Thursday , December 14 2017
Home / جرائم و حادثات / خاتون کا روحانی علاج کے بہانے استحصال

خاتون کا روحانی علاج کے بہانے استحصال

پولیس کی عدم کارروائی پر انسانی حقوق کمیشن سے رجوع
حیدرآباد /19 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) شہر میں جادو گروں کی سرگرمیاں عروج پر پہونچ گئی ہیں ۔ آئے دن شہر کے کسی نہ کس مقام پر روحانی علاج کے بہانہ دھوکہ دینے کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں ۔ گذشتہ روز ہمایوں نگر میں پیش آئے ایک واقعہ میں عامل کو کالا جادو کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تو پولیس آصف نگر میں ایک واقعہ منظر عام پر آیا ۔ تاہم اس واقعہ میں پولیس پر لاپرواہی اور جلد بازی کے الزامات پائے جاتے ہیں اور مبینہ طور پر عامل کو بچانے کے الزامات کا بھی آصف نگر سرکل انسپکٹر سامنا کر رہے ہیں ۔ تاخیر سے منظر عام پر آنے سے واقعہ میں متاثرہ خاتون نے انصاف کیلئے انسانی حقوق کمیشن کا رخ کیا ہے اور الزام لگاتے ہوئے کہا کہ رشید نامی شخص نے علاج کے بہانہ اس کا اغواء کیا تھا اور اس کا جنسی استحصال کرتے ہوئے 20 دن بعد اسے چھوڑ دیا ۔ بیٹے کے علاج کے بہانہ رشید نے متاثرہ خاتون کے گھر تک رسائی کرلی ۔ اس عامل مشتبہ کالا جادو کرکے اس خاتون کے شوہر نے ہی متعارف کروایا تھا ۔ اور اپنے بیٹے کی صحت سے فکر مند اس جوڑے نے اس کی ہر بات مانی تھی انسانی حقوق کمیشن سے درخواست کرنے والی اس خاتون نے بتایا کہ رشید نے اسے خوف زدہ کردیا کہ اگر وہ اس کی شرائط نہیں مانے گی تو اس کے بیٹے اور شوہر کی جان کو خطرہ ہوگا اور ان کا خاندان برباد ہوجائے گا ۔ اب گذشتہ چار ماہ سے یہ خاتون انصاف کی منتظر ہے ۔ اس وقت آصف نگر پولیس نے خاتون کے شوہر کی شکایت پر گمشیدگی کا مقدمہ درج کیا تھا اور خاتون کی واپسی کے بعد رشید کے خلاف کارروائی سے گریز کیا ۔ ان الزامات کے متعلق آصف نگر پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے اس وقت بیان دیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہے تاہم اب خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے نہیں گئی تھی ۔ اسے ڈرا دھمکاکر لے جایا گیا تھا اور اس وقت بھی بیان دینے کیلئے اس پر دباؤ تھا چونکہ رشید نے اسے دھمکی دی تھی کہ وہ اگر پولیس میں اس کے خلاف بیان دے گی تو اس کے شوہر اور بیٹے کو جان سے مار دے گا ۔ لیکن اب آصف نگر پولیس اس خاتون کے بیان کو ماننے تیار نہیں اور نہ ہی تازہ کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو انصاف اور عامل کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے ۔ پولیس کے اعلی عہدیداروں سے بھی رجوع ہوکر اس خاتون نے درخواست کی تاہم عدم کارووائی پر اس نے انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہوئی ۔ پولیس کے اعلی عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ خواتین کے ساتھ انصاف کو یقینی بناتے ہوئے متاثرہ خاتون سے انصاف کرے اور عامل کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کریں ۔

TOPPOPULARRECENT