Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / خاطی قاضیوں اور بروکرس کے خلاف کارروائی میں پولیس کی نرمی

خاطی قاضیوں اور بروکرس کے خلاف کارروائی میں پولیس کی نرمی

سیاسی مداخلت سے تحقیقات سست روی کا شکار ، عوام میں شدید ناراضگی
حیدرآباد ۔ 5۔ اکتوبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میں غریب مسلم کمسن لڑکیوں کی ضعیف العمر بیرونی شہریوں کے ساتھ شادیاں اور کنٹراکٹ میاریج کے خاطی قاضیوں اور بروکرس کے خلاف کارروائی میں پولیس کی جانب سے اچانک نرمی اور سست روی سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ پولیس نے گزشتہ دنوں بڑے پیمانہ پر کارروائی کرتے ہوئے کئی قاضیوں اور بروکرس کو گرفتار کیا تھا ۔ اس کے علاوہ کنٹراکٹ میاریج کے لئے حیدرآباد پہنچنے والے ضعیف العمر عرب شہریوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ پولیس کی اس کارروائی کی سماج کے ہر گو شہ کی جانب سے ستائش کی گئی اور امید کی جارہی تھی کہ قاضیوں اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ سیاسی مداخلت کے سبب پولیس نے تحقیقات کی رفتار سست کردی ہے۔ اس کے علاوہ جن قاضیوں کو حراست میں لیا گیا، ان کے خلاف مزید کارروائی سے گریز کیا گیا ۔ حالانکہ اعلیٰ عہدیداروں نے قاضیوں کے اثاثہ جات کی جانچ کرنے کا تیقن دیا تھا۔ پولیس نے 30 سے زائد بروکرس کی نشاندہی کا دعویٰ کیا جن میں مرد و خواتین شامل ہیں لیکن ابھی تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔ پولیس کی جانب سے کارروائی میں نرمی سے اس سنگین جرم میں ملوث عناصر کے حوصلے دوبارہ بلند ہوسکتے ہیں اور اس طرح کی سرگرمیوں کا احیاء ممکن ہے۔ غیر قانونی شادیوں کے اس معاملہ کی تحقیقات کمشنر پولیس کی راست نگرانی میں کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ تاکہ کسی سیاسی دباؤ کو قبول کئے بغیر خاطیوں کو سزا دی جاسکے۔ پولیس نے چند قاضیوں اور چند بروکرس کے خلاف رسمی کارروائی پر اکتفا کیا جبکہ مختلف مقامات پر موجود لاجس کے مالکین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پولیس کی کارروائی کے آغاز پر قاضیوں میں خوف کا ماحول تھا لیکن بتدریج وہ ختم ہورہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جن قاضیوں کو پولیس نے حر است میں لیا ، ان کے علاوہ بھی کئی قاضی اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو کاغذی کارروائی کے بغیر ہی نکاح کی رسم انجام دیتے ہیں اور سرٹیفکٹس ممبئی سے جاری کئے جارہے ہیں۔ قاضیوں کی تنظیمیں اگرچہ اس سلسلہ میں خود کو بے قصور ثابت کرنے میں مصروف ہیں لیکن ان کے نائبین کی سرگرمیوں پر کنٹرول کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ضعیف عرب شہریوں کی شادیوں کے اصل سرغنہ قاضی کو وقف بورڈ سے سیاہیہ جات کی عدم اجرائی کے سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود نے احکامات جاری کئے لیکن بورڈ میں اندرونی افراد کی ملی بھگت کے ذریعہ مذکورہ قاضی کو سیاہیہ جات کی اجرائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملہ کی جانچ کی جانی چاہئے کہ آخر سیاہیہ جات کی اجرائی کے لئے کون ذمہ دار ہیں یا پھر کسی قاضی کی جانب سے یہ سربراہ تو نہیں کئے جارہے ہیں ؟ پولیس نے اس سلسلہ میں تحقیقات کے دوران وقف بورڈ کے عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT