Monday , May 28 2018
Home / شہر کی خبریں / حیدرـآباد میں 3452 کے منجملہ 977 اوقافی جائیدادیں غائب

حیدرـآباد میں 3452 کے منجملہ 977 اوقافی جائیدادیں غائب

کروڑوں روپئے کی جائیدادوں پر ناجائز قبضے، کلکٹر حیدرآباد کی وقف رپورٹ میں انکشاف

حیدرآباد۔13ڈسمبر(سیاست نیوز) اوقافی جائیدادو ںکی تباہی میں شہر حیدرآباد سر فہرست بن چکا ہے! ضلع حیدرآباد میں درج اوقاف 3452 جائیدادوں میں 977 جائیدادیں غائب ہیں اور اس سلسلہ میں ضلع کلکٹر نے رپورٹ تیار کرتے ہوئے اس بات کی اطلاع وقف کو کو دیدی ہے کہ شہر حیدرآباد میں موجود اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کا کام بند کیا جاچکا ہے کیونکہ 3452 درج رجسٹرڈ اوقافی جائیدادوں میں 977 جائیدادو ںکا پتہ نہیں چل رہا ہے اور کروڑہا روپئے کی اوقافی جائیدادیں ناپید ہو چکی ہیں۔ ضلع کلکٹر حیدرآباد یوگیتا رانانے وقف بورڈ کو روانہ کردہ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی کہ ان جائیدادوں کا ریکارڈ موجود ہیں لیکن جائیدادیں موجود نہیں ہیں ۔ محکمہ مال اور وقف کے درمیان عدم تال میل کے سبب پیدا شدہ اس صورتحال ہونے والے نقصانات کے متعلق بتایا جاتاہے کہ چارمینار‘ بہادرپورہ اور آصف نگر میں سب سے زیادہ اوقافی جائیدادیں غائب ہیں اور ان کا کوئی نشان بھی موجود نہیں ہے۔ گذشتہ ماہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈس کی جانچ کی ہدایت دیتے ہوئے رات دیر گئے وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن کو مہر بند کرنے کی ہدایت جاری کی تھی وار اب حیدرآباد میں جائیدادوں کی نشاندہی کے عمل کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں ہی 977 جائیدادیں غائب ہوچکی ہیں ۔

یوگیتا رانا نے سیاسی دباؤ کے سبب اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کے عمل کو فی الفور روک دیا ہے اور اس بات سے ریاستی وقف بورڈ کو مطلع کردیا گیا ہے۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر حیدرآباد میں درج رجسٹرڈ اوقافی جائیدادوں کی عدم نشاندہی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے دفتر کو بھی جلد مطلع کردیا جائے گا کیونکہ چیف منسٹر نے اوقافی ریکارڈاور جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سخت گیر اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وقف بورڈ اور محکمہ مال کے درمیان تال میل کے فقدان کے نتیجہ میں ریکارڈس کی موجودگی کے باجود اوقافی جائیدادیں غائب ہیں اور اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں کچھ ایسی اوقافی جائیدادیں بھی ہیں جن کے ریکارڈس وقف بورڈ کے پاس موجود نہیں ہیں لیکن جائیدادیں اب بھی محفوظ ہیں۔اطلاعات کے مطابق وقف بورڈ میں موجود ریکارڈ جو مہر بند کیا گیا ہے وہ جملہ 220 الماریوں میں موجود ہے۔ ضلع کلکٹر نے شہر حیدرآباد کی اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈس کی بنیاد پر جائیدادوں کی نشاندہی اور تنقیح کی تحصیلداروں کو ہدایت جاری کی تھی اور اس تنقیح کے دوران یہ بات آشکار ہوئی کہ 3452 اوقافی جائیدادوں میں صرف 2090اوقافی جائیدادیں پائی جاتی ہیں جبکہ مابقی جائیدادوں کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے اور 385 جائیدادوں کی تحقیق و تنقیح کا عمل جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر حیدرآبادمیں جو اوقافی جائیدادیں ہیں ان میں 1231جائیدادیں بہادر پورہ منڈ ل میں ہیں جہاں 186اوقافی جائیدادوں کی شناخت نہیں ہو پارہی ہے۔چارمینار منڈل میں 303 اوقافی اراضیات ہیں جن میں 84 اراضیات کی نشاندہی نہیں ہو پارہی ہے۔ نامپلی منڈل میں موجود 466 اوقافی اراضیات میں 76 اوقافی جائیدادیں جن کے ریکارڈس موجود ہیں لیکن جائیدادیں غائب ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق شہر حیدرآباد کے مختلف منڈلوں مشیر آباد‘ سعید آباد اور بندلہ گوڑہ میں بھی یہی صورتحال پائی جاتی ہے اور جائیدادوں کے ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود جائیدادیں موجود نہیں ہیں جو کہ محکمہ مال اور وقف بورڈ کے درمیان عدم رتال میل کی بدترین مثال ثابت ہورہاہے۔ بتایاجاتاہے کہ اس ابتدائی تحقیقات کے فوری بعد وقف بورڈ کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد سرکاری سطح پر کاروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT