Monday , December 18 2017
Home / اداریہ / حیدرآباد کا بلدی نظم و نسق

حیدرآباد کا بلدی نظم و نسق

یاد آیا ہے انہیں چاک گریباں میرا
قبل از وقت کہیں فصل بہار آئی ہے شاید
حیدرآباد کا بلدی نظم و نسق
وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما رائو نے از خود یہ اعتراف کیا ہے کہ حیدرآباد کی سڑکیں اور بلدی مسائل ابتر ہیں۔ معیاری اعتبار سے حیدرآباد کی سڑکوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں درست کیا جانے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے سڑکوں کی مرمت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری خانگی ایجنسیوں کے حوالے کرنے کی بات کہی ہے تاکہ بی ٹی روڈس کے معیار کو بہتر بنایا جاسکے۔ وزیر بلدی نظم و نسق کی حیثیت سے کے ٹی راما رائو کو دارالحکومت حیدرآباد کی سڑکوں کے علاوہ یہاں کے گلی کوچوں، پارکس، کچرے کی کنڈیوں اور بالتی ہوئی نالیوں کی بات بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے پاس ہمیشہ عذر کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہر سال مانسون کے موسم میں شہر حیدرآباد کی سڑکیں نالابوں میں تبدیل ہوئی ہیں۔ شہریوں کو تھوڑی بارش ہونے پر سیلاب زدہ سڑکوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے بنائی گئی خصوصی ڈرنیج  لائینوں کی عدم صفائی، مٹی اور کچرے کی وجہ سے لائین میں اشیاء پھنس کر پانی کے بہائو کو روک دیتی ہیں۔ ان کی عدم صفائی سے سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ بلدی نظم و نسق ہر سال کی طرح اس سال بھی یہی دعوی کردیا ہے کہ اس نے تمام تر انتظامات کرلئے ہیں۔ بارش کی صورت میں پانی کی نکاسی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات ہورہے ہیں۔ مگر حالیہ دونوں کی معمولی بارش نے ہی بلدیہ کے دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔ یہ صورتحال آنے والے دنوں میں مزید ابتر ہوگی۔ ایسے میں شہر کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان کی کی جانب سے چند سال قبل تیار کردہ منصوبہ کے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ حیدرآباد کو ملک میں دوسرا سب سے بڑا رقبہ رکھنے والے شہر کی حیثیت سے مانا جاتا ہے۔ اس کے لئے اب تک کوئی جامع سٹی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان تیار نہیں کیا گیا جس کے تحت تمام سرکاری محکموں کو ایک دوسرے کے تعاون سے کاموں کو انجام دہی کے ساتھ ذمہ داری دی جاسکے۔ چند سنٹی میٹر بارش سے ہی حیدرآباد کی سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں۔ اگر شہر میں شدید بارش ، سیلابی پانی کی صورتحال پیدا ہوجائے تو مختلف محکموں کی جانب سے اپنے طور طریقوں سے نمٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لئے کوئی جامع منصوبہ پر عمل نہیں کیا جاتا ۔ اس سے فوری راحت کاری اقدامات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ درحقیقت بلدی نظم و نسق اور شہری ترقی کے وزیر کے ٹی راما رائو نے بھی انہی تلخ حقائق کی جانب توجہ دی ہے لیکن بلدیہ کا عمل اپنے سربراہ کی ہدایات پر توجہ نہ دے تو شہریوں کے مسائل سے چھٹکارا نہیں ملے گا۔ کے ٹی راما رائو نے چند دن قبل ہی بلدی عملہ اور اعلی عہدیداروں کے ساتھ ایک اجلاس میں ہدایت دی تھی کہ وہ محکمہ جاتی تعاون کو یقینی بنائیں تاکہ مسائل سے فوری طور پر نمٹا جاسکے۔ اگر شہری میں صرف 10 سنٹی میٹر بارش ہوتی ہے تو سارا نظام درہم برہم دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے طویل مدتی حکمت عملی پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہاں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی بڑی آفت آتی ہے تو بلدی عملہ عارضی انتظامات کرکے صورتحال سے دستبردار ہوجاتا ہے۔ جی ایچ ایم سی عملہ کے پاس ایسا کوئی میکانزم نہیں ہے کہ وہ مانسنو کے دوران پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے بروقت نمٹ سکے۔ گریٹر حیدرآباد جیسے شہر کے لئے 4000 کیلومیٹر لمبی بارش کے پانی کی نکاسی لائین کی ضرورت ہوی ہے تاکہ شہر کو بارش کے پانی کی وجہ سے تالاب میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔ بارش کے پانی کی نکاسی میں ناکامی کی ایک وجہ سڑکوں کے کنارے فوٹ پاتھس ، پارکس اور تالاب کے علاقوں پر ناجائز قبضے بھی ہیں۔ نالوں اور تالابوں پر سے ناجائز قبضے برخاست کرنا بھی بلدی عملہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر ابتدائی سطح پر ہی یہ عملہ ان ناجائز قابضین کی دی ہوئی رشوت کی رقم کا عادی ہوجاتا ہے اور معمول وصول کرکے نجائز قبضوں کو نظرانداز کرلیتا ہے جس کے نتیجہ میں تمام شہریوں کو ہنگامی حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ بلدیہ کے اندر بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لئے حکومت نے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ 15 رکنی جی ایچ ایم سی اسٹانڈنگ کمیٹی بھی اس سلسلہ میں تشکیل دی گئی ہے کہ وہ ایس آر ڈی منصوبہ کو روبہ عمل لانے کے لئے مختلف اقدامات کرے۔ شہر کی آبادی میں اضافہ کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ پڑوسی ریاستوں کے شہر حیدرآباد کا رخ کرنے والے عوام کی تعداد دن بہ دن شہری و بلدی مسائل میں ضافہ کا باعث بن رہی ہے۔ ان حالات کو مدنظر رکھ کر بلدی حکام کو ایک طویل حکمت عملی اور منصوبہ کی تیاری پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں میں مزدوری کا کام کرنے والوں نے جابجا ’’اڈہ کالونیاں‘‘ بنالی ہیں۔ ان کے لئے بہتر رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ مختلف علاقوں سے آنے والے افراد کو شہری زندگی کی ضرورتوں اور تقاضوں سے واقف کیا جاسکے اور ماباقی شہری آبادی بھی مسائل کا ناحق سامنا کرنے سے بچ سکے۔

TOPPOPULARRECENT