Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کی سازش

حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے کی سازش

سیکولر طاقتوں کو متحد ہو کر سازش کو ناکام بنانے کا مشورہ ، احتجاجی دھرنا سے مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔17جنوری(سیاست نیوز) امبیڈکر اسٹوڈنٹ یونین سے وابستہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ( ایچ سی یو) کے طالب علم دوسال قبل ذات پات کے نام پر پسماندگی کا شکارطبقا ت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ کی ہراسانی اور اعلی ذات والوں کے قائدین کی سیاسی اجارہ داریوں سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی جان دیدی تھی مگر دوسال بعد بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی بربریت اور پسماندہ طبقات کے طلبہ کے ساتھ متعصبانہ رویے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اب تو یونیورسٹی انتظامیہ براہ راست تعلیمی نظام کو بھگوا رنگ دیکر فسطائی طاقتوں کے ہند وراشٹر بنانے کے خواب کوعملی جامہ پہنانے کی سازش کررہا ہے ۔ قومی سطح پر منظم انداز میںیہ کوشش کی جارہی ہے کہ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے اندر خوف اور دہشت کا ماحول پید ا کیاجاسکے تاکہ ہندوتوا تنظیموں کے عزائم کوپورا کیاجاسکے۔ مگر خاموش بیٹھنے کے بجائے تمام سکیولر طاقتوں کو متحد ہوکر ان سازشوں کو ناکام بنانے کی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔سماجی جہدکار وپروفیسر پی ایل ویشویشور رائو نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ وہ آج یہاں مجسمہ امبیڈکر واقع ٹینک بنڈ پر ایس سی ‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ کے زیر اہتمام ’ دستور بچائو‘ دیش بچائو‘ کے عنوان سے منعقدہ احتجاجی پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ چیف کنونیر فرنٹ ثناء اللہ خان کی زیرقیادت منعقدہ اس احتجاجی پروگرام میںمولانا حامد حسین شطاری‘ دلت لیڈر پریم کمار‘مولانا نصیر الدین ‘ کانگریس لیڈران عظمیٰ آشائی‘ شیراز خان‘ الیاس شمسی‘شمشاد قادری‘ایم ایم شریف‘جنرل سکریٹری ایم بی ٹی مصطفیٰ محمود‘ سکندر خان‘محمد علی کے علاوہ دیگر نے بھی اس احتجاجی دھرنے میںشرکت کی۔ پروفیسر ویشویشور رائو نے کہاکہ قومی سطح پر فسطائی طاقتیں بدامنی پھیلانے کاکام کررہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جس طرح مرکزی حکومت بیف پر امتناع‘ تین طلاق پر روک ‘ حج سبسڈی کی برخواستگی جیسے امور کو زیربحث لاکر اس پر روک لگانے کاکام کیاہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کا منشاء ٹھیک نہیںہے۔ مسٹر ویشویشور رائو نے کہاکہ کھانے پینے کی آزادی ہمیں دستو رسے ملی ہے اور بیف کھانے کا حق بھی اس میںشامل ہے مگر گائوبھکتی کے نام پر یہ کام کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سارے ملک میں افرتفری کا ماحول آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیم بی جے پی پیدا کررہی ہے۔انہوںنے کہاکہ چند روز قبل سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے ملک کی تاریخ میںپہلی مرتبہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمہویت کو سنگین خطرات کا خدشہ ظاہر کیاہے۔انہوں نے کہاکہ یہ تشویش ناک بات ہے کہ سپریم کورٹ کے جج خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دستور کو بچانے سے ہی ملک کی حفاظت ممکن ہے۔ دھرنے میںموجود دیگر قائدین نے بھی چیف جسٹس آف انڈیا مسٹر دیپک مشرا پر اٹھنے والی انگلیوں کو تشویش ناک قراردیتے ہوئے کہاکہ چار ججوں کی پریس کانفرنس کے بعد عدلیہ پر عوام کا بھروسہ ختم ہوتا جارہا ہے ایسے میںسی جی آئی دیپک مشرا کو غیرجانبداری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دستور بچائو ‘ ملک بچائو ‘ فسطائی طاقتیں مردہ باد‘ جمہوریت زندہ باد کے نعروں کی گونج میں دھرنے کا اختتام عمل میں آیا۔

TOPPOPULARRECENT