Tuesday , December 12 2017
Home / جرائم و حادثات / حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر کی خودکشی

حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر کی خودکشی

طلبہ کے گروپ میں جھڑپ سے معطل طالب علم کاانتہائی اقدام، یونیورسٹی میں کشیدگی

حیدرآباد ۔ /17 جنوری (سیاست نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں آج اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالر نے یونیورسٹی ہاسٹل میں پھانسی لیکر خودکشی کرلی۔اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی احاطہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور طلباء تنظیموںنے خودکشی کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا اور دلتوں کے ساتھ امتیاز برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تلنگانہ کے تعلیمی اداروں کے بند کا اعلان کیا۔ تفصیلات کے بموجب 28سالہ ویمولا روہت جس کا تعلق آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور سے ہے وہ پی ایچ ڈی پولٹیکل سائینس سال دوم کا طالب علم تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں دو طلباء کے گروپس کے درمیان جھڑپ کے نتیجہ میں پانچ طالب علموں کو یونیورسٹی میں 14 دن کیلئے مبینہ طور پر معطل کردیا گیا تھا جس میں متوفی طالبعلم بھی شامل تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ روہت اور دیگر طلباء یونیورسٹی کی جانب سے ان کے خلاف کی گئی کارروائی پر احتجاج کرتے ہوئے یونیورسٹی کے باب الداخلہ پر گزشتہ چند دنوں سے مظاہرہ کررہے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی احاطہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور متوفی طالبعلم کے ساتھیوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے نعرہ بازی کی ۔خود کشی واقعہ اور کشیدگی کی اطلاع پرگچی باؤلی پولیس یونیورسٹی پہنچ گئی۔ پولیس نے سائبرآباد کے سراغ رساں دستہ ، کلوز ٹیم کو طلب کیا اور پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں روہت کا ایک خودکشی نوٹ برآمد ہوا جس میں اس نے لکھا ہے کہ وہ دلت ہونے کے سبب اسے آبائی مقام میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ ااور اب یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جس سے وہ دلبرداشتہ ہوگیا ہے۔ پولیس نے خودکشی نوٹ کو برآمد کرتے ہوئے روہت کی نعش کوگاندھی ہاسپٹل کے مردہ خانہ منتقل کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اگسٹ 2015ء میں ممبئی دھماکے کیس کے ملزم یعقوب میمن کو پھانسی دیئے جانے کے خلاف حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں امبیڈکر اسٹوڈنٹ اسوسی ایشن نے مظاہرے کئے تھے جس کے نتیجہ میں اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد ( اے بی وی پی ) نے ان مظاہروں کی مخالفت کی تھی اور یونیورسٹی میں اس مسئلہ کو لیکر کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ متوفی طالب علم کا تعلق اسی امبیڈکر اسٹوڈنٹ اسوسی ایشن سے تھا اور یعقوب میمن کے لئے مظاہرہ کئے جانے کے بعد اس طلباء تنظیم کو نشانہ پر رکھا گیا تھا۔یونیورسٹی کے طالب علم کی خودکشی کے خلاف مختلف طلباء تنظیموں نے 18 جنوری کو تلنگانہ کے تمام تعلیمی اداروں کے بند کا اعلان کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT