Wednesday , April 25 2018
Home / مذہبی صفحہ / خاندان کو اختلاف سے بچانا۔اہم ترین فریضہ

خاندان کو اختلاف سے بچانا۔اہم ترین فریضہ

 

اللہ سبحانہ نے سب سے پہلے سارے انسانوں کے جدسیدنا آدم علیہ السلام اورجدہ سیدتنا حوا علیہا السلام کی تخلیق فرمائی اوران دونوں سے بہت سے مرداورعورتیں دنیا میں پھیلائیںجن سے انسانی بستیاں آبادہوئیں،اس لئے سارے انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔یہ رشتہ پیارومحبت انس والفت کی اولین بنیاد ہے،اس میں انسانی مساوات کا ایک بہت بڑادرس اورپیغام ہے، نسل انسانی کے فروغ اوراسکے تحفظ کیلئے اولاد آدم میں ایک اجنبی مردوعورت کے درمیان نکاح کا نظام بنایا گیا ہے۔ اس رشتہ کی اسلام میں بہت اہمیت ہے، چونکہ اسی رشتہ سے خاندان تشکیل پاتاہے اوراسی رشتے سے کئی اور رشتے قائم ہوتے ہیں جو پھیلتے پھیلتے ایک بڑے خاندانی نظام میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔انسان ’’انس‘‘سے ماخوذہے اس لئے وہ اپنے ہم جنسوں سے دوررہ کرزندگی نہیں گزارسکتا،چین وسکون،راحت وسکینت کیلئے رفاقت کی بڑی ضرورت ہے ، رفاقت کی نعمت ازدواج اورخاندان کی وجہ نصیب ہوتی ہے، خاندان کا دائرہ مختصربھی ہوتا ہے اوردراز بھی، مردوعورت نکاح کے ذریعہ جب ایک دوسرے کے رفیق بنتے ہیں تو ان کا خاندان آگے بڑھتاہے،خاندان کے مختصردائرہ میں کہیں شوہراوربیوی اوران کی اولاداورکہیں ان کے ساتھ انکے ماں باپ بھی خاندان کا حصہ بنتے ہیں۔اور اسکاوسیع تردائرہ اگردیکھا جائے تو اس میں اورکئی ایک رشتے ددھیال ،ننھیال اورسسرال کے شامل ہوجاتے ہیں،اب سوال یہ ہے کہ خاندانی نظام مشترکہ ہویا جداگانہ،ظاہر ہے اسلامی نظام حیات میں دونوں کی گنجائش ہے،جداگانہ نظام زندگی اختیارکرنا ہویا مشترکہ نظام زندگی۔ ہر دوصورت میں اسلام نے اس کے احکام وآداب سکھائے ہیں۔مشترکہ نظام زندگی کے بہت فوائد ہیں لیکن اس میں صبروتحمل ،قوت برداشت ، عفوودرگزر، چشم پوشی اورسیر چشمی کی ضرورت ہوتی ہے،تربیت کے بغیر یہ اوصاف انسانوں میں بہت کم پیداہوتے ہیں،ان اوصاف کے ساتھ پیارومحبت ،اخوت والفت ،بڑوں کی تعظیم،چھوٹوں سے شفقت اس میں مزیدچارچاندلگاتے ہیں۔حدیث پاک میں واردہے’’ جودوسروں کے ساتھ اختلاط رکھتاہے اوران سے پہنچنے والے آزارپرصبرکرتاہے یہ اس مسلمان سے بدرجہا بہتر ہے جونہ اوروں سے میل جول رکھتاہے نہ ان سے پہنچنے والی ایذاپر صبرکرتاہے‘‘ (ترمذی:۲۵۰۷)
اسلام میں اجتماعیت کی بڑی اہمیت ہے اورمشترکہ خاندانی نظام سے اجتماعیت کی شان جھلکتی ہے، کثرت اختلاط اورعدم تربیت کی بنا نیک نفسی،اثیاروقربانی مزاجوں میں ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ مشترکہ خاندانی نظام میں کئی ایک خوبیوں اوراچھائیوں کے باوجودکچھ دشواریاں اورپیچیدگیاں درپیش ہوجاتی ہیں جومعاشرتی زندگی کی خوشگواری کو ختم کردیتی ہیں، اس وجہ سے اکثر مشترکہ خاندانی نظام اختلاف وانتشارکا شکارہوجاتاہے،مشترکہ خاندانی نظام میں مردوں سے زیادہ مختلف مزاج وخیال کی خواتین کے اجتماع کی وجہ اکثرمسائل پیداہوتے ہیں جن کی اصلاح مردوں کے بس کا روگ نہیں رہتی،اس تناظر میں جداگانہ خاندانی نظام جومختصرکنبہ پر مشتمل ہو آپسی اختلاف ونزاعات سے بڑی حد تک محفوظ رہتاہے۔خوشگواراورکامیاب زندگی کی راہ میں اختلاف وانتشار،رشتوں کا آپسی تصادم کئی ایک موانعات کھڑی کردیتا ہے۔آپسی محبت نفرت میں، دلوں کی قربت دوری میں تبدیل ہوجاتی ہے،جسموں کا ایسا قرب جو قلوب کی دوری اوربُعدکے ساتھ ہواس سے کہیں زیادہ بہترہے کہ جسمانی دوری اورقلوب کے قرب ومحبت کے ساتھ ہو،ظاہر ہے جداگانہ خاندانی نظام میں اس کا پایا جانا مشترکہ خاندانی نظام کے بالمقابل زیادہ ممکن ہے ،ملت کے آپسی اختلاف کی طرح خاندانی اختلاف بھی خاندان کوبکھیرنے کا سبب بنتاہے،اس لئے حدیث پاک میں واردہے’’کیا میں تم کو ایک ایسے افضل اوربہترعمل سے باخبرنہ کردوں جو روزہ، نماز اورصدقہ سے کہیں زیادہ بہترہے،صحابہء کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں ضرور آگاہ فرمادیجئے،آپ ﷺ نے فرمایا :کہ وہ آپسی مصالحت اوراپنے درمیان احوال کی درستگی کے ساتھ زندگی گزارناہے، اس کے برعکس آپسی اختلاف وانتشارمونڈنے والا ہے‘‘ (بخاری:۶۰۷۷) اس کے علاوہ مشترکہ خاندانی نظام کی ایک بہت بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میںاکثرہر ایک کے مالی معاملات اورمالکانہ حقوق جدانہیں رہتے جس کی وجہ والدین کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد اورحقوق کے ساتھ میراث کی تقسیم میں اکثروبیشتروارثین کے درمیان اختلاف کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوجاتاہے،بسااوقات اختلاف اس حد تک بڑھ جاتاہے کہ وہ ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کے روادارنہیں رہتے۔ ، سلام وکلام رشتہ داری اورآپسی رشتہ وتعلق جس کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے منقطع ہوجاتاہے،جبکہ حدیث پاک میں اس بارے میں سخت وعید وارد ہے، ارشاد نبویؐ ہے’’کسی مسلمان کیلئے جائزنہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق توڑے رہے ،ان کی ملاقات ہوتوایک ادھراوردوسرا ادھرمنہ پھیرکرچلاجائے‘‘ (مسلم:۴۶۴۳)رحم یعنی رشتہ داری کا تعلق رحمن یعنی اللہ سبحانہ کے عرش سے جڑا ہواہے،رحم یعنی رشتہ داری کاتعلق یہ کہتاہے جس نے مجھے جوڑا اللہ سبحانہ اس کو جوڑے،اور جس نے مجھے توڑ دیا اللہ سبحانہ اسکوتوڑدے (مسلم:۲۵۵۵) اس تناظر میں جداگانہ خاندانی نظام زیادہ بہترمحسوس ہوتاہے،مشترکہ خاندانی نظام نا گزیرہوتوایک مشترکہ مکان میں رہائش اختیارکی جاسکتی ہے لیکن مشترکہ خاندانی نظام میں ایسے رشتہ دار جو غیر محارم ہیں جیسے جیٹھ،دیوروغیرہ ان کے ساتھ رہتے ہوئے اسلامی حدودکی پاسداری ممکن نہیں رہتی،جبکہ اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے،سیدنا محمد رسول اللہ ﷺنے (اجنبی )عورتوں کے پاس جانے آنے اوربلا وجہ ان سے اختلاط رکھنے سے منع فرمایا،ایک انصاری صحابی نے عرض کیا !دیورکے بارے میں کیا ارشادہے؟آپ ﷺ نے فرمایا ’’الحموالموت‘‘ یعنی دیورتو موت ہے(ترمذی:۱؍۱۳۹)آپ ﷺ نے ’’الحمو‘‘ کوموت سے تعبیر فرماکراس میں احتیاط کی ایک دنیا سمیٹ دی ہے ’’الحمو‘‘ کا اطلاق شوہرکے مردرشتہ داروں جیسے حقیقی بھائی اوررشتہ کے بھائی ،رشتہ کے بھانجے،بھتیجے وغیرہ پر ہوتا ہے جن کی وجہ اخلاقی خرابی راہ پاسکتی ہے، اسی کی آپ ﷺ نے نشاندہی فرمائی ہے۔صاحب مرقاۃ نے ’’الحموالموت‘‘کی صراحت اسی طرح فرمائی ہے،چونکہ ان جیسے رشتہ داروں سے خوف اور فتنہ کے وقوع کا امکان زیادہ رہتاہے ،عام طورپراس میں اکثرتساہل برتا جاتاہے (مرقات شرح مشکوۃ:۳؍۴۰۹) اس لئے مشترکہ خاندان کے بزرگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پر کڑی نظر رکھیں۔خاندان میں والدین موجودہوں تو ظاہر ہے ان کی خدمت اوران کے ساتھ حسن سلوک تمام اولاد کی مشترکہ ذمہ داری قرارپاتی ہے،اس کوبڑے حسن وخوبی کے ساتھ انجام دینا چاہیئے،اس فریضہ کے نبھانے میں جو زیادہ سبقت کرے وہ اللہ کے ہاں ان شاء اللہ مقبول اورقرب باری کے شرف سے مشرف ہوگا۔مشترکہ خاندانی نظام میں کھانے پینے کا نظم آپسی اشتراک وتعاون کے ساتھ جاری رہ سکتاہے لیکن کاروبارومالی معاملات کم ازکم ہر ایک کے جداجداہوں،تجارت وکاروباراورمالی معاملات میں اشتراک کی وجہ مسلم سماج میں بڑا انتشاردیکھا جارہاہے،والدین کی اولاد میں جو بڑے ہوتے ہیں بسااوقات وہ ذاتی طورپرتجارت وملا زمت کے ذریعہ مال ودولت حاصل کرتے ہیں اوروہ والدین کے حوالے کردیتے ہیں۔ماں باپ اس کو پورے خاندان یعنی اپنی اولادوغیرہ پر خرچ کرتے ہیں ،والدین کی جائیداد کی تعمیر میں بھی اکثران کی بڑی اولادزرکثیر صرف کرتی ہے،اس موقع پر تو دل پرکوئی بارمحسوس نہیں ہوتا لیکن آگے چل کرجب حالات بدل جاتے ہیں تو وہ اولاد اگراپنا بس چلے تو والدین کی جائیدادپر اپنے مالکانہ حقوق جتاتی ہے اوراپنے دیگربھائیوں اوربہنوں کوان کے حق سے محروم کرنے کے داؤپیچ میں لگ جاتی ہے ۔ اورکہیں والدین اوردیگراولاد دونوں ملکرتعمیر میں سرمایہ لگانے والوں کوجائیداد سے بے دخل کردیتے ہیں،کاروبار اگروالد کے ہوں اوران کی بڑی اولاد ان کی شریک کارہواورگھرکا نظام مشترکہ طورپر چلتاہوتو یہاں بھی ایسی ہی خرابی اکثر رونما ہوتی ہے ۔اس وقت مسلم سماج میں اس طرح کے بہت سے مسائل ہیں جومشترکہ خاندانی نظام کی پیداوارہیں ۔ماں باپ کا فرض ہے کہ جب اولاد بالغ ہوجائے اورکھانے کمانے کے لائق ہوجائے توان کومشترکہ خاندانی نظام میں جوڑے رکھنے کے بجائے علیحدہ نظام زندگی اختیارکرنے کی آزادی دیدیں،اوراگرمشترکہ خاندانی نظام ہی سے مربوط رکھنے میں خیر وعافیت معلوم ہورہی ہو یا اس کی ضرورت داعی ہوتو اس صورت میں ان کے مالی معاملا ت کو کم از کم علیحدہ رکھاجائے تاکہ آنے والے وقتوں میں کوئی شدید نزاع وغیرہ پیدانہ ہونے پائے،اورآپسی محبت وتعلق اوررشتہ داری ہر قیمت پربرقراررہے۔والدین کی کوئی جائیداد وغیرہ ہو تو ان کو چاہیئے کہ وہ اپنی زندگی ہی میں اولاد کے درمیان عدل وانصاف کے ساتھ تقسیم کردیں یاپھروصیت کردیں کہ ان کی وفات کے بعدشرعی احکام کے مطابق تقسیم کیلئے کتاب وسنت کے ماہر عالم دین یا بااعتماددارالقضاء سے رجوع کریں ،پولیس اورعدالت وغیرہ کا ہرگزکوئی سہارا نہ لیں،الغرض خاندانی نظام کو بکھراؤسے بچانے کیلئے یہ اہم ترین فریضہ ہے، والدین اورخاندان کے بزرگوں کواس پرسنجیدگی سے غورکرنا چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT