں گھر پر اس حد تک پڑھایا تھا کہ ان کا داخلہ بآسانی پنجم میں ہوگیا۔ گدوال میں ایک سرکاری مدرسہ تھا اور والد کا تبادلہ بھی وہیں ہوا تھا چنانچہ انہیں وہیں شریک کیا گیا۔ نامپلی ہائی اسکول میں بھی انہوں نے تعلیم حاصل کی۔
سنہ 1948 ء کی تباہ کاریوں سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اگر چہ کہ وہ ہارس برس کے تھے مگر ان کی آنکھوں میں وہ ہولناک مناظر مقید ہوکر رہ گئے ہیں۔ کئی برس تک ان کی دادی صاحبہ پولیس ایکشن کے واقعات کو یاد کرکے زار و قطار رویا کرتی تھیں۔ ہم نے اس وقت کی ہنگامہ خیزیوں کی بابت دریافت کرنے سے گریز کرتے ہوئے حیدرآباد کی منفرد تہذیب سے متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ عمر کے اس حصے میں پہونچ کر بھی ان کے ذہن پر مذہبی اور فرقہ وارانہ رواداری اور دونوں طبقوں کے مابین ملاپ اور اتحاد و اتفاق کے جذبات نقش ہیں۔ انہوں نے صراحت کی کہ آصف جاہی عہد میں خواہ وہ ابتدائی دور ہوکہ آخری دور۔ ہنود میں یہ احساس جاگزیں تھا کہ انہیں معاشی آسودگی حاصل ہے۔ انہیں معاشی اعتبار سے جو مراعات حاصل تھیں اس کے تئیں آج بھی اکثریت احسان مندی کے جذبات کا اظہار اکثر کیا کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جہاں مسلمان ملازمت پر قناعت کرتے تھے وہیں ہنود معیشت کے تمام ذرائع پر قابض تھے۔ زراعت، تجارت اور صنعت وحرفت ان ہی کے قبضے میں تھے مگر دوسرے فرقے کو کمتری کا احساس نہیں ہوتا تھا اور ہنود بھی اپنی برتری پر نازاں نہیں تھے۔ لوٹ، کھسوٹ، غنڈہ گردی تو آج کے مسئلے ہیں اور امن، چین پر خطروں کے بادل آج منڈلارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ معاشی ناکہ بندی کے سبب اچھے اور معقول چاول دستیاب نہیں تھے۔ مدراس (موجودہ نام چینائی) اور کیرالا سے ابلے ہوئے چاول درآمد ہوتے تھے جن میں سے کچھ ایسی بدبو آتی تھی کہ حلق سے نیچے اتارنا محال ہوتا تھا۔ پکنے کے بعد تو اور بھی بدمزدگی پیدا ہوجاتی تھی۔ کچھ سن رسیدہ خواتین مسالوں اور زعفران کے ذریعہ اس قابل بنانے کی سعی کرتیں کہ بآسانی کھایا جاسکے۔ مگر یہ ترکیب بھی فضول تھی۔ ہانڈی کا ڈھکن کھلتے ہی پھر وہی بدبو سرابھارتی اور نگلنا دشوار ہوجاتا۔ ان دنوں چاول کا استعمال یوں بھی کم کم ہی ہوتا تھا۔ ان کے ہاں بھی جو اور گیہوں کی روٹی بچے بڑے سبھی ذوق و شوق سے تناول فرماتے تھے۔ کچھ چاول کے شوقین ایسے بھی ہوتے تھے جو راشننگ کی دوکان سے گیہوں کے عوض چاول لینا پسند کرتے تھے۔ ایسے افراد کو وہ اپنے چاول دیدیتے اور بدلے میں ان کے حصے کی گیہوں حاصل کرلیتے تھے۔

میر امجد علی کے مطابق 1944 تا 1947ء دوسری جنگ عظیم اور اس کے اثرات سے بہت سی ریاستیں متاثر ہوئیں۔ ہوائی جہازوں کے گزرنے کی آواز سے لوگوں میں سراسیمگی بڑھ جاتی تھی۔ عام خیال یہ تھا کہ یہ ہوائی جہاز سراغ رساں ہوتے ہیں۔ کم عمر بچوں کو تخت اور پلنگ کے نیچے گھسادیا جاتا تھا۔ گھر کے پردے کھینچ دیئے جاتے تھے اور روشنی گل کردی جاتی تھی تاکہ دشمنوں کو آبادی کا اندازہ نہ ہوسکے۔
انہوں نے اپنے اساتذہ سے متعلق بتایا کہ خواجہ عبدالغنی نے طلباء کی کردار سازی کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا تھا۔ سٹی کالج کے پرنسپل رام لال صاحب کو بھی انہوں نے یاد فرمایا جو بعد میں پبلک انسٹرکٹر (Public Instructor) بھی رہے۔ انہوں نے 1953ء میں غیر ملکی گڑبڑ کا بھی ذکر کیا جس میں آنسو گیس وغیرہ کا استعمال کثرت سے ہوا تھا۔ اسکولوں اور کالجوں کے باب الداخلہ پر اساتذہ پہرہ دار کی طرح ایستادہ رہتے تاکہ حتی الامکان طلباء کسی بھی شر سے محفوظ رہ سکیں۔
اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں لب کشائی کی اور بتایا کہ جامعہ عثمانیہ کے انجینئرنگ شعبہ میں 1954ء میں داخلہ لیا۔ تین سالہ کورس تھا۔ ضیاء الدین انصاری پرنسپل تھے اور حسن چشتی ان کے پی اے (پرسنل اسسٹنٹ) تھے جو کہ اب شکاگو میں ہیں۔ سردست انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ انجینئرنگ میں داخلہ کے وقت ان کی عمر صرف سولہ برس تھی جو کہ ایک رکاوٹ تھی۔ داخلہ کی عمر سولہ سے متجاوز ہوناناگزیر تھا۔ انہوں نے پرسنپل ضیاء الدین انصاری پر اپنی کسمپرسی ظاہر کی تو وہ پسیج گئے اور انہیں داخلہ مل گیا۔ 1957ء میں انہیں انجینئرنگ کی سند مل گئی۔ معاً انہیں چیف انجینئر عثمان ساگر جعفر علی نے بطور معاون سو روپئے ماہانہ پر مقرر کرلیا۔ وہاں اس میدان کے نامی اگرامی انجینئروں مثلاً اقبال علی، بشیر علی، ولی قادری اور کوشل راج سکسینہ سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں اور تجربات حاصل ہوئے۔ 1962ء میں بمبئی آئی آئی ٹی سے ایم ٹیک (M.Tech) کیا اور معاون سے افسر بن گئے۔ دوران ملازمت انگریزی اور اردو کے رسائل کے ساتھ دوسری زبانوں کے جرنل (Journals) بھی ان کے زیر مطالعہ رہتے۔ بعدازاں انہوںنے تعلیم اور مطالعہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نئی نسل کی اس عمل سے دوری پر اپنی فکر مندی ظاہر کی اور کہا کہ اپنی برتری اور فکر کی بلندی کا راز اسی میں پنہاں ہے۔ تغیرات زمانہ سے خود کو ہمکنار ضرور کریں۔ نئے خیالات و نظریات بھی پیش نظر ہوں مگر پرانے نظریات بھی پاس خاطر رہیں۔
میر امجد علی نے اپنے عثمانین ہونے کو اپنی خوش بختی کہا اور جامعہ عثمانیہ کو حیدرااباد کی ناک سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جہاں حیدرآباد کا ذکر خیر آتا ہے وہیں جامعہ عثمانیہ کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے برسبیل تذکرہ اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع کی بابت بتایا کہ علیگڑھ میں جس طرح سرسید احمد خاں نے قوم کے صحیح مرض کو پہچانا تھا اور ناخواندگی کو دور کرنے کے لیے علیگڑھ کالج کی بنیاد رکھی تھی۔ اسی طرح اعلیٰ حضرت نے بھی حیدرآباد میں جامعہ عثمانیہ کے قیام سے یہی تاثر دیا کہ علم روشنی ہے اور جہالت تاریکی ہے۔ مسابقتی دور میں فلاح پانے اور اپنے آپ کو مسخر کرنے کے لیے تعلیم کی ازحد ضرورت ہے۔ اس نظریے کے تحت انہوں نے بھی حیدرآباد کو تعلیمی مرکز بنایا۔ یہاں کے فارغ التحصیل نے ساری دنیا میں اپنی برتری کو ثابت کیا ہے۔ جہاں میر امجد علی نے بھی یہاں کی تعلیم اور تجربات کی گھڑی باندھے برطانیہ کے لیے پابہ رکاب ہوئے تو حصول روزگار میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ صرف ہفتہ بھر میں برطانیہ کی ایک مشہور کمپنی نے انہیں انٹرویو کے لیے حکمنامہ جاری کیا۔ دو ڈائریکٹر انٹرویو روم میں بیٹھے تھے۔ کوئی اسناد نہیں دیکھے۔ صرف بات چیت کی بنیاد پر ان کا تقرر ہوجانا خود ان کے لیے ایک ناگہانی اعزاز تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جامعہ عثمانیہ کی تعلیم اور اپنے اساتذہ کا طریقۂ تدریس نے ان کے اندر تدقیق کی صفت پیدا کی ہے۔ انہو ںنے یہ انکشاف بھی کیا کہ برطانیہ کی جس کمپنی میں ان کا تقرر ہوا تھا وہاں انہوںنے ایک ایسا فارمولہ تیار کیا جس کی رو سے بلڈنگ مٹیریل تیار ہوتا تھا اور جو اسبسطاس (Asbestos) کا متبادل تھا۔ ان کے مطابق اسبسطاس شش کے کینسر کا محرک ہوتا ہے۔ فارمولے کی خوب سراہنا کی گئی۔ آج بھی یہ فارمولا میڈل ایسٹ اور برطانیہ میں مروج ہے اور اس کارنامے پر برطانیہ حکومت کی طرف سے انہیں اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ذہانت، فطانت اور تجربات کی بنیاد پر تعمیرات کے ضمن میں مشاورت کے لیے انہیں عراق، یو اے ای، نائیجریا، الجیریا اور دوسرے ممالک مدعو کیا گیا اور تعمیرات میں ان سے مدد حاصل کی گئی۔ انہوں نے یہ مژدہ بھی سنایا کہ برطانیہ میں حیدرآباد اسوسی ایشن کی بنیاد ڈالی گئی جو کہ تین دہوں سے رواں ہے۔ سینکڑوں لوگوں کو اس کا ممبر بنایا گیا۔ اس سے وابستگی کے بعد بہت سارے لوگ حیدرآباد کی تہذیب سے آشنا ہوئے۔

