Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کو سگنل فری بنانے تجربات پر قطعی رپورٹ پر جائزہ جاری

حیدرآباد کو سگنل فری بنانے تجربات پر قطعی رپورٹ پر جائزہ جاری

چوراہوں سے ٹریفک رُخ کی تبدیلی، نتائج کو بہتر بنانے پر توجہ، عوامی رائے کے بعد رپورٹ متوقع
حیدرآباد 24 اپریل (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کو سگنل فری بنانے کے لئے جاری تجربات پر تاحال کوئی قطعی رپورٹ تیار نہیں کی گئی ہے۔ شہر کے مختلف مقامات بالخصوص مدینہ بلڈنگ، بیگم پیٹ، پنجہ گٹہ، سوماجی گوڑہ کے علاوہ مہدی پٹنم پر جاری تجربات کے متعلق آئندہ ماہ کے اواخر تک رپورٹ موصول ہونے کا امکان ہے۔ ریاستی وزارت شہری بلدی نظم و نسق کے مطابق حیدرآباد کو سگنل فری سٹی میں تبدیل کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں شہر کے کئی مقامات پر موجود چوراہوں سے ٹریفک کا رُخ موڑ دیا گیا ہے اور اِس کے بہتر نتائج کی توقع کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے وجئے نگر کالونی سے مانصاحب ٹینک جانے والی ٹریفک کا رُخ موڑنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اُس کے بہتر نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ اسی طرح مصروف ترین اوقات کے دوران بیگم پیٹ سے ایس ڈی روڈ کی طرف جانے والی ٹریفک کے رُخ کو تبدیل کئے جانے کے بھی بہتر نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات پر جاری اِن تجربات کے متعلق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک عوامی رائے حاصل نہیں کی جاتی اُس وقت تک رپورٹ کو قطعیت نہیں دی جائے گی۔ چونکہ عوام کو ہی فائدہ پہنچانے کے لئے یہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چارمینار سے مدینہ بلڈنگ و نیاپل جانے والی ٹریفک کو مصروف ترین اوقات میں مدینہ بلڈنگ سے ہائی کورٹ کی سمت رُخ موڑا جارہا ہے تاکہ سٹی کالج سے گھوم کر بغیر سگنل کے لوگ نیا پل تک پہونچ سکیں۔ خانگی ایجنسی کے ذریعہ تیار کی جارہی اِس رپورٹ پر حکومت کی جانب سے عمل آوری ہوگی یا نہیں یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا چونکہ اِس رپورٹ کی تیاری کے بعد حکومت مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد، شہری ٹریفک پولیس انتظامیہ سے مشاورت کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کرے گی۔ شہریوں میں سگنل پر گاڑی آف کرنے کا رجحان نہ ہونے کے سبب جو پٹرول ضائع ہورہا ہے اُس سے سگنل فری پر عمل کرتے ہوئے پٹرول بچایا جاسکتا ہے۔ اِسی طرح سگنل فری شہر پر عمل آوری کے ذریعہ مسلسل ٹریفک کے بہاؤ کو یقینی بنانے میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ شہر کی مصروف ترین سڑکوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کئے جارہے اِن تجربات کے متعلق عوام میں بھی مثبت ردعمل پایا جارہا ہے لیکن بعض مقامات پر طویل راستہ اختیار کئے جانے کے سبب عوام میں متبادل راستے اختیار کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT