Saturday , April 21 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں خانگی ناشروں کی من مانی

خانگی اسکولس میں خانگی ناشروں کی من مانی

اسکولس سے کتابوں کی خریدی کا دباؤ، اولیائے طلبہ و سرپرست پریشان حال

حیدرآباد۔15اپریل(سیاست نیوز) اسکولوں میں پڑھائے جانے والے خانگی نصاب کی اسکولوں میں فروخت کے خلاف اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے شکایات کے باوجود خانگی اسکولوں میں خانگی ناشرین کی من مانی کتابیں نصاب میں شامل کرتے ہوئے کتابوں کی خریدی کیلئے اولیائے طلبہ و سرپرستوں پر دباؤ ڈالا جانے لگا ہے او رکہا جا رہا ہے کہ اسکول کو اس بات کا اختیا ر ہے کہ وہ نرسری تا 6ویں جماعت اپنی پسند کی کتابیں تعلیمی نصاب میں رکھے لیکن محکمہ تعلیم کے عہدیداروںکا کہناہے کہ اسکولو ںکو اس بات کی اجازت حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق تعلیمی نصاب میں تبدیلی کرے۔ بتایاجاتاہے کہ شہر کے بیشتر اسکولوں میں غیر معیاری و غیر معروف ناشرین کو انتہائی اہمیت کے حامل ناشرین کے طور پر پیش کرتے ہوئے ان کی کتب کو نصاب میں شامل کیا جا رہاہے اور بعض تعلیمی ادارو ںکی جانب سے تو اپنی خانگی کمپنی قائم کرتے ہوئے اسے تحقیق و اشاعت کے مرکز کے طور پر فروغ دیا جا رہاہے اور اس مرکز کے تحت شائع کتب ہی فروخت کی جانے لگی ہیں۔ محکمہ تعلیم کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ اسکولوں کی جانب سے اپنے تعلیمی نصاب کو پڑھانے پر حکومت اور محکمہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جس طرح کی سرگرمیاں ناشرین اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے انجام دی جا رہی ہیں ان سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ ماہ اپریل‘ مئی اور جون کو ناشرین اور اسکول انتظامیہ اپنے لئے تجارت کا موسم تصور کر رہے ہیں اور منفرد کتب کے نام پر اولیائے طلبہ و سرپرستوں کو ٹھگ رہے ہیں۔خانگی اسکولوں کی جانب سے ناشرین کی کتب نصاب میں شامل کرنے کیلئے بھاری فیصد وصول کیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ اسکولو ںمیں خانگی ناشرین و تاجرین کتب کو کاؤنٹر لگانے کی اجازت دینے کیلئے 25تا30فیصد کمیشن حاصل کیا جانے لگا ہے اور اس بات سے محکمہ تعلیم کے عہدیدار بھی واقف ہیں اور اس عمل کو حکومت کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ تعلیم بالخصوص ضلع انتظامیہ کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ محکمہ تعلیم اور ضلع انتظامیہ کے عہدیداروں کے خانگی اسکول انتظامیہ کے ساتھ اس معاملہ میں گہرے مراسم ہیں۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کی جانب سے خانگی اسکولوںمیں من مانی کتب شامل نصاب کئے جانے کے علاوہ خانگی ناشرین کے شائع شدہ کتب کو اہمیت کے ساتھ نصاب میں رکھتے ہوئے اضافی کتب کا بوجھ عائد کئے جانے کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کے متعلق بھی غور کیا جا رہاہے کیونکہ سابق میں حکومت نے خانگی کتب بالخصوص من مانی نصاب کی تیاری پر پابندی عائد کرتے ہوئے احکام جاری کئے تھے لیکن ان احکامات پر کوئی عمل آوری نہیں کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT