Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کی تہذیبی شناخت منفرد، عوام کی کشادہ دلی و وسیع القلب

حیدرآباد کی تہذیبی شناخت منفرد، عوام کی کشادہ دلی و وسیع القلب

محمد مبشرالدین خرم

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 6 جولائی ۔ حیدرآباد کی تہذیبی شناخت بالکلیہ طور پر علیحدہ ہے اور اِس شناخت کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔ حیدرآباد کی تہذیبی شناخت مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کے خاتمہ کے لئے کی جانے والی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔ مسٹر نارا لوکیش نائیڈو تلگودیشم قائد و فرزند چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرابابو نائیڈو نے گزشتہ شب پرانے شہر کے دورہ کے موقع پر اسٹاف رپورٹر سیاست کے ہمراہ خصوصی گفتگو کے دوران یہ بات کہی۔ اُنھوں نے چارمینار، مکہ مسجد کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں صفائی کے عدم انتظامات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ماہ رمضان المبارک کے موقع پر بھی سڑکوں سے کچرے کی عدم نکاسی باعث حیرت ہے۔ لوکیش نائیڈو نے بتایا کہ اگر حیدرآبادی عوام سے تلنگانہ یا سیما آندھرا کے متعلق ریفرنڈم کروایا جائے گا تو حیدرآبادی عوام اپنی منفرد شناخت کی برقراری کی بات کہیں گے۔ چونکہ حیدرآبادی تہذیب کثرت میں وحدت کے مترادف ہے۔ لوکیش جوکہ اپنی اہلیہ نارا برہمنی نائیڈو و دیگر افراد خاندان کے ہمراہ پرانے شہر میں رمضان سے لطف اندوز ہونے کے لئے پہونچے تھے نے اپنے دکنی لہجہ میں بات چیت کے دوران کہاکہ وہ خود کو پکا حیدرآبادی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ گوشت خور ہیں مگر احتیاط کے ساتھ گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔ اُنھوں نے پرانے شہر کے دورہ کے دوران پستہ ہاؤز کی حلیم افراد خاندان کے ساتھ نوش کی۔
٭٭ سیاسی گفتگو کے دوران لوکیش نائیڈو نے بتایا کہ وہ تلنگانہ کی سرگرم سیاست میں حصہ لینے کے لئے تیار ہیں لیکن اِس سے پہلے کہ وہ عوام کی خدمت کے لئے آگے آئیں پہلے اُنھیں حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بلکہ وہ تلنگانہ کے حالات سے اچھی طرح واقف ہونے کے بعد ہی سرگرم سیاست کا حصہ بننے پر یقین رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ تلنگانہ میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز عادل آباد سے کریں گے اور بہت جلد اپنی سیاسی سرگرمیوں کے متعلق شیڈول بھی جاری کریں گے۔ نارا لوکیش نائیڈو نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں موجودہ حکومت کو سنبھلنے کے لئے موقع فراہم کرنا اخلاقی ذمہ داری ہے اور اِسی لئے تلگودیشم پارٹی مزید تین ماہ تک برسر اقتدار جماعت کو حالات کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرے گی۔ اُنھوں نے بتایا کہ تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد سے اُن کا لگاؤ اِس لئے ہے کیونکہ وہ نہ صرف اِس شہر میں پیدا ہوئے ہیں بلکہ اِس شہر کی تہذیب و زبان کا اُن پر گہرا اثر ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ عوام کی خدمت کے ذریعہ عوام میں اپنی شناخت بنانے پر یقین رکھتے ہیں اِسی لئے عوامی مسائل کے حل کے لئے وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کے درمیان رہتے ہوئے اُن کے مسائل کو حل کریں گے۔
٭٭ لوکیش نائیڈو نے پرانے شہر کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ کافی عرصہ بعد پرانے شہر کا دورہ کررہے ہیں لیکن پرانے شہر کے متعلق اُن کے ذہن میں اب بھی یادیں تازہ ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ چارمینار کی خوبصورتی کے لئے تیار کردہ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے متعلق وہ تفصیلی جائزہ لے چکے ہیں اور اُن کے والد کے اِس پراجکٹ کے متعلق وہ کافی پُرامید بھی ہیں۔ نارا لوکیش نے پرانے شہر کے عوام کو وسیع القلب قرار دیتے ہوئے کہاکہ بحیثیت حیدرآبادی وہ اِس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ پرانے شہر کے عوام انتہائی نرم دل ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے اِس موقع پر ماہ رمضان المبارک کے دوران خصوصی عبادتوں کے متعلق دریافت کیا اور کہاکہ اسلام میں موجود ڈسپلن سے وہ بے حد متاثر ہیں۔ لوکیش نے پرانے شہر کی سڑکوں کی توسیع کے متعلق بھی تفصیلات سے واقفیت حاصل کی۔
٭٭ بی جے پی سے تلگودیشم کے اتحاد کے متعلق نارا لوکیش نائیڈو نے بتایا کہ تلگودیشم پارٹی قیادت نے 2014 ء عام انتخابات سے قبل ہی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اِس بات کا اندازہ لگالیا تھا کہ ملک میں آئندہ حکومت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہوگی اور ایسی صورت میں این ڈی اے کے سیکولر کردار کو برقرار رکھنے کے لئے تلگودیشم کا این ڈی اے میں شامل ہونا ناگزیر تھا۔ اُنھوں نے بتایا کہ تلگودیشم پارٹی نے صرف حالات کو کنٹرول میں رکھنے اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری کے لئے این ڈی اے میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ ضرور عوام کے درمیان پہونچ کر اپنی اِس دلیل کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ اقلیتوں اور تلگودیشم کے درمیان پیدا شدہ خلاء کو دور کیا جاسکے۔
٭٭ لوکیش نائیڈو جوکہ تلگودیشم پارٹی کے یوتھ لیڈر تصور کئے جاتے ہیں، نے بتایا کہ وہ صحت کے متعلق کافی محتاط ہیں اور روزانہ ایک گھنٹہ سائیکلنگ کے ذریعہ وہ اپنا وزن گھٹاچکے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ وہ روزانہ ایک گھنٹہ سائیکلنگ کے دوران 25 کیلو میٹر کی مسافت طے کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اُن کے جسم کے اندر موجود کولیسٹرول کی مقدار کافی کم ہوچکی ہے۔ نارا لوکیش نائیڈو نے پرانے شہر کی سیاحت کے دوران ڈبل کا میٹھا، کدو کی کھیر کے علاوہ فروٹ سلاد بھی نوش کیا۔ اُنھوں نے اِس موقع پر ڈبل کے میٹھے کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ڈبل کے میٹھے کے بغیر حیدرآباد کی کسی بھی تقریب کا تصور محال ہے کیونکہ ڈبل کا میٹھا حیدرآبادی غذاؤں کی تہذیب کا حصہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT