Friday , November 24 2017
Home / مضامین / خاندانوں کے بکھرنے سے اخلاقی بگاڑ تعلیمی ادارے تجارتی مراکز بن گئے، والدین اور استاد کا احترام ختم

خاندانوں کے بکھرنے سے اخلاقی بگاڑ تعلیمی ادارے تجارتی مراکز بن گئے، والدین اور استاد کا احترام ختم

 

محمد نعیم وجاہت
تیز رفتار ترقی نے فاصلوں کو گھٹایا اور انسان کو چاند تک پہنچایا ہے، اس کے باوجود ہمارا معاشرہ روز بروز تباہی کے قریب پہنچ رہا ہے، جس کے سماج پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ہر گھر اس تباہی کا شکار ہو رہا ہے۔ جدید ٹکنالوجی نے دنیا کو سمیٹ کر ایک گاؤں بنادیا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی نسل کو اپنا غلام بناکر اخلاق، اقدار، کردار اور انسانی رشتوں کے بگاڑ کا موجب بن رہا ہے۔ حالیہ دنوں ایسے کئی دل دہلا دینے والے واقعات منظر عام پر آئے ہیں، جنھوں نے سماج کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک بیٹے نے جائداد کی خاطر اپنے والد کا کلہاڑی سے قتل کردیا، ایک بیٹی نے 6 ایکڑ اراضی کی خاطر اپنے شوہر کی مدد سے اپنی سگی ماں کا قتل کردیا، ایک ماں نے اپنے ناجائز تعلقات کی پردہ پوشی کے لئے اپنے ہی جوان بیٹے کا قتل کرکے آنگن میں دفن کردیا،

ایک ماں نے اپنے عاشق کی مدد سے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو قتل کردیا، علاوہ ازیں ایک ایسا بھی واقعہ منظر عام پر آیا کہ لوگوں نے ایک شخص کو لڑکی کی پیدائش کے بعد دم توڑنے والی بیوی کو کمبل میں لپیٹ کر اور کندھے پر رکھ کر، ساتھ میں نومولود کو گود میں لئے ہوئے آر ٹی سی بس سے سفر کرتے دیکھا۔ اسی طرح ایک نوجوان جوڑے نے غربت کی وجہ سے خودکشی کرلی اور ان کا ایک سالہ بچہ دو دن تک نعشوں کے درمیان بھوکا پیاسا بلکتا رہا۔ کہیں جہیز کی ہراسانی کا شکار ہوکر خواتین خودکشی کر رہی ہیں تو کہیں خواتین قانون کا بیجا استعمال کرتے ہوئے صرف انتقام لینے کے لئے سسرالی خاندان کو عدالت کا چکر کاٹنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ کہیں یکطرفہ محبت کا شکار نوجوان بے قصور لڑکیوں پر تیزاب پھینک رہے ہیں، کہیں تیز دھار ہتھیار سے ان کا قتل کر رہے ہیں اور کہیں ریاگنگ کی وجہ سے طلبہ اپنی قیمتی زندگی گنوا رہے ہیں۔
یہ تو صرف چند مثالیں ہیں، جب کہ ان سے بھی زیادہ خطرناک واقعات منظر عام پر آرہے ہیں، جو سماج کو اس کے اسباب اور سدباب پر غور کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آتا رہتا ہے، جس سے نہ صرف پورا خاندان پریشان ہے، بلکہ افراد خاندان اس کا حل تلاش کرنے میں بھی ناکام ہیں۔ چند دن قبل یوم اساتذہ تقاریب بڑی دھوم دھام سے منائی گئیں، حکومت کی جانب سے اساتذہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ایوارڈ سے نوازا بھی گیا۔ ماں بچے کو صرف جنم دیتی ہے، جب کہ استاد اس کی زندگی کو سنوارتا اور نکھارتا ہے۔ برسوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ اساتذہ اپنے شاگردوں کو ملک کا روشن مستقبل بناکر پیش کرتے رہے اور شاگردوں نے اپنے استادوں کا ہر طرح سے احترام کیا، لیکن آج استاد اور شاگرد کے درمیان بہت بڑا خلا پیدا ہوچکا ہے۔ اب تو ماں باپ اور اولاد کے درمیان بھی تناؤ پیدا ہو رہا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ انسانی اخلاق و کردار کے ساتھ ساتھ وفاداری، دیانتداری اور ایمانداری دَم توڑ رہی ہیں، جب کہ خود غرضی، بے ایمانی اور دھوکہ دہی جیسی صفات پروان چڑھ رہی ہیں۔

تعلیمی ادارے تجارتی مراکز بن گئے ہیں، اساتذہ میں تعلیم کے فروغ کا رجحان گھٹ رہا ہے اور وہ طلبہ کی صلاحیتوں کو اُبھارنے میں اتنی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں، جتنی لینی چاہئے۔ تعلیمی ادارے بچوں کی صلاحیتوں کو سمجھنے کی بجائے میرٹ کو ترجیح دے رہے ہیں اور بچوں کے روشن مستقبل کی فکر کرنے کی بجائے اپنی ساری توانائی ادارہ کی شہرت اور مقبولیت پر صرف کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں طلبہ کو اخلاقی تعلیم و تربیت دینے کی بجائے انھیں صرف نصابی کتابوں کا کیڑا بنا رہے ہیں۔
بڑے، بزرگ اور معمر حضرات خاندان کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ جب ایک بڑا خاندان ایک ہی چھت کے نیچے زندگی گزارتا تھا تو بچوں کی پرورش و پرداخت اور کردار پر بڑے لوگوں کی نظریں ہوا کرتی تھیں۔ وہ بچوں کو اچھے بُرے کی تمیز سکھاتے تھے، انھیں رشتوں کے احترام کا درس دینے کے علاوہ ان کے اخلاق و کردار کو سنوارنے میں اہم رول ادا کرتے تھے۔ اگر خاندان میں کبھی کوئی پریشانی آجاتی تو گھر کے بڑے اس کو سلیقے سے سلجھاتے اور اس کا حل ڈھونڈتے تھے، جس کا بچوں کی زندگی پر گہرا اثر پڑتا تھا اور ان میں بچپن سے ہی یہ خوبی پیدا ہوتی تھی کہ کسی پریشان کن مسئلہ کو کس طرح سلجھایا جاتا ہے۔

آج بڑے خاندان چھوٹے خاندان میں تبدیل ہوکر ان تمام خوبیوں سے محروم ہو رہے ہیں، جو خاندان کے بڑے بزرگوں میں پائی جاتی تھیں۔ چھوٹے خاندانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اگر ماں باپ دونوں ملازم ہیں تو بچوں کی پرورش نوکروں کے بھروسے پر ہو رہی ہے یا انھیں چائلڈ کیئر ہوم میں رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر جب بچے ذرا سوجھ بوجھ والے ہوئے تو ان کے لئے کمپیوٹر اور ٹیلی ویژن کا انتظام کردیا جاتا ہے، تاکہ والدین کے گھر پہنچنے تک یہ چیزیں ان کے ٹائم پاس کا ذریعہ بنی رہیں، جب کہ ٹیلی ویژن پر کارٹونوں کا مشاہدہ اور کمپیوٹر گیمس بچوں کو ضدی اور ہیجانی کیفیت کے حامل بنا رہے ہیں۔ غور کیجئے کہ جس وقت بچوں کو پیار کی ضرورت ہے، انھیں نوکروں، چائلڈ کیئر سنٹر، ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر کے حوالے کیا جا رہا ہے اور پھر کسی اچھے اسکول میں داخلہ دلواکر ماں باپ یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دِلا رہے ہیں۔ اگر بچے شرارت اور ضد کرتے ہیں تو انھیں سمجھانے کی بجائے ان کی ہر خواہش پوری کرکے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ کارٹون اور ویڈیو گیم کا بچوں کی زندگی پر بہت بُرا اثر پڑ رہا ہے، یعنی بچے کسی طرح کی شکست قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ان کی ضد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ گیمس اور کارٹونس کا اثر ان کی عملی زندگی پر بھی ہو رہا ہے اور وہ انھیں اپنی حقیقی زندگی میں بھی آزمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بچوں کو والدین کا صحیح پیار نہیں مل رہا ہے، جب کہ اساتذہ ان بچوں کو اخلاق و کردار کا صحیح سمت دکھانے میں ناکام ہو رہے ہیں، ایسی صورت میں راہ راست سے بھٹکنے کا امکان سو فیصد ہو جاتا ہے۔ پھر جب بچوں کو اس بات کا یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی ہر ضد پوری ہو رہی ہے تو وہ اپنی خواہشات کو منوانے کے لئے کچھ بھی کرگزرتے ہیں۔ آج سماج میں پیش آئے گھناؤنے واقعات پر نظر دوڑائیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ اپنے بچوں کو بگاڑنے میں ہم سب نے کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کیا ہے۔

زمانے کو، دوستوں کو اور آس پاس کے ماحول کو کوسنے اور بچوں کی غلطیوں کو نظرانداز کرنے سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ بچوں کے والدین اور ان کے اساتذہ کو اپنا اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور ایک دوسرے پر اُنگلی اُٹھانے کی بجائے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہئے۔ یہ دیکھ اور سن کر تعجب ہوتا ہے کہ بچے نہ تو گھر میں والدین کا اور نہ ہی اسکول میں اساتذہ کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس کے لئے مکمل طورپر بچوں کو قصوروار ٹھہرانا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی، کیونکہ انھیں ان کی بچپن کی غلط کاریوں پر روکا ٹوکا نہیں گیا اور نہ ہی ان کے اچھے کاموں کو سراہا گیا۔ تعلیمی اداروں نے انھیں صرف بہتر نتائج کی ترغیب دی اور ماں باپ نے دیگر بچوں کی مثالیں پیش کرکے ان میں احساس کمتری پیدا کی۔ پھر جب بچے نے کالج کی زندگی کا آغاز کیا تو وہاں کے ماحول نے انھیں مزید خراب کردیا۔
یقیناً آج بچے اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ضرور حاصل کر رہے ہیں، مگر اخلاق و کردار اور بڑوں کے احترام سے وہ بالکل محروم ہیں۔ رشتوں کی اہمیت نہ بتانے کے سبب وہ خاندان کے بڑے بزرگوں سے دوری بنائے ہوئے ہیں یا ان سے ملاقات کرنے کو بوجھ تصور کر رہے ہیں، یعنی وہ خاندان کے صرف ہم عمر افراد تک ہی محدود رہتے ہیں۔

مثل مشہور ہے کہ ’’جو فصل لگاؤ گے، وہی کاٹو گے‘‘ لہذا ہمارے سماج میں جو بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، وہ ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ اب بھی ہمارے ہاتھوں سے پتنگ کی ڈور نہیں چھوٹی، لہذا ہمیں اپنے بچوں کے لئے وقت نکال کر ان کی صحیح تربیت کرنی چاہئے۔ زندگی میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، انسان کتنا بھی بڑا ہو جائے مگر اس کے پیر زمین پر ہی رہتے ہیں۔
بچوں کی زندگی پر میاں بیوی کے جھگڑے بھی اثرانداز ہوتے ہیں، جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا احترام نہیں کریں گے تو بچوں سے احترام کی امید رکھنا فضول ہے۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں سے ایک دوسرے کی شکایت ہرگز نہ کریں، بلکہ ان کے سامنے ہمیشہ مثبت پہلو پیش کریں اور رشتوں کی اہمیت سے انھیں واقف کرائیں، جس کے نتیجے میں بچے مثبت فکر کے حامل ہوں گے اور ان میں اچھائی و برائی کی تمیز پیدا ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT