Thursday , December 13 2018

خادم اردو ڈاکٹر کے زین العابدین کی خدمات ناقابل فراموش

کرنول /8 اپریل( معین الدین قمری ) الحاج ڈاکٹر کے زین العابدین بانی الرحمن ایجوکیشنل سوسائٹی کرنول جن کی اردو تعلیمی و تدریسی خدمات سے شہر کرنول و اطراف و اکناف کے لوگوں محتاج تعارف نہیں ۔ آپ کی ولادت 1935 جون 5 کو ہوئی تھی ۔ اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوئے ۔ اس غرض سے سرکاری مدرس کی حیثیت سے اپنے 40 سال خدمات کے بعد 1993

کرنول /8 اپریل( معین الدین قمری ) الحاج ڈاکٹر کے زین العابدین بانی الرحمن ایجوکیشنل سوسائٹی کرنول جن کی اردو تعلیمی و تدریسی خدمات سے شہر کرنول و اطراف و اکناف کے لوگوں محتاج تعارف نہیں ۔ آپ کی ولادت 1935 جون 5 کو ہوئی تھی ۔ اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوئے ۔ اس غرض سے سرکاری مدرس کی حیثیت سے اپنے 40 سال خدمات کے بعد 1993 میں سبکدوشی حاصل کرلی ۔ اس کے بعد سے انہوں نے اردو کی خدمات کیلئے اپنے آپ کو وقف کردیا ۔ انہوں نے شہر و اطراف و اکناف میں جاکر اردو زبان و ادب کو پھیلایا ۔ اسی غرض سے انہوں نے الرحمن ایجوکیشنل سوسائٹی کی بنیاد ڈالی ۔ انہوں نے ادارہ دبیات و عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ حیدرآباد کی جانب سے اردو تعلیمی مراکز قائم کئے ۔ طلباء میں اردو تعلیم کے شعور کو نہ صرف پیدا کیا بلکہ ان طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی ہر طرح کی مدد بھی کی ۔ انہوں نے رائل سیما کے علاقہ کے طلباء کیلئے بی ایڈ اردو میڈیم کا انٹرنس امتحان کرنول میں منعقد کرانے کیلئے انتھک کوشش کی ۔ جس کی بنیاد پر آج اس علاقہ کے طلباء بی ایڈ کا امتحان اردو زبان میں لکھ رہے ہیں ۔ ڈاکٹر کے زین العابدین کا ایک اہم کارنامہ شہر کرنول میں قومی کونسل برائے فرؤغ اردو زبان کی جانب سے اردو ڈپلوما عربی ڈپلوما اور کیلی گرافی و گرافک ڈیزائن کی خدمات قابل تحسین ہیں ۔ جس سے ہزاروں طلباء و طالبات استفادہ کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ کے اردو کے خدمات دینی مدارس و مکانت میں رہے ہیں ۔ آپ پیشہ کے اعتبار سے مدرس رہے ہیں ۔ لیکن آپ مستند طبیب بھی رہ چکے ہیں ۔ مرحوم کے پسماندگان میں دو صاحبزادیاں اور چار صاحبزادے ہیں ۔ بڑے فرزند ڈاکٹر علیم الدین قمری فیکلٹی معالجات نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن بنگلور میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر محمد ظہیرالدین ، فیاض الدین ، معین الدین ہیں ۔ وہ 28 مارچ 2015 کو ان کا انعقاد ہوا ۔ آپ کی نماز جنازہ اسی دن بعد نماز عصر مسجد خوبصورت بڑے صاحب میں ادا کی گئی اور تدفین احاطہ حضرت اسحق سناء اللہ روضہ درگاہ میں عمل میں آئی ۔ شہر کے علماء حفاظ ، ادباء و عمائدین شہر اسی طرح قومی کونسل کے اسٹاف کثیر تعداد میں شرکت کئے ۔

TOPPOPULARRECENT