Friday , February 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / خاتم الاولیاء شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہٗ کے خانقاہی نظامِ تربیت کی ضرورت

خاتم الاولیاء شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہٗ کے خانقاہی نظامِ تربیت کی ضرورت

 

جن بزرگوں نے اس خاکسار کے قلب و دماغ پر گہرے اثر و رسوخ کو چھوڑا ہے ان میں ایک ذات گرامی حضرت مولانا حافظ و قاری محمد عبداﷲ المعروف مرشد باشاہ مدظلہ العالی کی ہے جو میرے استاذ گرامی و مربی خاص حضرت مولانا مفتی محمد ولی اﷲ قادریؒ شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ کے فرزند اکبر اور حضرت معزالدین ملتانیؒ کے مرید و خلیفہ اول ہیں ۔ آپ علمی ذوق اور تحقیق فکر و شعور کے حامل ہیں۔ سلاسل پر گہری نظر رکھتے ہیں ہر سلسلہ کے اکابر اور ان کے خدمات سے بخوبی واقف ہیں آپ میرے پیر و مرشد نبیرۂ محدث دکن حضرت ابوالخیرات سید انواراﷲ شاہ نقشبندی مجددی و قادری رحمۃ اللہ علیہ سے گہری عقیدت رکھتے اور جب کبھی ملاقات کرتے تو دوران گفتگو یہ بات ضرور کہتے کہ آج غلام علی شاہ دھلویؒ کے تربیتی نظام کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
حضرت شاہ علی دہلوی قدس سرہٗ (۱۱۵۶؁ ھ ؍ ۱۷۶۱؁ء ۔ ۲۲؍ صفر المظفر ۱۲۴۰؁ھ ؍ ۱۸۲۴؁ء ) اپنے آبائی و پیدائشی مقام بٹالہ صوبہ پنجاب سے ۱۰؍ رجب ۱۱۷۴؁ھ ؍ ۱۷۶۱؁ء کو دہلی تشریف لائے ، آپ کے والد ماجد شاہ عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ صاحب مجاہدہ بزرگ علوی سادات سے تھے ۔ سلسلہ قادریہ میں حضرت شاہ ناصرالدین قادری دہلوی قدس سرہٗ (م۱۱۷۴ھ؍۱۷۶۱ء) سے بیعت تھے ۔ حضرت شاہ غلام دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۱۱۷۸؁ھ میں جب آپ کی عمر بائیس سال کی تھی حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں شہید سے سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے مگر تلقین طریقۂ نقشبندیہ مجددیہ میں ملی تھی ۔ تاحیات اپنے پیر ومرشد سے وابستہ رہے اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے نیز پیر و مرشد کے وصال کے بعد تمام خلفاء کے اتفاق سے جانشین مقرر ہوئے اور جس حویلی میں حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ کی تدفین ہوئی اسی میں ایک خانقاہ کو قائم فرمایا اور ۴۵ سال تک مسند رشد و ہدایت پر فائز رہے اور لاکھوں سالکانِ راہِ طریقت اس خانقاہ میں آپ کی ذاتِ گرامی سے فیضیاب ہوئے ۔ دہلی میں آپ کی خانقاہ شاہ عبدالعزیزؒ کے مدرسے کے مدمقابل سمجھی جاتی تھی ۔ ایک میں ولی اللہی طریقے کی میانہ روی اور علم و عرفان تھا اور دوسرے میں مجددی مشرب کا احیائی ذوق و شوق اور متشرع تصوف تھا ۔
