خالدہ ضیاء پر بدعنوانی کے الزام کے تحت مقدمہ

ڈھاکہ ، 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء سمیت حزبِ مخالف کے کئی دیگر قائدین کے خلاف آئندہ ماہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ خالدہ ضیاء اور ان کے ساتھیوں نے فلاحی فنڈز میں لاکھوں ڈالر کی خرد برد سے انکار کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کی عدالت نے خالدہ کی جانب سے مزید وقت کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے سم

ڈھاکہ ، 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء سمیت حزبِ مخالف کے کئی دیگر قائدین کے خلاف آئندہ ماہ بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ خالدہ ضیاء اور ان کے ساتھیوں نے فلاحی فنڈز میں لاکھوں ڈالر کی خرد برد سے انکار کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کی عدالت نے خالدہ کی جانب سے مزید وقت کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے سماعت کے آغاز کیلئے 21 اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی کی جانب سے جنوری میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے بعد یہ مقدمہ ایک نئی کشیدگی کا باعث بنے گا۔شیخ حسینہ واجد کی سربراہی میں برسرِ اقتدار عوامی لیگ نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ خالدہ نے اس جیت کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایک غیرجانبدار حکومت کے تحت انتخابات کروائے جائیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارہ کے مطابق استغاثہ کا کہنا ہے کہ خالدہ ضیاء اور ان کے ساتھیوں نے سابق صدر اور ان کے مرحوم شوہر ضیا الرحمن کے نام پر قائم فلاحی ٹرسٹ سے تین کروڑ دس لاکھ ٹکا سے زائد کی رقم حاصل کی۔ خالدہ ضیا اور ان کے بیٹے طارق الرحمن سمیت چار افراد پر ضیا الرحمن کے نام پر قائم ایک یتیم خانے کو دیئے گئے دو کروڑ پندرہ لاکھ ٹکا کی رقم خرد برد کرنے کا الزام ہے۔

TOPPOPULARRECENT