مہاجرین کو ایک پلیٹ فارم ملا۔ عیدین اور میلادالنبیؐ کے علاوہ ہندوستان کی آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقعوں پر مشاعرے، مذاکرے، محفل موسیقی اور قوالیوں کی محفلیں سجائی جاتی ہیں جس میں انڈوپاک کے کئی لوگ شامل ہوتے ہیں۔ مفخم جاہ اس انجمن کے سرپرست اعلی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانیہ کے اکثر مدارس میں میٹرک اور گیارہویں بارہویں جماعتوں میں عربی اور اردو زبان پڑھائی جاتی ہے جس سے ملکی اور غیر ملکی باشندے مستفید ہورہے ہیں۔ اس کے برخلاف اردو والوں کی اردو سے دوری پر اظہار تاسف کرتے ہوئے انہوں نے مادری زبان کی اہمیت پر گفتگو کی اور کہا کہ اپنی زبان سے دوری کے سبب ہماری نسلیں تاریخی حقائق سے محروم ہورہی ہیں۔ اپنی عمر کی لگ بھگ اسی بہاریں دیکھنے والے معزز مہمان نے جہاں قدیم حیدرآباد میں پانی کی صفائی، ڈرنیج کا معیار، سڑکوں اور بجلی سے متعلق مفصل گفتگو کی وہیں اس بات کا اظہار بھی کیا کہ حفظانِ صحت کے اصول و ضوابط کی تبلیغ کے لیے فلموں کی نمائش کی جاتی تھی۔ حکومتِ وقت رعایا کی صحت کا خاص خیال رکھتی تھی۔ گندگی اور تعفن کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہوتا تھا۔ حتی کہ بائولیاں بھی صاف کی جاتی تھیں۔ کوئی بھی کام ایک تحریک کے طور پر شروع ہوتا تھا اور اختتام تک سارا عملہ یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ اس تحریک سے منسلک رہتا۔ انہوں نے ریاست حیدرآباد کی ایک بہت بڑی خوبی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس ریاست نے باہر کے علاقوں کی ہمیشہ مدد کی ہے۔ آفاتِ سماوی ہو کہ آفاتِ ارضی کوئی ریاست اس سے متاثر ہوتی تو اہل دکن نے ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد جانا اور متاثرین کی ہر اعتبار سے دست گیری کی۔ اس سمت میں انہوں نے روزنامہ سیاست اور اس کے مدیر اعلیٰ جناب زاہد علی خاں کی مساعی کی سراہنا کی جنہوں نے دست و پاشکستہ لوگوں کی مدد کے لیے ہرآن خود کو متحرک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بڑے بڑے رقبہ جات خرید کر انہیں قبرستان کے مختص کرنا ضروری ہے۔ موجودہ قبرستانوں میں تدفین کے لیے جگہیں کم ہوتی جارہی ہیں۔ مستقبل میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ حفظِ ماتقدم کے لیے انہوںنے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی صاحب سے بات کی ہے۔ نیز نواب شاہ عالم جناب زاہد علی خان، جناب خان لطیف خان سے بھی مشاورت کی ہے۔ اگر اس میں پیش رفت ہوتی ہے تو مشرق، مغرب اور شمال جنوب میں قبرستانوں کے لیے اراضی خریدی جائے گی۔
ہم نے گفتگو سمیٹتے ہوئے ملت کے تئیں ان کی خدمات سے متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے برجستہ کہا کہ انہیں سوسائٹی سے جو ملا ہے وہ سوسائٹی کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے برائیٹ فیچر اسکول اور مدینۃ العلوم کا ذکر کیا جہاں مفت تعلیم کے ساتھ طلباء کی تمام ضروریات اور سہولیات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لگ بھگ پانچ سو طلباء تعلیم پارہے ہیں۔
یقین محکم ، عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

TOPPOPULARRECENT