Thursday , October 18 2018
Home / ہندوستان / خام تیل کی سربراہی : عراق نے سعودیہ کو پیچھے چھوڑ دیا

خام تیل کی سربراہی : عراق نے سعودیہ کو پیچھے چھوڑ دیا

ہندوستان کو رواں مالی سال عراق ، سعودی عرب کے بعد ایران سے تیل کی نمایاں سپلائی
نئی دہلی ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) عراق نے ہندوستان کو خام تیل سربراہ کرنے کے معاملہ میں سعودی عرب کو واضح فرق کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا ہے اور جاریہ مالی سال میں ملک کی تیل کی ضروریات کے زائد از پانچویں حصے کی تکمیل کررہا ہے۔ وزیرتیل دھرمیندر پردھان نے آج کہا کہ سعودی عرب روایتی طور پر ہندوستان کیلئے تیل کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے لیکن 2017-18ء کی اپریل ۔ جنوری کی مدت میں عراق نے اسے پیچھے چھوڑتے ہوئے 38.9 ملین میٹرک ٹن تیل سربراہ کیا ہے۔ لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزیرتیل نے کہا کہ سعودی عرب نے رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 30.9 ایم ٹی خام تیل سپلائی کیا ہے۔ ہندوستان نے اسی مدت کے دوران 184.4 ایم ٹی خام تیل درآمد کیا۔ پورے مالی سال 2016-17ء میں 213.9 ایم ٹی اور 2015-16ء میں 202.8 میٹرک ٹن خام تیل درآمد کیا گیا تھا۔ گیس کے کنویں کو کارآمد بنانے سے متعلق کنٹراکٹ عطا کرنے میں تاخیر کی وجہ سے ہندوستان نے درآمدات میں کمی لائی ہے، اس کے باوجود ایران تیسرا بڑا سپلائر برقرار ہے جس نے اپریل ۔ جنوری کی مدت میں 18.4 ایم ٹی تیل سربراہ کیا ہے۔ یہ لگاتار دوسرا سال ہے کہ ایران نے خام تیل کی سربراہی کے معاملہ میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ 2010-11ء تک ایران اس معاملہ میں سعودی عرب کے بعد ہندوستان کیلئے دوسرا بڑا سپلائر ہوا کرتا تھا لیکن اس کے مشتبہ نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے مغربی تحدیدات نے اسے بعد کے برسوں میں گھٹا کر ساتویں مقام پر لاکھڑا کیا۔ 2013-14ء اور 2014-15ء میں ہندوستان نے ایران سے ترتیب وار 11 اور 10.95 ایم ٹی خام تیل خریدا تھا۔

TOPPOPULARRECENT