Saturday , February 24 2018
Home / اداریہ / حیدرآباد میں عالمی صنعتکار چوٹی کانفرنس

حیدرآباد میں عالمی صنعتکار چوٹی کانفرنس

رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس اُمید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے
حیدرآباد میں عالمی صنعتکار چوٹی کانفرنس
حیدرآباد میں ہونے والی 3 روزہ عالمی صنعتکاروں کی چوٹی کانفرنس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دختر اور سینئر صدارتی مشیر ایونکا ٹرمپ کی شرکت کے علاوہ وزیراعظم نریندر مودی کی آمد کے باعث شہر حیدرآباد پھر ایک بار عالمی اُفق پر توجہ کا مرکز بن گیا ۔ ہندوستان میں بزنس کانفرنس کو سرخیوں میں لانے والی ایونکا ٹرمپ نے غیر معمولی قدم تو اٹھایا ہے مگر ان کے اس دورہ کے ساتھ ہی ان کے اس پیام کے بارے میں بھی کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں کہ آیا وہ خواتین کو با اختیار بنانے کی مہم میں غریب خواتین کو بھی با اختیار بنانے کی کوئی متوازن پالیسی رکھتی ہیں ۔ خواتین کی ترقی سے ہی خوشحالی کا نعرہ سننے میں بہت بھلا لگتا ہے ۔ ایونکا اور وزیراعظم مودی نے حیدرآباد پہونچکر گلوبل انٹرپرنیور شپ سمیٹ کا افتتاح کیا اور اس سے خطاب بھی کیا ۔ ان کی آمد کی منتظر تلنگانہ حکومت نے شہر کی بعض سڑکوں کو صاف ستھرا بنانے اور سڑکوں ، چوراہوں اور سگنلوں سے فقیروں کو ہٹانے کی جانب خاص توجہ دی ۔ اپنی خرابیوں کو چھپانے کے لیے حکومت نے شہر میں پھرتی غربت کو مقید کرنے کی کوشش کی ۔ جو ایونکا ٹرمپ ایک فیشن ڈیزائنر اور خاتون صنعتکار بھی ہیں ان کی خواتین کو با اختیار بنانے کی پالیسی کے برعکس معلوم ہوتی ہے ۔ ہندوستان میں بالخصوص حیدرآباد میں ہر شہری کو اس کانفرنس کے بارے میں کافی دلچسپی ہے جس کی میزبانی امریکہ اور ہندوستان نے مل کر کی ہے ۔ سہ روزہ کانفرنس میں زائد از 1200 افراد شریک ہیں ۔ سابق وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیر کی اہلیہ چیری بلیر بھی اس کانفرنس کی اہم روح رواں ہیں جو فاونڈیشن برائے خواتین کی سربراہ بھی ہیں ۔ کانفرنس میں اصل توجہ خاتون صنعتکاروں کی جانب ہی مرکوز ہے لیکن اس کانفرنس کے حوالے سے ایونکا ٹرمپ نے جو بعض تجارتی فیصلے کیے ہیں اس میں اپنے مقبول برانڈ کی کمپنیوں کو ترجیح دینے پر کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔ امریکہ کی نظر میں مزدور اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں خود ایونکا قائدانہ رول کو استعمال کرنے میں ناکام رہی ہیں خاص کر ایونکا اپنے ہی برانڈ کی کمپنیوں کی پھیلی ہوئی تجارتی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ہونے والی زیادتیوں پر عوام کے موقف کا نوٹ لینے میں بھی وہ ناکام دکھائی دیتی ہیں ۔ وائیٹ ہاوز میں صدارتی مشیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھانے سے قبل انہوں نے اپنے برانڈ کی کمپنیوں کے انتظامات کا روزانہ جائزہ لیتی تھیں اور صدر کی مشیر ہونے کے بعد بھی وہ مالکانہ مفادات پر ہی اپنی سرگرمیوں کو ترجیح دیتی نظر آتی ہیں تو پھر حیدرآباد میں منعقد اس سہ روزہ چوٹی کانفرنس میں خواتین صنعتکاروں کی ترقی سے زیادہ ایونکا برانڈ کی کمپنیوں کے مالکانہ مفادات کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے ۔ اس سے ہندوستان یا حیدرآباد کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ وزیراعظم مودی نے ایونکا ٹرمپ کے لیے ہندوستان کی مارکٹ کو کشادہ کرنے کا کام کیا ہے تو یہ ہندوستانی عوام کے حق میں کس حد تک فائدہ مند ہوگا ۔ یہ آگے چل کر واضح ہوگا ۔ ساری دنیا میں ایونکا ٹرمپ کی پھیلی ہوئی کمپنیوں نے کس حد تک کامیاب بزنس کیا اور ان کمپنیوں نے مقامی عوام کو کس حد تک فائدہ پہونچایا ہے یہ بات ابھی واضح ہو کر سامنے نہیں آئی ہے لیکن وائیٹ ہاوز میں داخل ہونے کے بعد ساری دنیا کی مارکٹوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے وہاں کے حکمرانوں کے ذریعہ اپنے تجارتی قدم جمانے کی کوشش کرنے والی صدارتی سفیر وائیٹ ہاوز کے استقبال میں پلکیں بچھانے والی حکومتوں کو اپنے عوام کے مفادات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے ۔ بلا شبہ حیدرآباد کی سہ روزہ چوٹی کانفرنس سے کئی توقعات ہیں اور اس سے حکومت تلنگانہ کے منصوبوں کے مطابق تلنگانہ میں سرمایہ کاری کی راہیں کشادہ ہوسکتی ہیں اور حیدرآباد میں آئی ٹی شعبہ اسٹارٹ اپس اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے عالمی صنعتکاروں کو ترغیب دینے میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ اس کانفرنس کا اصل مقصد خواتین پہلے اور خوشحالی تمام کے لیے ہے تو اس سے خواتین سے مراد ہر شعبہ ہائے حیات سے وابستہ خواتین کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عزم بنایا جائے تو یقینا ایونکا ٹرمپ کا یہ دورہ وزیراعظم مودی کی مساعی اور حکومت تلنگانہ کی شاندار میزبانی کے ثمرات سب کو حاصل ہوں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT