Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں فیس بے قاعدگی کا شاخسانہ

خانگی اسکولس میں فیس بے قاعدگی کا شاخسانہ

162 اسکولس کو نوٹس ، محکمہ تعلیمات کا سخت گیر موقف
حیدرآباد۔6اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے خانگی اسکولوں میںفیس کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں جاری اقدامات کے طور پر آج محکمہ تعلیم کی جانب سے 162 اسکولوں کو آمدنی و اخراجات کے ادخال کی قطعی نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 15اکٹوبر سے قبل گذشتہ تین برسوں کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مسٹر جی کشن کمشنر محکمہ تعلیم نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں موجود خانگی اسکولوں کو عدالتی احکام کے بعد یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ اپنے گذشتہ تین برسوں کے آمدنی و اخراجات کی تفصیل پیش کریں تاکہ ریاست کے خانگی اسکولوں میں فیس کوباقاعدہ بنانے کا عمل تیز کیا جاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ تاحال 162خانگی اسکول انتظامیہ کی جانب سے یہ تختۂ حساب پیش نہیں کیا گیا جس کے سبب انہیں آج قطعی نوٹس جاری کرتے ہوئے 15اکٹوبر سے قبل تمام ریکارڈس پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور ایسا نہ کرنے والے خانگی اسکول انتظامیہ کے خلاف محکمہ کی جانب سے محکمہ جاتی کاروائی کے علاوہ عدالتی کاروائی کو بھی ممکن بنایا جائے گا۔ تلنگانہ میں خانگی اسکولوں کی جانب سے من مانی فیس کی وصولی کے خلاف متعدد نمائندگیوں کے بعد اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے اسکولو ںمیں فیس کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں احکامات جاری کرنے کی درخواست داخل کی تھی جس پر عدالت نے محکمہ تعلیم کو ہدایت دی۔حکومت نے ریاست کے خانگی اسکولو ںمیں فیس کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں تروپتی راؤ کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی ہے اور اس کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر مستقبل میں فیس کے تعین کے سلسلہ میں احکامات جاری کئے جائیں گے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے فیس کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے تمام خانگی اسکولوں سے محکمہ تعلیم اور تروپتی راؤ کمیٹی نے تمام اسکولوں کے سال 2015-16‘2016-17 کی آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی لئے تمام اسکولوں سے تفصیلات وصول کی جارہی ہیں۔بعض خانگی اسکولوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے ریکارڈس اکٹھا کرنے میں انہیں دشواریوں کا سامنا ہے جبکہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں اسکولوں کو تمام حسابات ہر سال پیش کرنا لازمی ہے اور اب جو آمدنی و خرچ کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیںان کا اب تک داخل کردہ حسابات کو رکھتے ہوئے جائزہ بھی لیا جائے گااور خامیوں کی صورت میں کاروائی بھی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT