Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / خالصتان لبریشن فرنٹ سربراہ جیل سے فرار

خالصتان لبریشن فرنٹ سربراہ جیل سے فرار

یونیفارم میں ملبوس مسلح افراد کا جیل پر حملہ ، 5 دیگر افراد بھی بھاگنے میں کامیاب

پٹیالہ۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) خالصتان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ہرمیندر منٹو آج جیل توڑ کر فرار ہوگیا۔ سنسنی خیز انداز میں جیل توڑ کر فرار ہوجانے کے اس واقعہ میں پولیس یونیفارم میں ملبوس مسلح افراد کے ایک گروپ نے قیدیوں کو فرار کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ یہ افراد پٹیالہ کے قریب واقع نبھا جیل پر حملہ آور ہوئے اور اپنے ساتھ پانچ قیدیوں کو لے کر فرار ہوگئے۔ 10 کیسیس میں ملوث ہرمیندر منٹو کی تلاش کیلئے پولیس نے 25 لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے اس واقعہ کے فوری بعد لاپرواہی برتنے پر ڈی جی (محابس) کو معطل کردیا ہے اور دیگر دو سینئر عہدیداروں کو برطرف کردیا ہے۔ اپوزیشن کانگریس نے کہا کہ اس واقعہ سے واضح ہوچکا ہے کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہرمیندر منٹو کا پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلق ہے اور اسمبلی انتخابات سے قبل یہاں پر دہشت گردی کے احیاء کی کوشش کی جارہی ہے۔ مرکز نے جیل توڑ کر فرار ہونے کے واقعہ پر ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ قیدیوں کے فرار ہونے کی تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس نے کہا کہ پولیس یونیفارم میں ملبوس چند نوجوانوں کے ایک گروپ نے جیل پر حملہ کیا اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔ کٹر پسند خالصتان لبریشن فرنٹ کے سربراہ دہشت گرد منٹو کے بشمول پانچ قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اعلیٰ سکیورٹی والی اس جیل سے فرار ہونے والے دیگر قیدیوں میں گینگسٹر وکی گوئندر، گرپریت سیکھن، نیتا دیول، وکرماجیت اور منٹو شامل ہیں۔ منٹو کو پنجاب پولیس نے 2014ء میں دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔ انہیں 2008ء کے سرسہ والے ڈیرا سچا سودا سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ پر حملے کے بشمول دیگر 10 کیسوں میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اس کے قبضہ سے 2010ء میں ہلوارا ایرفورس اسٹیشن پر دھماکو اشیاء برآمد کی گئی تھیں۔ جیل توڑ کر فرار ہونے کے اس سنسنی خیز واقعہ کے فوری بعد پنجاب اور ہریانہ میں ہائی الرٹ کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں ، ایرپورٹس، بین ریاستی بس ٹرمنلس اور دیگر مقامات پر پولیس چوکسی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر پنجاب پرکاش سنگھ بادل نے ریاستی چیف سیکریٹری سرویش کوشل کے بشمول سینئر عہدیداروں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا اور واقعہ کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر سکھبیر بادل نے کہا کہ ڈی جی (محابس) کو معطل کردیا گیا ہے اور جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی جیل سپرنٹنڈنٹ کو برطرف کردیا گیا۔ مفرور قیدیوں کو گرفتار کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی گئی ہے۔ سکھبیر بادل نے جو وزارتِ داخلہ کا بھی قلمدان رکھتے ہیں، کہا کہ مفرور قیدیوں کو پکڑنے کیلئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے۔ اے ڈی جی پی رینک کے آفیسر کے تحت یہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم تمام واقعہ کا جائزہ لے گی اور پتہ لگائے گی کہ آیا جیل توڑنے کا واقعہ کسی سازش کا حصہ تو نہیں ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو تین دن میں اپنی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایک اور تبدیلی میں پنجاب پولیس نے ایک گاڑی پر اندھا دُھند فائرنگ کی جو پولیس رکاوٹ توڑ کر آگے بڑھ رہی تھی۔ فائرنگ میں گاڑی میں سوار ایک خاتون ہلاک ہوگئی۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے وزیر داخلہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ خاتون ، پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہوئی ہے۔ یہ واقعہ ناکہ پٹیالہ گلہا چیکا روڈ پر پیش آیا۔ پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی تھی لیکن کار ڈرائیور نے پولیس کی ہدایت کو نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے فائرنگ کردی۔ جیل توڑنے کے واقعہ کے بعد حکومت پر شدید تنقیدیں کی جارہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT