Saturday , November 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / خاصانِ خدا عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں اور ہم ؟

خاصانِ خدا عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں اور ہم ؟

مرسل : ابوزہیر نظامی

حضور صلی اﷲ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ کوئی شخص ایسا نہیں جو گناہگار نہ ہو لیکن جو توبہ کرے وہ تمام گناہگاروں سے بہتر ہے ۔ اور فرمایا جو شخص گناہ سے توبہ کرتا ہے وہ ایسا ہوجاتا ہے کہ جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔ اور فرمایا گناہ سے توبہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ پھر اس گناہ کے نزدیک تک نہ جائے ۔ حق تعالیٰ جس بندہ کو گناہوں پر پشیمان دیکھتا ہے ۔ اُسے بخشش چاہنے سے پہلے ہی بخش دیتا ہے اور حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ مغرب کی جانب ایک دروازہ ہے جس کی چوڑان ستر برس کا راستہ ہے۔ یا چالیس برس کا جس دن سے زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں ۔ اسی دن سے وہ دروازہ توبہ کے لئے کھلا ہوا ہے اور مغرب کی طرف سے آفتاب طلوع ہونے تک کھلا رہیگا اور فرمایا ہر دوشنبہ اور جمعرات کے دن بندوں کے اعمال حق تعالیٰ کی جناب میں پیش کئے جاتے ہیں۔ جس نے توبہ کی ہوتی ہے اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے اور جس نے بخشش چاہی ہوتی ہے اس کی مغفرت ہوجاتی ہے او رجن لوگوں کے دلوں میں کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ ان کو اسی طرح گناہگار رہنے دیتے ہیں ۔
اول توبہ سے نور معرفت ایمان پیدا ہوتا ہے اور آدمی اس نور کی روشنی سے دیکھتا ہے کہ گناہ زہر قاتل ہے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ اس نے اس زہر کو بہت کھایا ہے اور اب ہلاکت کے نزدیک پہونچ گیا ہے تو بالضرور اس میں پشیمانی اور خوف پیدا ہوجاتا ہے جیسے وہ آدمی جس نے زہر کھایا ہو پشیمان ہوتا ہے اور ڈرتا ہے اور اس پشیمانی کی وجہ سے حلق میں انگلی ڈالتا ہے تاکہ قے کردے اور پھر اس ہراس کی وجہ سے دور کی تدبیر کرتا ہے تاکہ اس زہر کا جو اثر پیدا ہوا ہے وہ رفع ہوجائے ۔ اس طرح آدمی جب دیکھتا ہے کہ میں نے (برائی ) کی وہ زہر آلود شہد کی طرح تھی کہ اس وقت تو شیریں معلوم ہوتا ہے ۔ لیکن آخر کو سانپ کی طرح کاٹتا ہے تو وہ گناہگار انسان اپنے گزشتہ گناہوں پر پشیمان ہوتا ہے اور اس کی جان میں خوف کی آگ لگ جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاک و تباہ دیکھتا ہے اور اس میں خواہش اور گناہ کی جو حرص ہوتی ہے وہ اس آگ میں جل جاتی ہے اور وہ خواہش حسرت سے مبدل ہوجاتی ہے اور وہ گزشتہ گناہوں کی تلافی کا قصدو ارادہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آئندہ کبھی بھی گناہ کے نزدیک نہ جائیگا اور وہ پھر لباس جفا کواوتار ڈالتا ہے اور بساط وفا کو بچھاتا ہے اور وہ اپنے تمام حرکات و سکنات کو بدل ڈالتا ہے ۔ ا سی طرح اب سراپا گریہ و حسرت و اندوہ بن جاتا ہے اور پہلے اہل غفلت کے پاس بیٹھا کرتا تھا اب اہل معرفت کی صحبت میں بیٹھتا ہے ۔ پس توبہ حقیقت میں پشیمانی ہے اور اس کی اصل معرفت و ایمان کا نور ہے ۔ اور اس کی فرع حالات کا تبدیل کردینا اور معصیت و مخالفت سے تمام اعضاء کو باز رکھ کر حق تعالیٰ کی موافقت و عبادت کرنا ہے ۔(کیمیائے سعادت)

حضرت سیدنا علی کرم اﷲ وجہ ، فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کے لئے دنیا میں قیامت تک رہنے والی امان استغفار ہے ۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ توبہ کا کمال یہ ہے کہ دل لذت گناہ بلکہ گناہ بھول جائے توبہ استغفار بجائے خود عبادت ہے ۔ صوفیہ کا ارشاد ہے کہ ہم لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں لیکن خاصان خدا عبادت کرکے توبہ کرتے ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمتوں کے حصول کیلئے گناہگار گناہوں سے باز آجائیں اور اچھے پارسا اور نیک اپنی نیکی کو کم جانیں اور توبہ کرتے رہیں ۔ اﷲ تعالیٰ سے عفو ومغفرت چاہنا بندوں کیلئے سعادت عظیم ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT