Monday , June 18 2018
Home / سیاسیات / خاتون کی عصمت ریزی کیخلاف برہمی

خاتون کی عصمت ریزی کیخلاف برہمی

اوبر کیاب سرویس پر دہلی میں امتناع، ایف آئی آر درج ،ملزم ڈرائیور پولیس تحویل میں

اوبر کیاب سرویس پر دہلی میں امتناع، ایف آئی آر درج ،ملزم ڈرائیور پولیس تحویل میں
نئی دہلی ۔ 8 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )بین الاقوامی ٹیکسی بکنگ سرویس او بر (Uber) پر آج دارالحکومت دہلی میں امتناع عائد کردیا گیا ہے اور حکومت نے ملک بھر میں اس سرویس کے خلاف اسی طرح کی کارروائی کا اشارہ دیا۔ اس کے علاوہ اوبر کیاب سرویس کیخلاف مبینہ دھوکہ دہی کیلئے دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے جبکہ ٹیکسی ڈرائیور کی جانب سے ایک 27 سالہ خاتون ایکزیکٹیو کی مبینہ عصمت ریزی کے واقعہ پر سارے ہندوستان میں برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ اس ٹیکسی ڈرائیور کے بارے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہ ماضی میں ایسے جرائم کا متعدد مرتبہ ارتکاب کرچکا ہے اور اس سے پہلے جیل بھی جاچکا ہے ۔ اس واقعہ نے ایک نیا موڑ اُس وقت اختیار کرلیا جبکہ دہلی پولیس کے ایڈیشنل ڈی سی پی نے ٹیکسی ڈرائیور کو جو ’’صداقتنامہ کردار ‘‘ جاری کیا وہ بھی جعلی تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ملزم ڈرائیور شیوکمار یادو کو جاریہ سال اگسٹ میں ایڈیشنل ڈی سی پی نے یہ سرٹیفکیٹ دیا تھا۔ دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے بتایا کہ یہ صداقتنامہ کردار بھی جعلی ثابت ہوا اور اس کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے ۔ یہ سرٹیفکیٹ اوبر کو فراہم کیا گیا تھا ۔ دہلی پولیس اوبر کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے پر بھی غور کررہی ہے کیونکہ عصمت ریزی واقعہ کی تحقیقات کے دوران امریکی کیاب کمپنی کی مجرمانہ لاپرواہی اور جرم سرزد کرنے کی حوصلہ افزائی کا پتہ چلا ہے ۔ اس کمپنی کے جنرل منیجر (مارکٹنگ) گگن بھاٹیہ سے آج پوچھ تاچھ کی گئی ۔ بھاٹیہ اس کمپنی کے ہندوستانی برانچ کا انچارج بتایا جاتا ہے ۔ ملزم ڈرائیور شیوکمار یادو کو متھرا میں گرفتار کرنے کے بعد دہلی حکومت نے اوبر کمپنی کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ یادو 2011 ء میں عصمت ریزی مقدمہ میں 7 ماہ جیل میں گزار چکا ہے ۔ اُسے بعد میں اس مقدمہ میں بری کردیا گیا تھا۔ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ نے www.uber.com پر ٹرانسپورٹ خدمات کی فراہمی سے متعلق تمام سرگرمیوں پر فوری اثر کے ساتھ امتناع عائد کردیا ہے ۔ ڈرائیور یادو کو آج دہلی کی عدالت نے 3 دن کیلئے پولیس تحویل میں دیدیا ۔ پولیس نے بتایا کہ اُس کے زیراستعمال موبائیل فون کی دستیابی کیلئے تفتیش ضروری ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مرکزی وزارت داخلہ تمام ریاستی حکومتوں اور 9 مرکزی زیرانتظام علاقوں میں جہاں اوبر اپنی کیاب سرویسیس چلاتی ہے امتناع کی ہدایت دینے کے بارے میں غور کررہی ہے ۔ عصمت ریزی کے اس واقعہ نے دہلی میں ٹرانسپورٹ شعبہ میں مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کو بھی منظرعام پر لایا ہے ۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس لازمی پی ایس وی بیاچ موجود نہیں تھا جو ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کی جانب سے پولیس تنقیح کے بعد جاری کیا جاتا ہے ۔ اوبر نے اس کا جائزہ لینا ضروری نہیں سمجھا اور یادو کو ملازمت فراہم کردی ۔ 32 سالہ شیوکمار یادو نے جو اوبر کیاب چلارہا تھا ، ایک خاتون کی عصمت ریزی کی جو گڑگاوں میں فینانس کمپنی میں ملازمت کیا کرتی تھی ۔ وہ شمالی دہلی کے اندرلوک علاقہ میں واقع اپنے گھر واپس ہورہی تھی ۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم یادو عصمت ریزی کے بعد نیپال فرار ہونے کا منصوبہ بنارہا تھا لیکن متھرا میں پولیس نے اُسے گرفتار کرلیا۔

TOPPOPULARRECENT