Saturday , December 15 2018

حیدرآباد کی قدیم تہذیب پر مبنی پروگراموں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ

تلنگانہ کے تمام اضلاع میں داستان گولکنڈہ پروگرامس کے انعقاد پر زور ‘ جناب زاہد علی خاں اور جناب محمود علی کا خطاب

تلنگانہ کے تمام اضلاع میں داستان گولکنڈہ پروگرامس کے انعقاد پر زور ‘ جناب زاہد علی خاں اور جناب محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔25اگست(سیاست نیوز) جناب زاہد علی خان مدیر اعلی روزنامہ سیاست نے ریاست حیدرآباد کی چار سوسالہ قدیم تہذیب کی یاد یں تازہ رکھنے کیلئے داستان گولکنڈہ کے طرز مزید اور پروگرامس کو پورے تلنگانہ میں منعقد کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔ آج یہاں رویندر بھارتی میں فائن آرٹس اکیڈیمی کی جانب سے منعقدہ داستان گولکنڈہ پروگرام کے مشاہدے کے بعد انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاکہ ریاست تلنگانہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بازیابی اور قدیم تہذیب کا احیاء اس قسم کے پروگرامس کی تشہیر کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔پروگرام میںمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمو دعلی کے علاوہ جناب قمرالدین انجینئر‘ جنرل سکریٹری ٹی آر ایس پارٹی صوفی سلطان قادری نے بھی شرکت کی۔ گلوکار خا ن اطہر نے گیت پیش کیا ۔اسلم فرشوری نے کاروائی چلائی اس سے قبل ماسٹر شفیع کی ٹیم نے داستان گولکنڈہ کے عنوان پر ڈرامہ پیش کیا۔ جناب زاہد علی خان نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکومت تلنگانہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے چندرشیکھر رائو چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے تاریخی گولکنڈہ پر قومی پرچم لہرانے اور جشن آزادی تقریب منانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ 68سالسے دہلی کے لال قلعہ پر جشن آزادی تقریب کے انعقاد کے باوجود بھی سابق حکمرانوں نے تاریخی روایتوں کو فراموش کیا ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے تاریخی گولکنڈہ پر جشن آزادی تقریب منعقد کرتے ہوئے ایک نئی روایت کا جو آغاز کیاہے اس سے ریاست حیدرآباد کی قدیم تہذیب وتمدن کے احیاء کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔جناب زاہد علی خان نے کہاکہ جس رفتار سے نئی حکومت تلنگانہ کی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود کے لئے اسکیمات کا اعلان کررہی ہے اس سے واضح ہورہا ہے تلنگانہ میںخوشحالی اور ترقی یقینی ہوگی۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کے فیصلوں او راعلانات سے پچھلے ساٹھ سالوں میں سازشوں کاشکار تلنگانہ کے مسلمانوں کے پیدا ہونے والی توقعات کا بھی اس موقع پر ذکر کیا او رکہاکہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اعلانات بالخصوص مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے وعدوں کی تکمیل تلنگانہ کے مسلمانوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے میں تاریخ ساز فیصلہ ہوگا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی فائن آرٹس اکیڈیمی کے ذمہ داران بالخصوص ماسٹر شفیع کومبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ پچھلے چار سال سے داستان گولکنڈہ ڈرامہ کا وہ مشاہدہ کررہے ہیںمگر اس بار ماسٹر شفیع نے ڈرامہ کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ حکومت بھی قطب شاہی اور آصف جاہی دور حکومت کی فرقہ وارانہ ہم اہنگی کی بازیابی کے لئے کوشاں ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ اس کی پہل کے طور پرچیف منسٹر ریاست تلنگانہ جناب کے چندرشیکھر رائو نے مجھ کو اپنا نائب مقرر کیا تاکہ تلنگانہ کی عوام میں آصف جاہ صابع اور مہاراجہ کشن پرساد کے دور کی یاد تازہ کرسکے۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک میں ادارہ ’’سیاست ‘‘ اور ایڈیٹر جناب زاہد علی خان کے گرانقدر تعاون کو ناقابل ِ فراموش قراردیا ۔ انہوںنے کہاکہ تلنگانہ کے عوام بالخصوص مسلمانوں کے اندر تلنگانہ تحریک کے متعلق شعور بیداری مہم میں روزنامہ سیاست نے اہم رول ادا کیا ہے جس کے لئے تلنگانہ عوام ادارہ سیاست کے مشکور ہیں۔ انہوںنے کہاکہ تلنگانہ حکومت ریاست میں خوشحالی اور ترقی کے لئے ہرممکنہ قدم اٹھائے گی ۔ انہو ںنے کہاکہ تمام طبقات کے ساتھ ریاست تلنگانہ کے مسلمانو ںکو بھی تمام شعبہ حیات میں بارہ فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے بالخصوص سرکاری شعبوں میں تلنگانہ کے مسلمانو ںکے ہر گھر سے دوسرکاری ملازمین ہونگے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ریاست حیدرآباد کا زوال تلنگانہ کے مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ نقصاندہ رہا ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست حیدرآباد کو تین حصوں میںتقسیم کرنے کے بعد تلنگانہ کا آندھرا میںضم کرکے متحدہ ریاست آندھرا پردیش کا قیام عمل میں لایا گیا او رمتعصب ذہن کے قائدین او رعہدیداروں نے سب سے پہلے اُردو کے چلن کو تلنگانہ میںمتاثر کرنے کیلئے متحدہ ریاست میںتلگوکو لازمی زبان کادرجہ دیا اس کے بعد قولدارایکٹ نافذ کرتے ہوئے پانچ ہزار اور دس ہزار ایکڑ کے مالک مسلمانوں کی اراضیات میںسے ساٹھ فیصد اراضی کسانوں کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کئے پھر لینڈ سیلنگ ایکٹ کے تحت مسلمانوں کی اراضیات کو سرکار ی اراضیات میںتبدیل کرنے کاکام کیا ۔ انہوں نے کہاکہ پانچ تا دس ہزارایکڑ اراضی کے مالک مسلمانوں کی جائیدادیں پچاس ایکڑ تک محدود ہوکر رہ گئی۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے محدود خاندانی سروے کا مقصد ہی تلنگانہ کی عوام کی حقیقی معاشی‘ تعلیمی اورسماجی پسماندگی کا جائزہ لینا تھا۔ انہوں نے کہاکہ سابق میںپیش ائے سروے سے منفرد انداز کا سروے کروانے کا اصل مقصد ہی تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی کے انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ انہوں نے سروے میںعوام کے تعاون کی ستائش کی اور کہاکہ بہت جلد حکومت تلنگانہ اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا اعلان بھی کریگی۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری دواخانوں کو کارپوریٹ دواخانوں کے طرز پر ترقی دینے کے علاوہ تاریخی ورثوں کی حفاظت کے لئے حکومت تلنگانہ نہایت سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ اولڈ پنشن او ربیوائوں کے لئے ایک ہزار روپئے او رجسمانی معذورین کے لئے پندرہ سو روپئے ماہانہ مقرر کی ہے تاکہ مذکورہ لوگ پرسکون زندگی گذار سکیں۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی حقیقی آبادی کے تناسب کو سابقہ حکومتوں نے چھپا کر رکھا تھا مگر تلنگانہ حکومت کے محدود خاندانی سروے کے بعد سابقہ حکومتوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ میر امقصد تلنگانہ میںمسلمانوں کے اندر پائے جانے والی احساس کمتری کو دور کرتے ہوئے سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ثمرات سے مسلمانوں کو مستفید کرنا ہے۔انہوں نے تلنگانہ کے تمام فنکاروںکو حکومت کی جانب سے خصوصی مرعات دینے کا وعدہ بھی کیا۔

TOPPOPULARRECENT