خاتون ڈاکٹر سے بدسلوکی، جموں و کشمیر کے وزیرصحت مستعفی

الزامات ثابت ہونے پر شبیرخان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، فاروق عبداللہ اور غلام نبی آزاد کا بیان

الزامات ثابت ہونے پر شبیرخان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، فاروق عبداللہ اور غلام نبی آزاد کا بیان
جموں ۔ 7 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے کانگریس وزیر شبیرخان آج مستعفی ہوگئے جب ایک خاتون ڈاکٹر کی شکایت پر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ اس خاتون ڈاکٹرنے الزام عائد کیا تھا کہ شبیرخان نے اپنے دفتر میں اس پر دست درازی کی کوشش کی تھی جس کے بعد ان کی گرفتاری اور استعفیٰ کے مطالبہ میں شدت پیدا ہوگئی تھی۔ راجوری کے رکن اسمبلی شبیرخان مملکتی وزیر صحت ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر عمر عبداللہ کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا جو گورنر این این ووہرا کے پاس بھیج دیا گیا۔ سیاسی جماعتوں نے شبیرخان کے خلاف سخت کارروائی کیلئے دباؤ ڈالا تھا۔

اس دوران کانگریس کے ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر سیف الدین سوز نے تحقیقات کی تکمیل تک شبیرخان کو سبکدوش ہوجانے کی ہدایت دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان کے فوری استعفیٰ کامطالبہ کیا تھا۔ چند دوسری جماعتوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس نے گذشتہ روز ایک علحدگی پسند لیڈر کی بیوی اور لیڈی ڈاکٹر کی شکایت پر ایک مقدمہ درج کیا تھا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ وزیر نے سرینگر میں انہیں اپنے دفتر طلب کیا اور دست درازی کی کوشش کی۔ اپوزیشن پی ڈی پی ترجمان نعیم اختر نے کہا کہ ’’یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ اس ریاست میں ایک لیڈی ڈاکٹر خود وزیرصحت کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی بھی خاتون محفوظ ہی نہیں رہی ہے‘‘۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ لال سنگھ نے شبیرخان کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ ان کے خلاف شکایت درج کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔ اس بات کا امکان ہیکہ یہ واقعہ سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔ مرکزی وزیر اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ اور مرکزی وزیرصحت غلام نبی آزاد نے دہلی میں کہا کہ اگر دست درازی و بدسلوکی کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو وزیر کے خلاف کارروائی کی جائے

TOPPOPULARRECENT