Saturday , November 18 2017
Home / اداریہ / خاطیوں کو سزائے موت

خاطیوں کو سزائے موت

جس شرطِ وفا نے کیا محرومِ محبت
اس شرطِ وفا کی کوئی بنیاد تو ہوتی
خاطیوں کو سزائے موت
عوام الناس کی توجہ مبذول کرانے والے سپریم کورٹ کے فیصلے نے ہندوستانی قانونی نظام کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا ہے۔ 16 ڈسمبر 2012ء کو نئی دہلی میں ایک چلتی بس میں حیوانیت سوز واقعہ میں درندہ صفت لوگوں نے ایک 17 سالہ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کرکے اسے بس سے ڈھکیل کر تڑپتا ہوا چھوڑ دیا تھا۔ اس واقعہ نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ چار سال چار ماہ اور 18 دن بعد سپریم کورٹ نے رولنگ دی کہ اس لڑکی کے خاطیوں کو سزائے موت دی جائے۔ متوفی لڑکی کے والدین کے ساتھ ساتھ ان تمام انسانوں کو اس کیس کے فیصلے کا انتظار تھا جنہوں نے ایسے واقعات کی روک تھام اور خاطیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے فیصلے کے ذریعہ عوام الناس کے ایقان کو مزید مضبوط کردیا ہے۔ سنگین جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو سزائے موت دینے کے تعلق سے قانونی بحث کے درمیان عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ حالات اور واقعہ کی سنگینی کے تناظر میں درست اور قابل خیرمقدم ہے۔ اس فیصلہ کی ستائش کرنے کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہیکہ آیا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب قوم کو آرام کی نیند سونی چاہئے۔ اس ملک کی سرزمین پر اب خواتین کے خلاف کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والے کئی ہزاروں کی تعداد میں ہوں گے جن تک قانون کا ہاتھ نہیں پہنچ پایا ہے۔ ملک کے دارالحکومت دہلی میں ایسے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں اور یہاں خواتین کی سلامتی کا معاملہ ہمیشہ تشویش کا باعث رہتا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک خاص نوعیت کا واقعہ ہے خصوصی فیصلہ ہے۔ عصمت ریزی کی صرف اسی کیس کو عوام الناس کی بڑی تعداد کی ہمدردی حاصل تھی۔ ایک طرف عوام پولیس کی نااہلی پر برہمی کا اظہار کررہے تھے دوسری طرف اس ملک کے قانونی نظام کو کوس رہے تھے۔ ملک بھر میں رونما ہونے والے عصمت ریزی کے ان گنت واقعات میں بدبختی سے خاطیوں کو رہائی ملتی ہے بلکہ کئی کیسوں میں چارج شیٹ بھی داخل نہیں کی جاتی لیکن اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہندوستانی معاشرہ میں کچھ تبدیلی آنا ضروری ہے۔ اس فیصلے سے پوری قوم کو ایک سخت پیام ملا ہے۔ عوام کو یہ خوف ہونا چاہئے کہ عصمت ریزی کا جرم سزائے موت کا مؤجب بنتا ہے جہاں تک اس کیس کی سنگینی اور عدالت کے فیصلے سے مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں بیشتر عوام کا احساس ہے کہ اس طرح کے سخت فیصلوں کے باوجود کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ شہری علاقوں میں ہونے والے جرائم کو میڈیا کی جانب سے فوری پیش کیا جاتا ہے مگر دیہی علاقوں میں ایسے سنگین واقعات کی کوئی خبرگیری نہیں کی جاتی۔ آواز خلق کیا ہوتی ہے؟ لوگوں کی آواز، لوگوں کا احساس و ادراک، آواز خلق کی بنیاد تاریخی تجربات و شاہدات پر ہوتی ہے۔ اس لئے آواز خلق کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ سزائے موت پانے اولے تمام چار مجرمین رقم کیلئے صدرجمہوریہ کو درخواست پیش کریں گے۔ اب متاثرہ خاندان کو صدرجمہوریہ کے فیصلے کا انتظار رہے گا۔ ہندوستان میں سزائے موت کا اطلاق نازک بنا ہوا ہے۔ یوروپی ممالک ہندوستان کے اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں لیکن جو جرائم غیرانسانی بنیادوں پر انجام دیئے جاتے ہیں ان کیلئے سخت ترین سزاء ہی درست ہوگی۔ عدالتوں میں جب سنگین جرائم کے کیس کی سماعت ہوتی ہے تو عمومی طور پر فیصلے سنانے سے قبل جرم کا ارتکاب کرنے والے کی ذہنی کیفیت، مالی صورتحال، غربت اور اس کے پس منظر کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کیس میں سپریم کورٹ کی خصوصی توجہ کی وجہ سے ہی آج خاطیوں کو کیفرکردار تک لے جان کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یہ واقعہ جس طریقہ سے پیش آیا اس پر غور کرتے ہیں تو سماج کو لاحق خطرات کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اگر ایسے کیس کے ملزمین کو سخت یا مناسب سزاء نہ دی گئی تو پھر سماج میں خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوجائے گا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کی سنگینی کو محسوس کرکے ہی فیصلہ سنایا ہے تو معاشرہ میں اب جرائم کا گراف کم ہونے کی بھی توقع کی جانی چاہئے یا نہیں یہ سوال اس وقت تک معلق رہے گا تاوقتیکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عملہ کے ارکان اپنے فرائض سے غفلت نہ برتیں گے۔ معاشرہ کیلئے نقصان یا خطرناک ثابت ہونے والے عناصر کی نشاندہی اور ان کے جرائم کی روک تھام کیلئے پولیس اور عدلیہ کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سماج میں بڑھتے ہوئے اخلاقی زوال کو روکنا اسی معاشرہ کے ذمہ داروں کا بھی کام ہے۔
سیونگ بینک اکاؤنٹ میں اقل ترین ڈپازٹ
شہری علاقوں کے بینکوں میں اگر کوئی سیونگ اکاؤنٹ رکھتا ہے اور اس میں اقل ترین ڈپازٹ کی شرط کو پورا نہ کرے تو اس پر جرمانہ عائد ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے جو ملک کا سب سے بڑا بینک ہے۔ بینک کھاتہ داروں کیلئے جو رہنمایانہ اصول مرتب کئے ہیں اس کے مطابق کئی غریب بینک کھاتہ داروں کیلئے مشکل ہوگا۔ ایسے غریب کھاتہ دار جو اپنے بینک اکاؤنٹ میں جمع ماہانہ کھاتہ کی رقم کا تناسب برقرار رکھنے میں ناکام ہوتے ہیں انہیں 50 تا 75 روپئے کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ ایس بی آئی نے غریب آبادیوں کا خیال نہیں کیا بلکہ اس نے میٹرو شہروں کے بینک کھاتہ داروں پر بھی بوجھ ڈال دیا ہے۔ دیہی علاقہ کے بینک کھاتہ دار کو اپنے کھاتے میں کم از کم 1000 روپئے ڈپازٹ برقرار رکھنی ہوگی جبکہ سیمی اربن علاقہ کے بینک کھاتہ داروں کو اپنے بینک کھاتہ میں ماہانہ 2000 روپئے کی رقم ڈپازٹ رکھنی ہوگی۔ شہری علاقہ کے لنک سیونگ کھاتہ داروں کو کم از کم 3000 روپئے ڈپازٹ رکھنا لازمی ہے جبکہ میٹرو شہروں کے بینکوں نے بینک کھاتہ داروں کو ماہانہ 5000 روپئے کی ڈپازٹ کا تناسب برقرار رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ایس بی آئی کی کارکردگی قابل اعتبار ضرور ہے مگر اس نے غریب کھاتہ داروں کیلئے جو پابندی عائد کردی ہے اس سے غریب کی معمولی آمدنی اور بجٹ کے تناسب کی شرط نے بدحال کردیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ بینک میں ماہانہ ڈپازٹ رقم کے تناسب کو برقرار رکھنے کے بارے میں بینک کھاتہ دار کی مالی و سماجی کیفیت کے اعتبار سے قواعد مرتب کرنے پر غور کیا جائے۔ ایس بی آئی نے حال ہی میں پانچ دیگر کو ضم کرلیا ہے اور یہ بینک عالمی معیار کے 50 بینکوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کو غریب عوام کے حق میں کوئی نرم پالیسی بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT