Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / حیدرآباد میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری

حیدرآباد میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری

معمولات زندگی درہم برہم ‘ بارکس میں سی آر پی ایف کی دیوار منہدم ‘ بیشتر علاقوں میں کمر تک پانی ‘ سڑکیں جھیل میں تبدیل

حیدرآباد۔8اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر میں ایک بار پھر بارش نے اپنا قہر دکھایا اور آج دو پہر شدت کی بارش نے ایک بار پھر معمولات زندگی کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ۔ ابھی عوام کل ہوئی طوفانی بارش کے اثرات سے سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ آج بھی بارش نے اپنا سلسلہ جاری رکھا ۔دونوں شہروں میں موسلا دھار بارش کے سبب کئی علاقہ زیر آب آگئے اور مکانات میں پانی داخل ہونے کے علاوہ نالوں کے باندھ ٹوٹ گئے لیکن ہمیشہ کی طرح مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی لاپرواہی آشکار ہوئی اور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے انتظامات نہ کئے جانے کے سبب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے مطابق دوپہرسے ہی شدید بارش بالخصوص پرانے شہر کے علاقوںمیں ہونے والی بارش نے کئی علاقوں میں تباہی کے نقوش چھوڑے لیکن بارش کی ان تباہ کاریوں سے عوام اور ان کے مال کو بچانے کیلئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا عملہ پرانے شہر کی سڑکوں پر کہیں نظر نہیں آیا۔ دوپہر ایک بجے سے شروع ہوئی بارش کا سلسلہ شام 4بجے تک جاری رہا لیکن بندلہ گوڑہ‘ میر عالم ‘ چارمینار‘ چودرائن گٹہ کے علاوہ دیگر علاقو ںمیں کافی زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق 276 مقامات پر پانی جمع ہونے شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں 63مقامات پر پانی کی نکاسی کا انتظام کرلیا گیا ہے اور 199 شکایات کا جائزہ لیا جارہا ہے جبکہ 14مقامات پر پانی کا نکاسی کا عمل جاری ہے۔شام 7بجے تک شہر کے مختلف علاقو ںمیں محکمہ موسمیات نے جو بارش ریکارڈ کی ہے اس کے مطابق بندلہ گوڑہ میں 65ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ڈی ایم آر ایل کے علاقہ میں 64ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ ایل بی نگر میں 38ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ۔سردار محل (چارمینار) میں 35ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ عنبر پیٹ علاقہ میں 28.5ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ میر عالم میں جہاں کل سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی تھی وہاں 25.3ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ گولکنڈہ علاقہ میں 21.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی

 

جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں کافی کم بارش ریکارڈ کی گئی جس کے سبب نئے شہر کے علاقہ متاثر نہیں رہے اور اتوار ہونے کے سبب ٹریفک جام کے مسائل کی شکایات موصول نہیں ہوئی۔ بارکس مبارک فنکشن ہال کے قریب سی آر پی ایف کی دیوار منہدم ہوگئی لیکن اس کے سبب کسی کو کوئی نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ہے۔ سلطان شاہی ‘ مولی کا چھلہ‘ تالاب کٹہ‘ ناگا باؤلی‘ انجن باؤلی‘ محبوب چوک‘ کالا پتھر کے علاوہ بہادر پورہ اور کشن باغ کے علاقو ںمیں بارش کا پانی جمع ہونے کی شکایات موصول ہوئیں۔ کئی مقامات پر مکانات میں پانی داخل ہوگیا ۔ بارش شروع ہونے سے قبل کمشنر جی ایچ ایم سی ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے منتخبہ عوامی نمائندوں کے ہمراہ پرانے شہر کے علاقوں بالخصوص نہرو زوالوجیکل پارک کے علاوہ حلقہ اسمبلی بہادرپورہ کے ان مقامات کا دورہ کیا جہاں پانی جمع ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے عطا پور اور راجندر نگر کے علاقوں کا بھی دورہ کرکے صورتحال سے آگہی حاصل کی ۔ پرانے شہر کے علاقوں میں بارش کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی علاقو ں میں کمر تک پانی دیکھا گیا اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھے گئے ۔ فلک نما‘ چھتری ناکہ‘ اپوگوڑہ ‘ شاہ علی بنڈہ کے علاوہ شہر کے کئی مقامات پر پانی جمع ہونے کے سبب مین ہول ابل پڑے ۔ بلدی عہدیداروں نے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے علاقہ میں پانی گھرو ںمیں داخل ہونے کی شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے پانی کی نکاسی کے عمل کے لئے ایمرجنسی اسکواڈ روانہ کرنے کا اعلان کیا لیکن مقامی عوام نے شکایت کی کہ بلدی عملہ کی جانب سے پانی کی نکاسی اور آسان بہاؤ کیلئے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے۔ اسی طرح آسمان گڑھ ‘ سعید آباد‘ سپوٹا باغ‘ آئی ایس سدن‘ سنتوش نگر ‘ شیخ پیٹ‘ مادھاپور کے علاقوں سے بھی بارش کا پانی جمع ہونے کے سبب عوام کو مشکلات کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ دوپہر کے ساتھ ہی موسلادھار بارش اور گھن گرج و چمک کے ساتھ بارش کے دوران موسی ندی کے بہاؤ میں بھی تیزی دیکھی گئی ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے کئے جانے والے انتظامات پر عوام نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش اور شدید بارش کی پیش قیاسی کی جارہی ہے اس کے باوجود بلدی عہدیداروں کی جانب سے اختیار کی جانے والی لاپرواہی عوام کو مشکلات میں مبتلاء کرنے کے مترادف ہے۔ شہر میں تیز رفتار بارش کے سبب سڑکوں کی حالت بھی انتہائی تیزی کے ساتھ ابتر ہونے لگی ہے جس کے سبب بارش کے دوران حادثات کے خطرات میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT