Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس فیس پر اسکول انتظامیہ اور اولیائے طلبہ میں تناؤ

خانگی اسکولس فیس پر اسکول انتظامیہ اور اولیائے طلبہ میں تناؤ

جے اے سی برائے اسکول فیس ریگولیشن کے احتجاج پر اسکولس کے انتظامیہ کی برہمی و ناراضگی
حیدرآباد۔12 جون (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے خانگی اسکولوں کی فیس پر کنٹرول نہ کئے جانے کے منفی اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں اور اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کے احتجاج سے اسکول انتظامیہ میں شدید برہمی پیدا ہوچکی ہے۔ اسکول اور اولیائے طلبہ کے درمیان فیس میں اضافہ کو لے کر بڑھ رہی خلیج سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسکول انتظامیہ ، اولیائے طلبہ و سرپرستوں کو اپنا دشمن تصور کرنے لگے ہیں۔ حکومت تلنگانہ نے خانگی اسکولوں کی جانب سے فیس میں اضافہ کے باوجود اختیار کردہ خاموشی کے ذریعہ اولیائے طلبہ اور اسکول انتظامیہ کے درمیان نفرت کا ماحول پیدا کردیا ہے جس کے مضر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ شہر میں موجود بیشتر کارپوریٹ اسکولوں کے علاوہ خانگی اسکولوں کی جانب سے 10 تا 50 فیصد فیس میں اضافہ کے خلاف گزشتہ یوم اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے زبردست احتجاج منظم کرتے ہوئے اسکولوں پر تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کا الزام عائد کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر خانگی اسکولوں کی فیس پر کنٹرول کیلئے آزادانہ اتھاریٹی کی تشکیل عمل میں لائے تاکہ کسی بھی خانگی اسکول کی جانب سے بے دریغ فیس میں اضافہ کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے اسکول فیس ریگولیشن کی جانب سے منظم کئے گئے اس احتجاج پر خانگی اسکولس کے ذمہ داران شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے اداروں کے سبب ہی خواندگی کے فیصد میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور ان کے معاملات میں حکومت کی مداخلتوں کو وہ برداشت نہیں کریں گے۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کا کہنا ہے کہ خانگی اسکولوں بالخصوص کارپوریٹ تعلیمی ادارہ جات کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے سبب وہ من مانی کررہے ہیں اور قوانین کی خلاف ورزی کے باوجود اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی نہ کیا جانا اسکولوں کے ذمہ داران کی حوصلہ افزائی کے مترادف ثابت ہورہا ہے۔ احتجاجی سرپرستوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر احکام جاری کرتے ہوئے تمام اسکولوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ اپنی آمدنی و اخراجات کی تفصیلات اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کے حوالے کریں، کیونکہ تعلیمی اداروں کا قیام تجارتی مقاصد کے لئے نہیں کیا جاتا بلکہ خدمت کے جذبہ کے تحت تعلیمی سوسائٹی کو اسکولوں کے قیام کی اجازت فراہم کی جاتی ہے۔ اسی لئے جو آمدنی بذریعہ فیس حاصل ہوتی ہے، اس آمدنی کو تعلیمی مقاصد پر ہی خرچ کیا جانا لازمی ہوتا ہے جو کہ بیشتر اسکولس نہیں کرتے بلکہ تعلیمی اداروں کو تجارتی اداروں کی طرح چلانے میں مصروف ہیں۔

TOPPOPULARRECENT