سرسید احمد خان اپنی تصنیف ’’آثار الصنادید‘‘ میں حضرت قبلہ علیہ الرحمۃ کے خانقاہی نظامِ تربیت اور اقطاعِ عالم سے جوق در جوق رجوع ہونے والوں کاآنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’آپ کی ذات فیض آیات سے تمام جہاں میں فیض پھیلا اور ملکوں ملکوں کے لوگوں نے آکر بیعت اختیار کی ۔ میں نے حضرت کی خانقاہ میں اپنی آنکھ سے روم اور شام اور بغداد اور مصر اور چین اور حبش کے لوگوں کو دیکھا ہے کہ حاضر ہوکر بیعت کی اور خدمات خانقاہ کو سعادت ابدی سمجھے اورقریب قریب کے شہروں کامثل ہندوستان اور پنجاب اور افغانستان کا کچھ ذکر نہیں کہ ٹڈی دل کی طرح اُمڈتے تھے۔ سچ ہے ؎
چوکعبہ قبلۂ حاجت شد از دیارِ بعید
روند خلق بدیدارش ازبسی فرسنگ
حضرت کی خانقاہ میں پانسو فقیر سے کم نہیں رہتے تھے اور سب کا روٹی کپڑا آپ کے ذمہ تھا اور باوجود یکہ کہیں سے ایک حبہ مقرر نہ تھا ، اﷲ تعالیٰ غیب سے کام چلاتا تھا ۔ اس پر فیاضی اور سخاوت اس قدر تھی کہ کبھی سائل کو محروم نہیں پھیرا جو اس نے مانگا وہی دیا ۔ جو چیز عمدہ اور تحفہ آپ کے پاس آتی اس کو بیچ کر فقراء پر صرف کرتے اور جیسا گزی گاڑھا موٹا تمام فقیروں کو میسر ہوتا ویسے ہی آپ بھی پہنتے اور جو کھانا سب کو میسر ہوتا وہی آپ کھاتے ‘‘۔
آپ نے اپنے عہد میں ایک عظیم روحانی انقلاب بپا کیا اور خلفاء کی بڑی بڑی کھیپ اقطاع عالم میں روانہ کیں۔ آپ کے ایک خلیفہ حضرت شیخ خالد کی بدولت ملک روم ، عراق اور کردستان میں نقشبندی سلسلہ کو غیرمعمولی فروغ ملا اور وقت کے عمائدین ، علماء ، فقھاء ، اصولیین آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت کئے ۔ آپ ہی کے ایک خلیفہ نقشبند دکن حضرت سعداﷲ شاہ صاحب قبلہؒ ہیں جو باشارۂ نبوی دکن تشریف لائے اور مسجد الماس ( علی آباد، حیدرآباد) میں قیام فرمایا جہاں حضرت مسکین شاہ صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ جیسی عظیم ہستی داخل سلسلہ ہوئی اور آپ کی صحبت بافیض میں رہکر آسمانِ رشد و ہدایت پر مثل خورشید تاباں ظاہر ہوئے ۔ دوسری طرف روحانیت میں ایک عظیم ہستی حضرت پیر بخاری شاہ رحمۃ اللہ علیہ داخل سلسلہ ہوئے جن کے دست حق پرست پر محدث دکن ابوالحسنات سید عبداﷲ شاہ صاحب قبلہ جیسی نورانی ہستی فیضیاب ہوئی جن سے ایک جہاں روشن و منور ہوا ۔ اس عالمگیر روحانی انقلاب کی بدولت حضرت شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کو تیرہویں صدی ہجری کا مجدد کہا جانے لگا ۔
سرسید احمد خان کی بھول بھلائیوں کے قطع نظر ان کو شاہ غلام علی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے غیرمعمولی عقیدت تھی بلکہ بچپن میں وہ حضرت قبلہ علیہ الرحمۃ کی شفقتوں سے بہرہ مند ہوئے ہیں۔ بڑے عمدہ سلیقے سے انھوں نے آپ کا تذکرہ لکھا ہے جس کے چند ایک اقتباسات درج ذیل ہیں:
’’آپ کی اوقات شریف نہایت منضبط تھی ۔ کلام اﷲ آپ کو حفظ تھا اور تحقیق قرأت بھی بہت خوب تھی۔ نماز صبح اول وقت ادا فرماکر دس سیپارہ کلام اﷲ کے ادا فرماتے اور بعد اس کے حلقۂ مریدین جمع ہوتا اور تانماز اشراق سلسلۂ توجہہ اور استغراق جاری رہتا ۔ بعد ادا کرنے نماز اشراق کے تدریس حدیث او ر تفسیر شروع ہوتی ۔ جو لوگ اس جلسہ کے بیٹھنے والے ہیں اُن سے پوچھا چاہئے کہ اس میں کیا کیفیت ہوتی تھی اور پڑھنے پڑھانے اور سننے والوں کا کیا حال ہوتا تھا۔ جہاں نامِ رسولِ خدا آتا آپ بے تاب ہوجاتے اور اس بیتابی میں حاضرین پر عجیب کیفیت طاری ہوتی تھی ۔ سبحان اﷲ ! کیا شیخ تھے ۔ باقی باﷲ اور عاشق رسول اﷲ ! علم حدیث اور تفسیر نہایت مستحضر تھا ۔ اگر باعتبار علوم عقلی سرآمد فلسفیانِ متقدمین اور متاخرین لکھا جاوے تو بھی بجا ہے ۔
اﷲ تعالیٰ نے آپ کو کیا مجمع علوم پیدا کیاتھا کہ ہر ایک علم ظاہری اور باطنی میں درجہ کمال بہ انتہائے کمائے حاصل تھا ۔ بعد اس درس تدریس کے آپ کچھ تھوڑا سا کھانا کہ عبادت معبود کو کافی ہو ، تناول فرماکر بہ اتباع سنت نبوی قیلولۂ استراحت میں آرام کرتے ۔ تھوڑی دیر بعد اول وقت نماز ظہر ادا فرماکر پھر درس و تدریس حدیث و تفسیر و فقہ اور کتب تصوف میں مشغول ہوتے اور نماز عصر تا نماز مغرب حلقۂ مریدین جمع ہوتا اور ہر ایک آپ کی توجہہ سے علو مدارج حاصل کرتا ۔ ہمیشہ تمام رات آپ شب بیداری فرماتے تھے ۔ شاید کہ گھڑی دو گھڑی بمتقضائے بشریت غفلت آجاتی ہو سو وہ بھی جانماز پر ۔ برسوں آپ نے چارپائی پر استراحت نہیں فرمائی ۔ اگر نیند کابہت غلبہ ہوا یونہی اﷲ اﷲ کرتے پڑ رہے ۔ آپ کی خانقاہ میں عجب عالم ہوتا تھا ۔ بوریا کا فرش رہتا تھا اور اسی کے سرے پر ایک مصلیٰ کبھی بوریا کا اور کبھی اور کسی چیز کا پڑا رہتا تھا اور وہیں ایک تکیہ چمڑے کارکھا رہتا ۔ آپ دن رات اسی مصلیٰ پر بیٹھے رہتے اور عبادت معبود کیا کرتے اور سب طالبین گرداگرد آپ کے حلقہ باندھے بیٹھے رہتے اور ہر ایک کو جدا جدا فیض حاصل ہوتا ‘‘۔
… میں نے اپنے دادا کو تو نہیں دیکھا ۔ آپ ہی کو دادا حضرت کہا کرتا تھا۔ آپ کے کمالات اور خرق عادات اس سے زائد کیا بیان میں آویں۔ اس واسطے اس مختصر میں اس کی گنجائش نہیں دیکھتا اور میرے نزدیک ایسے شخص کی کرامت کا بیان کرنا اس کے رتبہ سے کم ہے کیونکہ فقیری کا رتبہ اس سے آگے ہے ۔ غرض کہ سالہا سال تک آپ کی ذات فیض آیات سے یہ عالم منور رہااور جوکہ ہر ایک کو اس دارالفناء سے دارالبقاء کو چلنا ہے آپ نے بھی ہفتہ کے دن صفر کی بائیسویں ۱۲۴۰؁ ھ میں اس جہان سے انتقال کیا اور آپ کی خانقاہ میں آپ کے پیر کے پہلو میں دفن کیا ۔ اناللہ وانا الیہ راجعون ط ’’نوراللہ مضجعہ ‘‘ آپ کے انتقال کی تاریخ ہے ۔
(ماخوذ از تاریخ ہندوستان رود کوثر ، ص : ۶۵۳۔۶۵۵)

TOPPOPULARRECENT