Thursday , October 18 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد شہر کو پینے کے پانی کی موثر سربراہی کے اقدامات

حیدرآباد شہر کو پینے کے پانی کی موثر سربراہی کے اقدامات

حمایت ساگر و عثمان ساگر علاقوں سے ناجائز قبضوں کو برخاست کیا جائے گا : کے ٹی آر
حیدرآباد ۔10۔ نومبر (سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ حیدرآباد کو پینے کے پانی کی موثر سربراہی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ شاہ میر پیٹ اور چوٹ اپل کے قریب 10 ٹی ایم سی گنجائش کے دو ذخائر آب کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے لئے بہت جلد ٹنڈرس طلب کئے جائیں گے۔ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران گریٹر حیدرآباد حدود میں پانی کی سربراہی کے مسئلہ پر کے ٹی آر نے کہا کہ بہت جلد گریٹر حیدرآباد کے حدود میں تمام علاقوں میں روزانہ پینے کے پانی کی سربراہی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میٹرو واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے حیدرآباد شہر میں 430 ملین گیالن پانی روزانہ سربراہ کیا جارہا ہے ۔ کرشنا مرحلہ اول ، دوم اور سوم سے 263 ایم جے ڈی ، گوداوری سے 114 ایم جے ڈی اور منجیرا اور سنگور سے 48 ملین گیالن پانی حاصل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پانی کی نامناسب سربراہی کی اطلاع میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ حیدرآباد کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے ۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے کرشنا گوداوری ، منجیرا اور سنگور ذخائر آب سے پانی کی سربراہی کا آغاز کیا ہے جس کے نتیجہ میں حیدرآباد میں پانی کیلئے احتجاج کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے 60 علاقوں میں روزانہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ عنقریب ایسے علاقوںکی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں جس کے تحت تمام بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ کرشنا اور گوداوری کے پانی پر مشتمل گرڈ کی تشکیل کی تجویز ہے تاکہ شہر میں پانی کی قلت مستقبل میں بھی درپیش نہ آئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر کے کیچمنٹ علاقوں میں ناجائز قبضوں اور تعمیرات کے سبب پانی ذخائر آب تک نہیں پہنچ رہا ہے ۔ ریونیو اور بلدیہ کے ذریعہ غیر مجاز تعمیرات کو برخواست کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں شدید بارش کے باوجود ذخائر آب میں پانی جمع نہیں ہوا۔

TOPPOPULARRECENT