Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / خادم الحرمین شریفین نے باوقار’ ملک فیصل‘ اعزازات عطا کئے

خادم الحرمین شریفین نے باوقار’ ملک فیصل‘ اعزازات عطا کئے

ریاض۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے ممتاز عالم دین اور مختلف مذاہب کے تقابلی جائزہ پر غیرمعمولی عبور کے حامل ڈاکٹر ذاکر نائیک کو دین اسلام کے لئے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر خادم الحرمین شریفین اور سعودی عرب کے نئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ملک کا باوقار اعزاز پیش کیا۔ شاہ سلمان نے گزشتہ روز یہاں منعقدہ ایک پرا

ریاض۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے ممتاز عالم دین اور مختلف مذاہب کے تقابلی جائزہ پر غیرمعمولی عبور کے حامل ڈاکٹر ذاکر نائیک کو دین اسلام کے لئے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر خادم الحرمین شریفین اور سعودی عرب کے نئے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ملک کا باوقار اعزاز پیش کیا۔ شاہ سلمان نے گزشتہ روز یہاں منعقدہ ایک پراثر تقریب میں پانچ مختلف زمروں کے تحت غیرمعمولی کارنامے انجام دینے والی ممتاز شخصیات کو ’’کنگ فیصل انٹرنیشنل پرائز 2015ء‘‘ پیش کئے۔ دین اسلام کی خدمت، اسلامی تعلیمات، عربی زبان و ادب، طب و سائنس جیسے پانچ مختلف زمروں میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے افراد یا اداروں کو کنگ فیصل انٹرنیشنل پرائز دیئے جاتے ہیں۔ یہ اعزاز متعلقہ فرد یا ادارہ کے کارناموں کے بارے میں دستی تحریر پر مبنی عربی صداقت نامہ، 24 قیراط کے 200 گرام خالص سونے کے یادگار تمغہ اور 2,00,000 امریکہ ڈالر کے ایک چیک پر مشتمل ہوتا ہے۔ خادم الحرمین شاہ سلمان کے ہاتھوں ڈاکٹر ذاکر نائیک کو اس باوقار اعزاز کی پیشکشی کے موقع پر وزراء، شاہی خاندان کے ارکان، سینئر سرکاری عہدیدار، ماہرین تعلیم، سرکردہ علمائے اسلام اور دوسرے بھی موجود تھے۔ اس تقریب میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی سوانح حیات کے اقتباسات ویڈیو کے ذریعہ دکھائے گئے جس میں انہوں نے کہا کہ ’’اسلام ہی واحد مذہب ہے جو ساری انسانیت کیلئے امن فراہم کرسکتا ہے‘‘۔ ممبئی میں موجود 49 سالہ ڈاکٹر ذاکر نائیک اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے صدر ہیں۔ ان کا شمار دنیا کے بہترین علمائے دین میں ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے ایک بہترین غیرعربی داں عالم دین بھی ہیں۔ انہیں دین اسلام کی خدمت اسلام کے بارے میں درس و تدریس، مذاہب کے تقابلی جائزوں پر ’’پیس ٹی وی ‘‘چیانل کے قیام پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ دہشت گردوں پر اپنے نظریات کے سبب ڈاکٹر نائیک اکثر مغربی دنیا سے نظریاتی طور پر متصادم رہے ہیں۔ برطانیہ نے 2010ء کے دوران ذاکر نائیک کے داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس فیصلے کیلئے ان کے ناقابل قبول رویہ کو اہم وجہ بتایا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں سے مبینہ طور پر یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کو صحیح یا غلط کہنے کے بارے میں محتاط رہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’اگر آپ میرے نظریہ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اگر سچ کہا جائے۔ وہ (اُسامہ) اگر دشمنان اسلام کے خلاف لڑ رہے تھے تو میں بھی ان کے ساتھ ہوں‘‘۔ ذاکر نائیک کے علاوہ دیگر ایوارڈ یافتگان میں سعودی عرب کے عبدالعزیز بن عبدالرحمن کاکی (اسلامی تعلیمات) امریکہ کے ایوان گورڈن (میڈیسن) شامل ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے مائیکل گرائزیل اور امریکہ کے عمر مونس یاقعی کو سائنس کے شعبہ میں ان کی بہترین خدمات پر انعام دیا گیا ہے تاہم عربی زبان و ادب پر اس سال کسی کو بھی کوئی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT