Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / خام تیل کی خریدی پر بندش ختم، آئیل کمپنیوں کی پالیسی وضع کرنے کااختیار

خام تیل کی خریدی پر بندش ختم، آئیل کمپنیوں کی پالیسی وضع کرنے کااختیار

موبائیل آپریٹرس کو بھی اسپیکٹرم اور جدید ٹکنالوجی کے استعمال کی آزادی ، مرکزی کابینہ کے فیصلے

نئی دہلی ۔ 6 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عوامی شعبہ کے اداروں کی کارکردگی کوبہتر بنانے کیلئے حکومت نے آج آئیل کمپنیوں کو یہ اختیار تفویض کردیا ہے کہ اپنی تجارتی ضروریات کی بنیاد پر ایک آزادانہ خام تیل درآمدات پالیسی تیار کرلیں۔ حکومت کے زیر انتظام انڈین آئیل کارپوریشن کو خام تیل پیدا کرنے والے ممالک سے کروڈ ائیل درآمد کرنے کی اجازت اور 21 مئی 2001 ء کو حکومت نے سرکاری ریفائنریز کو 10 سرفہرست بیرونی فرمس سے خام تیل خریدنے کی منظوری دیدی تھی۔ عرصہ دراز سے یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ ان کمپنیوں کی فہرست جس سے عوامی شعبہ کے ادارے کنٹراکٹس کی شرط پر خام تیل خریدتے ہیں ۔ اٹلی اور روس کی سب سے بڑی کمپنیوں کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ کے اجلاس میں مروجہ پالیسی میں تبدیلی کی منظوری دیدی تاکہ عوامی شعبہ کے ادارے از خود ایک آزادانہ درآمد پالیسی مدون کرسکے ۔ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بتایا کہ صارفین کے مفاد میں خام تیل کے حصول کیلئے ایک فعال ، لچکدار اور کارکرد پالیسی وضع کی جائے گی ۔ تاہم انہوں نے پالیسی کے خد و خال کی وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعبہ کی تیل کمپنیوں کو یہ اختیارات تفویض کئے گئے ہے کہ کروڈ آئیل درآمد کرنے کیلئے از خود پالیسیاں تیار کریں اور چیف ویجلنس کمیشن کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق متعلقہ بورڈس سے منظوری حاصل کریں۔

قبل ازیں تیل درآمد کرنے کی مروجہ پالیسی کو 1979 ء میں کابینہ نے منظوری دیدی تھی اور سال 2001 ء میں سرکاری ریفائنریز کو 10 سرفہرست فرمس سے تیل خریدنے کیلئے پرمٹ میں ترمیم کی تھی۔ علاوہ ازیں مرکزی کابینہ نے اسپیکٹرم کو بندشوں سے آزاد کردیا ہے اور ٹرائی کی سفارشی قیمت پر ہراج کیلئے ٹیلی کام کمپنیوں کو اجازت دیدی ہے ۔ کابینہ کے اس فیصلہ سے 4 سرکلوں میں اسپکٹرم تک رسائی کیلئے ریلائنس کمیونکیشن کیلئے راہ ہموار ہوگئی جہاں پر 1,300 کروڑ روپئے ہراج کی اعظم ترین قیمت کی حد مقرر نہیں کی گئی۔ فراخدلانہ اسپکٹرم پالیسی سے ٹیلی کام آپریٹرس کو 3G اور 4G جیسی موبائیل خدمات فراہم کرنے میں کوئی بھی ٹکنالوجی استعمال کرنے کی آزادی رہے گی۔ جدید ٹکنالوجی متعارف کروانے اور دیگر آپریٹرس کے ساتھ تجارت میں ساجھیداری کی اجازت رہے گی۔ مزید برآں ہند۔ایران فروغ پذیر تجارتی تعلقات کے پیش نظر مرکزی کابینہ نے آج اکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں تین گنا تک اضافہ کردیا تاکہ Exim Bank کے ذریعہ 3,000 کروڑ تک برآمدات کئے جاسکیں۔ کابینہ اجلاس کی روئیداد سے واقف کرواتے ہوئے مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کیا۔ اکزم بینک آف انڈیا اور ایرانی بینکوں کے درمیان طئے پائے معاہدہ کے مطابق ہندوستان سے 3,000 کروڑ مالیتی اشیاء کی خریدی اور خدمات کیلئے سرمایہ فراہم کیا جائے گا جبکہ یہ فنڈ فی الحال 900 کروڑ روپئے ہے۔

TOPPOPULARRECENT