Saturday , July 21 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں فیس ادا نہ کرنے پر سزا کا خطرناک رجحان

خانگی اسکولس میں فیس ادا نہ کرنے پر سزا کا خطرناک رجحان

حکومت ٹھوس اقدامات کرے، طلباء کو ہراسانی سے بچانے اور انتظامیہ کے خلاف کارروائی پر زور
حیدرآباد۔19 نومبر(سیاست نیوز) خانگی اسکولوں میں فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں بچوں کو سزاء کے رجحان میں ہونے والا اضافہ تشویش کا باعث بن سکتا ہے اسی لئے حکومت تلنگانہ کو فوری حرکت میں آتے ہوئے اسکول انتظامیہ کے ا س طرح کے اقدامات کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہئے اور کاروائی میں پس و پیش کرنے والے عہدیداروں کو فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنے کے الزام کے تحت محکمہ جاتی کاروائی کیلئے طلب کیا جانا چاہئے۔ ریاستی حکومت نے خانگی اسکولوں بالخصوص کارپوریٹ اسکولوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن اس کے باوجود خانگی کارپوریٹ تعلیمی اداروں میں اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا جا رہاہے بلکہ فیس کی ادائیگی میں ناکام طلبہ و طالبات کو رپورٹ کارڈ جاری نہیں کئے گئے اور اس طرح کے واقعات سے طلبہ میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اوراولیائے طلبہ و سرپرست اپنے بچوں کے آگے شرمندہ ہونے لگتے ہیں اسی لئے محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ وہ ان اسکولوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنائیں جو فیس کے امور پر طلبہ کو ہراسانی کا شکار بناتے ہیں ۔خانگی اسکول انتظامیہ بالخصوص کارپوریٹ اسکولو ںمیں بچوں کو فیس کے بقایاجات کے متعلق مطلع کرنے کا رجحان ہی غلط و غیر قانونی قرار دیا جانا چاہئے۔ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ طلبہ اسکول نہیں جاتے ہیں یا ان کی کوئی شکایت ہوتی ہے تو اسکول انتظامیہ فوری ایس ایم ایس اور فون کال کے ذریعہ مطلع کرتا ہے جبکہ فیس کے معاملہ میں والدین یا سرپرستوں کو مطلع کرنے کے بجائے راست طالب علم کے ہاتھ میں نوٹس تھما دی جاتی ہے اور اگر طالب علم فراموش کر جائے تو کلاس کے باہر ٹھہرانے اور رپورٹ جاری نہ کرنے جیسی سزاء کے ذریعہ انہیں رسواء کیا جاتا ہے جو کہ بند کیا جانا چاہئے۔ اسکول کے ذمہ داروںسے اس سلسلہ میں دریافت کئے جانے پر یہ کہا جا تا ہے کہ ان کے صدر دفتر سے جو احکام موصول ہوتے ہیں اس پر عمل کرنا ان کی مجبوری ہے اسی لئے وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے اگر اس مسئلہ کی یکسوئی کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں توایسی صورت میں کارپوریٹ تعلیمی اداروں کی لوٹ کھسوٹ پر کوئی روک لگائی جانا انتہائی مشکل ہوتا چلا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت پالیسی واضح کرتے ہوئے کاروائی کی کھلی چھوٹ فراہم کرتی ہے توایسی صورت میں ان کے محکمہ کے عہدیدار کاروائی کیلئے تیار ہیں لیکن کارپوریٹ تعلیمی ادارو ںمیں سیاسی سرمایہ کاری کے سبب ان اداروں کے خلاف کاروائی میں سیاسی رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT