Monday , October 22 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرآباد کے 10 ہزار گداگروں میں صرف 4 فیصد مسلم

حیدرآباد کے 10 ہزار گداگروں میں صرف 4 فیصد مسلم

82 فیصد ایس سی، ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات، بازآبادکاری تنظیم سے اعداد و شمار کا انکشاف
حیدرآباد۔13(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں موجود گداگروں میں صرف 4فیصد مسلم گداگر ہیں جبکہ 82فیصد گداگروں کا تعلق ایس سی‘ ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات سے ہے ۔ سال 2008 اور پھر اس کے بعد سال 20015میں کروائے گئے گداگروں کے سروے کے مطابق شہر حیدرآباد میں 10ہزار446گداگر موجود ہیں جن کی سالانہ مجموعی آمدنی 15کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ گداگروں کی بازآبادکاری کیلئے کام کرنے والی ایک تنظیم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں 1956 سے اب تک کا جائزہ لیا جائے تو گداگروں کی تعداد میں 400 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ان میں بیشتر نشہ کے عادی ہونے کے علاوہ پیشہ ور گداگر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہر میں گداگری کرنے والے یومیہ 900 روپئے تک نشہ پر خرچ کرتے ہیں جن کی تعداد کم ہے لیکن قابل شمار ہونے کے باعث اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ گداگروں کی بڑی تعداد گداگری کے ذریعہ یومیہ 1000 روپئے کما لیتے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ گداگروں کی آمدنی کا بیشتر حصہ ان کی تفریح ‘ کھانے پینے کے علاوہ نشہ آور اشیاء کی خریداری میں چلا جاتا ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے شہر کو گداگروں سے پاک کرنے کی مہم شروع کی تھی لیکن اس میں انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیںہوئی لیکن اب جبکہ محکمہ پولیس کی جانب سے شہر حیدرآباد کے حدود میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے گداگری پر دو ماہ کیلئے امتناع عائد کردیا گیا ہے تو شہر گداگروں سے پاک نظر آرہا ہے لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر حیدرآباد میں چلائی جانے والی اس مہم کی بنیادی وجہ ڈونالڈ ٹرمپ کی دختر ایوانکا ٹرمپ کا دورۂ حیدرآباد ہے جس کے سبب گداگروں کو شیلٹرس میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔ GES-2017 کے بعد شہر کی سڑکوں کی حالت دوبارہ وہی ہو جائے گی جو پہلے ہوا کرتی تھی لیکن گداگروں کی فلاح کیلئے کام کرنے والی تنظیم نے بتایا کہ اس مرتبہ گداگروں سے سختی کی جا رہی ہے اور کونسلنگ کی جا رہی ہے ۔ شہر حیدرآباد میں درگاہوں‘ مساجد‘ منادر ‘ چرچ کے علاوہ دیگر مقامات پر بھیک مانگنے والے 82 فیصد گداگر غیر مسلم ہیں اور 4 فیصد مسلم گداگر ہیں اور ان میں بیشتر کا تعلق شہر سے نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد میں 1956سے اب تک 400 فیصد گداگروں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں شہری ہی ان گداگروں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جس کے سبب ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے شہر میں 5روپئے میں کھانے کی جو اسکیم ہے اس اسکیم سے استفادہ کرنے والوں میں گداگروں کی تعداد کے متعلق عہدیداروں نے بتایا کہ اس اسکیم سے عام شہری‘ ملازمت پیشہ اور مزدور پیشہ افراد استفادہ کر رہے ںہے لیکن 5 روپئے میں کھانے کی اسکیم سے استفادہ کرنے والے گداگروں کی تعداد صفر ہے۔ شہر کے فٹ پاتھس اور تجارتی کامپلکس کے دامن میں رات گذارتے ہوئے دن میں گداگری کرنے والوں کے علاوہ ایک بڑی تعداد ہفتہ میں صرف 3یوم گداگری کرنے والوں کی ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT